اسلام آباد۔19ستمبر (اے پی پی):پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی)کے چیئرمین ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے ویانا میں جاری 69ویں آئی اے ای اے جنرل کانفرنس کے سائیڈ ایونٹ میں پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) کے حصول کے لئے تعلیم اور مسلسل سیکھنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے جوہری سائنس اور ٹیکنالوجی میں …
چیئرمین پی اے ای سی ڈاکٹر راجہ علی رضا انور کا ویانا میں جاری 69ویں آئی اے ای اے جنرل کانفرنس میں ایس ڈی جیز کے حصول کے لئے تعلیم کی اہمیت پر زور

مزید خبریں
اسلام آباد۔19ستمبر (اے پی پی):پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی)کے چیئرمین ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے ویانا میں جاری 69ویں آئی اے ای اے جنرل کانفرنس کے سائیڈ ایونٹ میں پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) کے حصول کے لئے تعلیم اور مسلسل سیکھنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے جوہری سائنس اور ٹیکنالوجی میں تحقیق، تعلیم اور تربیت کے ذریعے انسانی وسائل کی ترقی کے لئے کوشاں ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کو ماحولیاتی آلودگی، موسمیاتی تبدیلی، خوراک اور توانائی کی قلت اور صحت کے مسائل جیسے چیلنجز کا سامنا ہے جن کے لئے سائنسی بنیادوں پر حل تلاش کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم ان مسائل کے حل اور جوہری ٹیکنالوجی کے محفوظ استعمال کے لئے بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔چیئرمین پی اے ای سی نے بتایا کہ جوہری ٹیکنالوجی صحت، صاف توانائی، خوراک، پانی، تعلیم اور ماحولیاتی تحفظ جیسے شعبوں میں پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں براہ راست مدد دیتی ہے۔انہوں نے PIEAS، NIAB، NIBGE جیسے اداروں کی خدمات کو سراہا جو جوہری ٹیکنالوجی، زراعت، بائیوٹیکنالوجی اور تعلیم کے میدان میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں 20 کینسر ہسپتال قائم کئے گئے ہیں جو نہ صرف علاج فراہم کرتے ہیں بلکہ تربیتی مراکز کے طور پر بھی کام کرتے ہیں، توانائی کے شعبے میں KINPOE اور CHASCENT جیسے ادارے جوہری بجلی گھروں کے لئے ماہر افرادی قوت تیار کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے جوہری تحفظ و سلامتی کے لئے بھی مؤثر اقدامات کئے ہیں جن میں PCENS اور NISAS جیسے ادارے نمایاں ہیں۔
انہوں نے آئی اے ای اے کے تعاون پر شکریہ ادا کیا اور اعلان کیا کہ پاکستان PIEAS میں 2025-26 کے لئے آئی اے ای اے رکن ممالک کے طلبہ کو 20 مکمل سکالرشپس دے گا جن میں 5 وظائف صرف خواتین کے لئے مختص ہوں گے۔انہوں نے تمام رکن ممالک کو ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی اور کہا کہ پاکستان عالمی بھلائی کے لئے اپنا تجربہ اور وسائل شیئر کرنے کے لئے تیار ہے۔








