اسلام آباد۔17ستمبر (اے پی پی):پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہائوس میں کمیٹی کے کنوینر سید نوید قمر کی زیر صدارت ہوا ۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان سمیت متعلقہ سرکاری اداروں کے افسران نے شرکت کی ۔ اجلاس میں قومی ثقافت اور ورثہ ڈویژن کے 17-2016 اور18-2017 کے زیر التوا آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا ۔ آڈٹ حکام کی سفارش پر بعض اعتراضات …
پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس
اسلام آباد۔17ستمبر (اے پی پی):پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہائوس میں کمیٹی کے کنوینر سید نوید قمر کی زیر صدارت ہوا ۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان سمیت متعلقہ سرکاری اداروں کے افسران نے شرکت کی ۔ اجلاس میں قومی ثقافت اور ورثہ ڈویژن کے 17-2016 اور18-2017 کے زیر التوا آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا ۔
آڈٹ حکام کی سفارش پر بعض اعتراضات پی اے سی نے نمٹا دیئے۔ اقبال اکیڈمی لاہور میں 79 ملین سے زائد لاگت سے منظوری کے بغیر آئی ٹی ونگ قائم کرنے کے ثوالے سےایک آڈٹ اعتراض کا جائزہ لیتے ہوئے وزارت کے سیکرٹری نے بتایا کہ اقبال اکیڈمی لاہور کے اس آڈٹ اعتراض کا تعلق دو افراد سے تھا اب صرف نعمان چشتی نامی شخص رہ گیا ہے ۔
اس کے خلاف انکوائری کمیٹی کی رپورٹ آگئی ہے ۔ کمیٹی کے کنوینر سید نوید قمر نے کہا کہ چار سالہ پرانا معاملہ ہے اس کے خلاف کاروائی یونی چاہئے۔ اگر کوئی ریٹائر بھی ہو گیا یے تو وہ پنشن تو لیتا ہے اس لئے کاروائی کی جا سکتی ہے ۔ کاروائی میں تاخیر نہیں ہونی چاہیئے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ 15 دنوں میں خلاف کاروائی کرکے پی اے سی اور آڈٹ کو رپورٹ پیش کی جائے ۔
پی اے سی نے اس نوعیت کے دیگر اعتراضات بھی کلب کر کے وہی کاروائی کرنے کی ہدایت کی ۔ اقبال اکیڈمی لاہور کے ملازمین کو وفاقی حکومت کی ہدایات کے برعکس میڈیکل الائونس کی مد میں زائد ادئیگی کرنے کے معاملے پر سیکرٹری نے کہا کہ بنیادی تنخواہ کے 20 فیصد کے حساب سے میڈیکل الائونس دیا گیا جو فنانس کی ہدایت کے بر عکس ہے ۔ رقم 18 ملین سے زائد ہے ۔ پی اے سی اس کو فنانس ڈویژن سے رائے لے کر ریگولرائز کر سکتی ہے ۔سید نوید قمر نے کہا کہ فنانس ڈویژن تو اس کی اجازت کبھی بھی نہیں دے گا ۔ ملازمین سے کہا جائے کہ یہ رقم ریگو لرائز نہیں ہو سکتی یہ رقم ان سے ریکور کی جا سکتی ہے ۔
آڈٹ حکام نے بتایا کہ کہ پی این سی اے نے بغیر اشتہار کنسلٹنٹس کی بھرتیاں کیں۔ پی این سی اے کا کہنا تھا کہ ان کو افرادی قوت کی کمی تھی۔ اس ضرورت کے تحت یہ بھرتیاں کی گئیں ۔ سیکرٹری نے کہا کہ آرٹسٹ رکھنے تھے اس لئے اشتہار نہیں دیا گیا ۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا ۔ پی اے سی کو بتایا گیا کہ یہ صرف ایک مرتبہ 2017 سے 2019 کے دوران ہوا ہے اس کے بعد ایسا نہیں ہوا ۔
سید نوید قمر نے کہا کہ پیپرا رولز بھی تو آپ ہی بناتے ہیں ۔ پی اے سی نے اس معاملہ کی 15 دنوں میں انکوئری کرکے ڈی اے سی کی سطح پر نمٹانے کی ہدایت کی ۔ پی این سی اے کی جانب نے خلاف قواعد 45 ملین سے زائد رقم اپنے پاس رکھنے کے معاملہ پر پی اے سی نے ہدایت کی کہ ایک ہفتہ میں لا ڈویژن اور فنانس سے رائے لے کر ایک ماہ کے اندر اس کو نمٹا کر رپورٹ پیش کی جائے ۔









