اسلام آباد۔23ستمبر (اے پی پی):ستمبر 1965 کی جنگ کے 23ویں روزجنگ بندی کے اطلاق سے قبل بھارتی افواج کی اپنے کھوئے ہوئے علاقے واپس حاصل کرنے کی کوشش ناکام رہی ۔تفصیلات کے مطابق سیالکوٹ اور جموں سیکٹر میں پاکستانی افواج نے اپنی برتری برقرار رکھی اور فضائیہ کی مدد سے دشمن کی حرکت کو بالکل محدود کر دیا۔واہگہ اور اٹاری سیکٹر میں بھارتی افواج نے مایوسی کے عالم میں آخری …
ستمبر 1965 کی جنگ کا 23واں روز، سیز فائر سے قبل بھارتی افواج کی اپنے کھوئے علاقے واپس حاصل کرنے کی کوشش ناکام رہی

مزید خبریں
اسلام آباد۔23ستمبر (اے پی پی):ستمبر 1965 کی جنگ کے 23ویں روزجنگ بندی کے اطلاق سے قبل بھارتی افواج کی اپنے کھوئے ہوئے علاقے واپس حاصل کرنے کی کوشش ناکام رہی ۔تفصیلات کے مطابق سیالکوٹ اور جموں سیکٹر میں پاکستانی افواج نے اپنی برتری برقرار رکھی اور فضائیہ کی مدد سے دشمن کی حرکت کو بالکل محدود کر دیا۔واہگہ اور اٹاری سیکٹر میں بھارتی افواج نے مایوسی کے عالم میں آخری مرتبہ حملہ کیا لیکن منہ کی کھائی۔
کھیم کرن سیکٹر میں بھارتی افواج نے دوبارہ ایک پورے ڈویژن سے حملہ کیا مگر اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔راجستھان سیکٹر میں پاکستانی افواج نے ڈالی پر قبضہ کرنے کی بھارتی کوشش کو نا کام بنایا،اس حملے میں پاکستانی افواج نے 97 بھارتی فوجیوں کو قیدی بنایا جن میں 5 آفیسرز بھی شامل تھے۔پاکستانی فوج نےصرف 24 گھنٹوں میں 80 سے زائد بھارتی سپاہیوں کو واصلِ جہنم کیا۔
پاکستان نیوی نے بھارتی حملہ آور فریگیٹ کو تباہ کر دیا۔واہگہ اٹاری سیکٹر میں بھاری اسلحہ اور گولہ بارود لے جانے والے ایک بھارتی قافلے پر پاک فضائیہ نے حملہ کر کے اسے نیست و نابود کر دیا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر ایک قرار داد منظور کی جس میں کہا گیا کہ ادارے کی گزشتہ دو قراردادوں پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ، اب دونوں ممالک سے غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا۔ پاکستان اور بھارت نے اس جنگ بندی کے مطالبے کو تسلیم کیا۔ 23 ستمبر کو جنگ بندی کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔








