27.9 C
Islamabad
اتوار, اگست 31, 2025
ہومقومی خبریںمون سون 2025: گلیشیئر پگھلائو اور شہری سیلاب کا خطرہ ہے، پاکستان...

مون سون 2025: گلیشیئر پگھلائو اور شہری سیلاب کا خطرہ ہے، پاکستان کو پیشگی حفاظتی انتظامات کرنا ہوں گے، ماہرین کی گول میز مباحثہ میں گفتگو

- Advertisement -

اسلام آباد۔25اگست (اے پی پی):ماہرین نے کہا ہے کہ مون سون سیزن 2025 میں ریکارڈ بارشیں، گلیشیئرکے پگھلائو اور شہری سیلاب نے پاکستان کی شدید ماحولیاتی حساسیت کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے، قدرتی آفات ماحولیاتی بنیاد پر انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہیں جو ہزاروں افراد کی زندگیوں، کھیتوں اور بنیادی سہولیات کو متاثر کر رہی ہیں،انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو کلائمیٹ ریزیلینٹ انفراسٹرکچر، پانی کے ذخائر، پیشگی ہنگامی منصوبہ بندی اور صنفی بنیادوں پر حساس ریلیف اقدامات کی فوری ضرورت ہے تاکہ سیلاب، گلیشیئر جھیلوں کی طغیانی اور شہری پانی کی نکاسی کے خطرات سے نمٹا جا سکے، 2025 کا مون سون سیزن اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اگرچہ عالمی کاربن اخراج میں کم حصہ ڈالتا ہے مگرما حولیاتی لحاظ سے دنیا کے سب سے زیادہ حساس ممالک میں شامل ہے۔ ان خیالات کا اظہار ماہرین نے یہاں پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی ) کے زیر اہتمام پاکستان میں غیرمعمولی مون سون کے اثرات: ماحولیاتی انتہائیت اور انسانی مسائل کے موضوع پر ایک آن لائن رائونڈ ٹیبل کانفرنس کے دوران کیا۔ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر شفقت منیر نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر 2025 کے لئے نیشنل کنٹیجنسی پلان اور نیشنل مون سون کنٹیجنسی پلان تیار کیا ہے جو پاکستان میں ماحولیاتی بحران کے پیش نظر پانی کے انتظام، ہنگامی تیاری اور کمیونٹی پر مبنی ردعمل کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شمالی خیبر پختونخوا کے آٹھ سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں سیلاب نے شدید انسانی بحران پیدا کر دیا ہے۔ کئی علاقے اب بھی ناقابل رسائی ہیں، دکانیں بند ہیں اور مقامی فلاحی ادارے اہم خلا ءپر کر رہے ہیں۔ انہوں نے قدرتی آفات کے بارے میں رویے میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ردعمل میں پیشگی تیاری کی کمی نمایاں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک فیصد سے کم کاربن اخراج میں حصہ ڈالتا ہے مگر دنیا کے 10 سب سے زیادہ ماحولیاتی لحاظ سے حساس ممالک میں شامل ہے، یہ اب محض ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ ماحولیاتی بنیاد پر انسانی بحران ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر اور سینئر موسمیاتی ماہرڈاکٹر شہزادہ عدنان نے اپنے مرکزی خطاب میں غیر معمولی موسمی رجحانات کی وضاحت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ شمال مشرقی پنجاب اور کشمیر میں معمول سے زیادہ بارش (13فیصد) اور جولائی تا ستمبر درجہ حرارت میں 6–7 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ، گلیشیئر کے ر پگھلاو کو تیز کر رہا ہے اور گ جھیلوں کی طغیانی کا خطرہ بڑھا رہا ہے۔

- Advertisement -

چیئرپرسن اور ایسوسی ایٹ پروفیسر، شعبہ ماحولیات، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ڈاکٹر صوفیہ خالد نے کہا کہ پاکستان کی سب سے بڑی کمزوری تیاری کی کمی اور کمیونٹی ڈرلز کی غیر موجودگی ہے۔این ڈی ایم اے کی بار بار وارننگز کے باوجود، لوگ اکثر الرٹس کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ سیلابی علاقوں کی کمیونٹی کو محفوظ نکاسی کے مقامات، ہنگامی رابطہ نمبرز اور ڈرلز کی تربیت دی جانی چاہئے،پیشگی تیاری جانیں بچا سکتی ہے۔ لیکچرار، شعبہ اقتصادیات و فنانس، بین الاقوامی ادارہ برائے اسلامی معیشت (IIIE) کی ڈاکٹر اندلیب کوثرنے موسمی آفات کے صنفی پہلو پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ سیلاب اور ماحولیاتی جھٹکے خواتین، بچوں اور اقلیتوں کو غیر متناسب متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے مون سون 2025 کوماحولیاتی بنیاد پر انسانی بحران قرار دیتے ہوئے عالمی سطح پر ماحولیاتی انصاف اور مقامی سطح پر شمولیتی حکمرانی پر زور دیا۔ صدر الخدمت فائوونڈیشن ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے 2010، 2022 اور 2025 کے سیلابوں میں این جی او کے تجربات سے مستفید ہو کر چھوٹے ڈیمز اور پانی کے ذخائر کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بغیر نگرانی کے جنگلات کی کٹائی اور دریائو ں کے کناروں پر تعمیرات سیلاب کے نقصان کو بڑھا رہی ہیں۔

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں