ملتان۔ 08 اکتوبر (اے پی پی):ڈویژنل انتظامیہ ملتان نے گندم کی کاشت میں اضافے اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات تیز کر دئیے ہیں۔ کمشنر ملتان عامر کریم خاں کی زیر صدارت ڈویژنل زرعی کمیٹی برائے گندم کاشت کا پہلا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈپٹی کمشنرز، ڈائریکٹر زراعت، متعلقہ افسران اور کاشتکاروں نے شرکت کی۔اس موقع پرکمشنر عامر کریم خاں نے اجلاس سے خطاب کرتے …
ملتان ڈویژن میں گندم کی کاشت کا ہدف 13 لاکھ 76 ہزار ایکڑ مقرر،کمشنر کی کھاد ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت

مزید خبریں
ملتان۔ 08 اکتوبر (اے پی پی):ڈویژنل انتظامیہ ملتان نے گندم کی کاشت میں اضافے اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات تیز کر دئیے ہیں۔ کمشنر ملتان عامر کریم خاں کی زیر صدارت ڈویژنل زرعی کمیٹی برائے گندم کاشت کا پہلا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈپٹی کمشنرز، ڈائریکٹر زراعت، متعلقہ افسران اور کاشتکاروں نے شرکت کی۔اس موقع پرکمشنر عامر کریم خاں نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ویژن کے مطابق کسانوں کو معاشی طور پر مستحکم بنانے کے لیے ’’کسان کارڈ‘‘ کا اجراء کر دیا گیا ہے۔ اب نوٹیفائیڈ ڈیلرز سے کسان کارڈ کے ذریعے کھاد، بیج اور دیگر زرعی اجناس خریدی جا سکیں گی۔انہوں نے ہدایت کی کہ ڈپٹی کمشنرز اپنے اضلاع میں فی ایکڑ گندم کی کاشت میں اضافے کی ذاتی نگرانی کریں تاکہ رواں سال 13 لاکھ 76 ہزار ایکڑ رقبے پر گندم کاشت کا مقررہ ہدف حاصل کیا جا سکے۔
کمشنر نے کہا کہ ملتان ڈویژن میں گندم کی کاشت کا آغاز 25 اکتوبر سے کیا جائے گا اور محکمہ زراعت اس حوالے سے عملی اقدامات فوری شروع کرے۔انہوں نے واضح کیا کہ ڈویژن میں کسی قسم کی کھاد یا بیج کی قلت نہیں، پنجاب سیڈ کارپوریشن کے پاس 50 کلو کے 1 لاکھ 29 ہزار 760 بیج کے تھیلے موجود ہیں، جب کہ نائٹروجن کھاد کے 4 لاکھ 88 ہزار 572 اور فاسفورس کھاد کے 4 لاکھ 31 ہزار 654 تھیلے دستیاب ہیں۔کمشنر نے محکمہ زراعت کو ہدایت کی کہ کھاد اور فاسفورس کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ گندم ہماری زراعت کا بنیادی جزو ہے اور اس کی بہتر پیداوار کسان کی خوشحالی اور ملکی معیشت کے استحکام کی ضامن ہے۔
عامر کریم خاں نے کہا کہ محکمہ زراعت کے افسران اور فیلڈ اسٹاف کسانوں سے براہِ راست رابطے میں رہیں اور گندم کی کاشت سے متعلق ان کے مسائل فوری حل کریں۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر وسیم حامد سندھو، ڈائریکٹر زراعت شہزاد صابر اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔








