اقوام متحدہ ۔7اکتوبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹر ی جنرل انتونیو گوتریش نے خواتین، امن اور سلامتی کے ایجنڈے میں خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کے سالانہ کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اکثر ہم پُرعزم انداز میں ان موضوعات پر بات کرتے ہیں، مگر جب عملی اقدامات کی بات …
اقوام متحدہ کا خواتین، امن اور سلامتی کے ایجنڈے میں خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونے پر اظہار افسوس
اقوام متحدہ ۔7اکتوبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹر ی جنرل انتونیو گوتریش نے خواتین، امن اور سلامتی کے ایجنڈے میں خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کے سالانہ کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اکثر ہم پُرعزم انداز میں ان موضوعات پر بات کرتے ہیں، مگر جب عملی اقدامات کی بات آتی ہے تو نتائج مایوس کن ہوتے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ خواتین اب بھی امن مذاکرات کی میز پر موجود نہیں، جنسی تشدد کی وارداتیں بغیر سزا کے جاری ہیں، اور خواتین امن کارکنان کو وسائل، تحفظ اور پہچان کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ قرارداد 1325 کی منظوری کو 25 سال مکمل ہو چکے ہیں، لیکن اس عرصے میں حاصل ہونے والی کامیابیاں کمزور ہو چکی ہیں اور کئی جگہوں پر حالات مزید بگڑ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں عسکری اخراجات میں اضافہ، مسلح تنازعات کی بڑھتی ہوئی تعداد، اور خواتین و بچیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی درندگی ایک تشویشناک رجحان ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال 676 ملین خواتین ایسے علاقوں میں رہ رہی تھیں جہاں 50 کلومیٹر کے اندر مہلک تنازع جاری تھا، جبکہ لڑکیوں کے خلاف جنسی تشدد میں 35 فیصد اضافہ ہوا۔ بحران زدہ علاقوں میں زچگی کے دوران اموات میں اضافہ، لڑکیوں کی تعلیم سے محرومی، اور خواتین رہنماؤں کے خلاف پرتشدد واقعات عام ہوتے جا رہے ہیں۔
گوتریس نے زور دیا کہ خواتین، امن اور سلامتی کا ایجنڈا صرف وعدوں پر نہیں، بلکہ عملی، قابلِ پیمائش تبدیلی پر مبنی ہونا چاہیے، جس میں خواتین کی امن عمل میں قیادت، متاثرین کو انصاف کی فراہمی، اور سب کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو مزید وعدوں کی نہیں بلکہ ایسے نتائج کی ضرورت ہے جو ان وعدوں کی عکاسی کریں۔









