22.6 C
Islamabad
پیر, ستمبر 1, 2025
ہومقومی خبریںعدالتوں میں زیر التواء مقدمات نصف، ایک ارب سے زائد جرمانے، 40...

عدالتوں میں زیر التواء مقدمات نصف، ایک ارب سے زائد جرمانے، 40 کروڑ کی ریکوری :کمپٹیشن کمیشن کی سینیٹ قائمہ کمیٹی کو بریفنگ

- Advertisement -

اسلام آباد۔28اگست (اے پی پی):سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس جمعرات کو منعقد ہوا جس میں کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین سی سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کمیشن نے گزشتہ سال عدالتوں میں فعال پیروی کے نتیجے میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 567 سے کم کر کے 280 کر دی ہے۔ اسی عرصے میں عدالتوں کے فیصلوں کے ذریعے 41 کروڑ روپے کے جرمانے ریکور کیے گئے جبکہ کارٹلز کے خلاف 14 فیصلے سنائے گئے جن کے تحت ایک ارب روپے سے زائد کے جرمانے عائد ہوئے۔ کمیشن نے کمیٹی کو مزید بتایا کہ کارٹلز اور اجارہ داری کے غلط استعمال کی 20 جبکہ گمراہ کن مارکیٹنگ کی 18 انکوائریاں مکمل کی گئیں۔ مارکیٹ انٹیلی جنس یونٹ نے 193 ممکنہ کیسز کی نشاندہی کی۔

علاوہ ازیں مرجر اینڈ ایکوزیشن کی 117 منظوریوں سے 29 ارب روپے کی غیر ملکی سرمایہ کاری پاکستان میں آئی۔کمیٹی نے سیکٹری قانون کو ہدایت کی کہ عدالتوں میں زیر التواء کمپٹیشن کمیشن کے مقدمات کی جلد سماعت کے لئے کمیشن کے ساتھ تعاون کریں۔ سیکرٹری قانون راجہ نعیم نے کمیٹی کو بتایا کہ کمیشن کے سپریم کورٹ میں زیر سماعت 200 مقدمات میں سے 167 مقدمات جن میں کمپٹیشن کمیشن کے دائرہ کار کو چیلنچ کیا گیا ہے، سپریم کورٹ نے کلب کر کے آئینی بینچ کو بھجوا دیا ہے اور امید ہے کہ اس مقدمے کی سماعت ستمبر میں ہو جائے گی۔ کمیٹی کے اراکین نے کمپٹیشن کمیشن کے سینیٹ اور شوگر کے سیکٹر میں کارٹلائزیشن کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت کی۔ کمیٹی نے کمیشن کی مکمل حمایت کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ وہ سی سی پی کے ساتھ کھڑی ہے۔

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں