اسلام آباد ۔ 3 اگست (اے پی پی) جمعیت علماءاسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ملک میں ایک نئی فضاءبنائی جا رہی ہے کہ آمریت جمہوریت سے بہتر ہے، ملک میں صاف ستھری اور سنجیدہ سیاست ہونی چاہئے، ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کی سیاست کا خاتمہ ہونا چاہئے، جمعیت علماءاسلام ملک کے آئین، پارلیمنٹ اور جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے، ہمیں اپنے آنے والے …
جمعیت علماءاسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 3 اگست (اے پی پی) جمعیت علماءاسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ملک میں ایک نئی فضاءبنائی جا رہی ہے کہ آمریت جمہوریت سے بہتر ہے، ملک میں صاف ستھری اور سنجیدہ سیاست ہونی چاہئے، ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کی سیاست کا خاتمہ ہونا چاہئے، جمعیت علماءاسلام ملک کے آئین، پارلیمنٹ اور جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے، ہمیں اپنے آنے والے مستقبل کے بارے میںسوچنا ہے، ہمارا سیاسی ماحول اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو گیا ہے، ہمیں سوچنا ہے کہ ملک کو کیسے بحران سے نکالیں، یورپ اور امریکہ میں ایک پڑوسی ملک دوسرے پڑوسی کو غلام یا فتح کرنے کی کوشش نہیں کر رہا، ملک میں وحدت چاہئے، ہمیں بحرانوں کا شکار بنایا جا رہا ہے۔ وہ جمعرات کو یہاں اسلام آباد میں گفتگو کر رہے تھے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم ایک نئے دور کی طرف جا رہے ہیں، ایک دوسرے کو چور کہنے سے کونسا سیاسی کلچر تخلیق ہو رہا ہے، عوام کے منتخب نمائندے ایک دوسرے کو چور کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میںآج بھی غیر ملکی فوج موجود ہے، دنیا نے کہا کہ امریکہ جس الزام پر عراق میںگیا وہاں ایسا کچھ نہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پانامہ سے مسئلہ اڑا پاکستان کی پوری سیاست پانامہ کی نذر ہو گئی۔








