اسلام آباد، اے پی او انٹرنیشنل ورکشاپ کا آغاز، ڈیجیٹل تبدیلی کے ذریعے پیداواریت بڑھانے کے طریقوں بارے تبادلہ خیال کیا جا ئےگا

اسلام آباد۔6اکتوبر (اے پی پی):نیشنل پروڈکٹیویٹی آرگنائزیشن (این پی او)پاکستان نے ایشین پروڈکٹیویٹی آرگنائزیشن (اے پی او)جاپان کے تعاون سے پیر کو اسلام آباد میں "ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے پیداواریت کو فروغ دینے" کے موضوع پر انٹرنیشنل ورکشاپ کا باضابطہ افتتاح کیا،یہ چار روزہ ورکشاپ 6 سے 9 اکتوبر 2025 تک جاری رہے گی جس میں ایشیا پیسیفک خطے کے ماہرین، پالیسی سازوں اور پریکٹیشنرز کی شرکت سے ڈیجیٹل تبدیلی کے …

اسلام آباد۔6اکتوبر (اے پی پی):نیشنل پروڈکٹیویٹی آرگنائزیشن (این پی او)پاکستان نے ایشین پروڈکٹیویٹی آرگنائزیشن (اے پی او)جاپان کے تعاون سے پیر کو اسلام آباد میں "ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے پیداواریت کو فروغ دینے” کے موضوع پر انٹرنیشنل ورکشاپ کا باضابطہ افتتاح کیا،یہ چار روزہ ورکشاپ 6 سے 9 اکتوبر 2025 تک جاری رہے گی جس میں ایشیا پیسیفک خطے کے ماہرین، پالیسی سازوں اور پریکٹیشنرز کی شرکت سے ڈیجیٹل تبدیلی کے ذریعے پیداواریت بڑھانے کے طریقوں بارے تبادلہ خیال کیا جا ئےگا۔ورکشاپ میں بنگلہ دیش، کمبوڈیا، فجی، ملائیشیا، منگولیا، نیپال، فلپائن، سری لنکا، تھائی لینڈ، ترکی، ویتنام اور پاکستان کے وفود اور 19 دیگر غیر ملکی ماہرین شریک ہیں۔

سی ای او این پی او محمد عالمگیر چودھری نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن آج کے دور میں پیداواری صلاحیت کے کلیدی محرک کے طور پر سامنے آئی ہے تاہم، انہوں نے سائبر سکیورٹی، بنیادی ڈھانچے کی کمزوریوں اور ماحولیاتی پائیداری جیسے چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہوئے مؤثر پالیسی فریم ورک اور باہمی تعاون پر زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل تبدیلی کے ثمرات کو معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچانے کے لیے مربوط کوششیں اور جامع اختراعات ناگزیر ہیں۔ورکشاپ میں اے پی او ٹوکیو کے پروگرام آفیسر تومویوکی یامادا اور بین الاقوامی ماہرین کے ایک ممتاز پینل نے شرکت کی جن میں ڈاکٹر سوریا سلیمان (انوویشن پرووکیٹر، الفا کیٹالسٹ، ملائیشیا)یوچی اوٹا (پارٹنر، وائی سی پی ویتنام کمپنی لمیٹڈ، ویتنام)، سید احمد (بانی و سی ای او، ڈی پی ایل پرائیویٹ لمیٹڈ، پاکستان)شامل تھے۔

یامادا نے بتایا کہ شرکا ورکشاپ کے دوران ڈیجیٹل ٹولز، بالخصوص مصنوعی ذہانت ( اے آئی ) کے مؤثر استعمال پر مبنی عملی بصیرت اور کیس سٹڈیز سیکھیں گے۔اہم موضوعات میں ڈیجیٹل پالیسیز، ابھرتی ٹیکنالوجیز، تنظیمی تبدیلی کا انتظام اور بہترین عالمی طریقۂ کار شامل ہیں ۔ورکشاپ کا مقصد شرکا کو ڈیجیٹلائزیشن کے عملی تصور سے روشناس کرانا اور انہیں ڈیجیٹل تبدیلی کے منصوبوں کی منصوبہ بندی اور نفاذ کی مہارت فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنی تنظیموں میں ڈیجیٹل فرسٹ اور پیداواریت پر مبنی ثقافت کو فروغ دے سکیں۔

مہمانِ خصوصی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگرچہ ڈیجیٹلائزیشن بے پناہ مواقع فراہم کرتی ہے لیکن سائبر سکیورٹی، پائیداری اور تیاری میں تفاوت جیسے چیلنجز پر قابو پانے کے لیے حکومتوں اور اداروں کو بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری، تعلیمی اصلاحات اور مضبوط ریگولیٹری فریم ورک پر توجہ دینا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ یہ ورکشاپ مؤثر پالیسی ردعمل اور عملی حکمت عملیوں کے تبادلے کے لیے اہم پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔