تہران ۔7اکتوبر (اے پی پی):ایران کی ایک عدالت نےایران،اسرائیل جنگ کے دوران جاسوسی کے الزام میں گرفتار فرانسیسی جرمن شہری لینارٹ مونٹرلوس کو بری کرنے کا اعلان کیا۔العربیہ کے مطابق یہ فیصلہ ایران کے اس اعلان کے بعد کیا گیا ہے کہ اسے فرانس میں گرفتار ایک ایرانی خاتون کی رہائی کے بدلے ایک فرانسیسی جوڑے کی جلد رہائی کی امید ہے۔ یہ جوڑا 2022 سے تہران میں زیر حراست …
ایران نے فرانسیسی جرمن شہری کو جاسوسی کے الزام سے بری کر دیا
تہران ۔7اکتوبر (اے پی پی):ایران کی ایک عدالت نےایران،اسرائیل جنگ کے دوران جاسوسی کے الزام میں گرفتار فرانسیسی جرمن شہری لینارٹ مونٹرلوس کو بری کرنے کا اعلان کیا۔العربیہ کے مطابق یہ فیصلہ ایران کے اس اعلان کے بعد کیا گیا ہے کہ اسے فرانس میں گرفتار ایک ایرانی خاتون کی رہائی کے بدلے ایک فرانسیسی جوڑے کی جلد رہائی کی امید ہے۔
یہ جوڑا 2022 سے تہران میں زیر حراست ہے۔انیس سالہ مونٹرلوس کو 16 جون کو ایران-اسرائیل جنگ کے تیسرے دن جنوبی شہر بندر عباس سے گرفتار کیا گیا تھا۔اس نوجوان کے خلاف الزامات باضابطہ طور پر کبھی ظاہر نہیں کیے گئے جو پورے ایران میں یورپ سے ایشیا کے بائیک ٹرپ پر اکیلے سائیکل چلا رہا تھا۔
مونٹرلوس کے اہلِ خانہ نے یہ دلیل دیتے ہوئے کہ وہ "ہر طرح سے بے قصور” ہے، ایرانی حکام سے اسے رہا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔انقلابی عدالت نے قانونی اصولوں اور جرم کے بارے میں شکوک و شبہات کو مدِنظر رکھتے ہوئے ملزم کو بری کرنے کا فیصلہ جاری کیا ہے، عدلیہ کی میزان آن لائن ویب سائٹ نے اطلاع دی اور مزید کہا ہے کہ استغاثہ اس فیصلے پر اعتراض کر سکتا ہے۔دو دیگر فرانسیسی شہری سیسیل کوہلر اور جیک پیرس بھی ایران میں زیر حراست ہیں اور انہیں سزائے موت کا سامنا ہے جن پر اسرائیل کے لیے جاسوسی کا الزام ہے۔
انہیں سات مئی 2022 کو ایک سیاحتی سفر کے آخری دن گرفتار کیا گیا تھا۔وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنی نے صحافیوں کو بتایا کہ ان دو افراد اور محترمہ اسفندیاری کی رہائی کے فیصلے کا متعلقہ حکام جائزہ لے رہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ایک بار ضروری طریقہ کار مکمل ہو جائے تو یہ رہائی جلد ہو جائے گی۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں معاملات الگ الگ نوعیت کے ہیں۔









