پاک سعودی تاجر برادری کا دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار

کراچی۔ 10 اکتوبر (اے پی پی):سعودی عرب کے اعلیٰ سرمایہ کاری وفد، جس کی قیادت شہزادہ منصور بن محمد آل سعود نے کی، پاکستان کی نمایاں ملٹی نیشنل اور مقامی بڑی کمپنیوں کے سینئر نمائندوں سے ملاقات کی۔پاک سعودی تاجر برادری نے دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔یہ ملاقات اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آ ئی سی سی آئ) اور پاکستان بزنس …

کراچی۔ 10 اکتوبر (اے پی پی):سعودی عرب کے اعلیٰ سرمایہ کاری وفد، جس کی قیادت شہزادہ منصور بن محمد آل سعود نے کی، پاکستان کی نمایاں ملٹی نیشنل اور مقامی بڑی کمپنیوں کے سینئر نمائندوں سے ملاقات کی۔پاک سعودی تاجر برادری نے دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔یہ ملاقات اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آ ئی سی سی آئ) اور پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) کے زیرِ اہتمام او آئی سی سی آئی ہیڈ آفس میں منعقد ہوئی۔اجلاس میں دونوں برادر ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے اور سرمایہ کاری و تجارت کے نئے مواقع کی نشاندہی پر غور کیا گیا۔

وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ویڈیو لنک سے خطاب کرتے ہوئے وفد کا خیرمقدم کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت اب استحکام حاصل کرچکی ہے اور طویل المدتی استحکام کے لیے اصلاحات کے عمل سے گزر رہی ہے۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان شراکت داری ایک "نئے اسٹریٹجک مرحلے” میں داخل ہوچکی ہے جسے اب گہرے اقتصادی تعاون اور مشترکہ خوشحالی میں بدلنا ہوگا۔شہزادہ منصور بن محمد سعد آل سعود نے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ مملکت کے گہرے اور سٹریٹجک تعلقات کی توثیق کی اور اس بات پر زور دیا کہ اسے اب پائیدار اقتصادی روابط اور باہمی طور پر فائدہ مند سرمایہ کاری کے ذریعہ مزید مضبوط کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے دورہ پاکستان کے دوسرے مرحلہ کو مثبت اور تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ و گورنر سندھ اور کاروباری و تجارتی نمائندوں سے ملاقاتوں نے معاشی تعاون کو مزید فروغ دینے اور مستقبل میں سرمایہ کاری کی راہ ہموار کی۔وزیر اعظم شہباز شریف کے حالیہ دورہ سعودی عرب اور مختلف شعبوں میں متعدد معاہدوں پر دستخط کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس دورے کے دوران ہم دوطرفہ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں۔دونوں ممالک کے بہتر مستقبل کے لیے باہمی تعلقات کو تقویت دینے کے وسیع امکانات پر زور دیتے ہوئے شہزادہ منصور نے کہا کہ ہم یہاں صرف کاروبار کرنے نہیں بلکہ دوستی اور بھائی چارے کو فروغ دینے کے لیے آئے ہیں۔

سعودی عرب اور پاکستان کے عوام ایک دوسرے کے لیے محبت کا جذبہ رکھتے ہیں اور سعودی عرب پاکستان میں معاشی استحکام چاہتا ہے، انہوں نے کہا کہ ان معاہدوں سے دوستانہ تعلقات اور برادرانہ تعلقات میں اضافہ ہوگا۔او آئی سی سی آئی کے سیکرٹری جنرل ایم عبدالعلیم نے کہا کہ او آئی سی سی آئی جو 200 سے زائد ملٹی نیشنل کمپنیوں کی نمائندگی کرتا ہے، پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں اور بدلتی ہوئی معیشت کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔

سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی دلچسپی پاکستان کے اصلاحاتی عمل اور سرمایہ کاری کے امکانات پر عالمی اعتماد کی بحالی کو ظاہر کرتی ہے۔پی بی سی کی چیئرپرسن ڈاکٹر زیلاف منیر نے وفد کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں اقتصادی ماحول بہتر ہو رہا ہے، زرمبادلہ کی شرح مستحکم ہے اور کاروباری اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی بحالی تیزی سے مضبوط ہو رہی ہے، اور سعودی سرمایہ کاری مستحکم ترقی، صنعتی توسیع اور ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے۔

او آئی سی سی آئی کے صدر یوسف حسین نے کہا کہ پاکستان میں کاروباری فضا مثبت ہے اور ملک اپنی برآمدات کو بڑھانے اور نئے منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی شراکت داروں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں اور علاقائی ویلیو چینز کے ذریعہ برآمدات پر مبنی ترقی اور مشترکہ خوشحالی حاصل کی جائے۔پی بی سی کے سی ای او جاوید قریشی نے سرمایہ کاری کے اہم شعبوں اور مواقع کی تفصیلات پیش کیں اور اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئ ایف سی) کے سرمایہ کار دوست اقدامات کو سراہا،جو غیر ملکی شراکت داریوں کے ذریعہ معاشی ترقی میں تیزی لانے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔

سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے پاکستان کی اصلاحاتی کوششوں اور نجی شعبے کے فعال کردار کی تعریف کرتے ہوئے یقین ظاہر کیا کہ یہ دورہ سعودی۔پاکستان اقتصادی تعاون سے نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا،او آئی سی سی آئی اور پی بی سی نے یقین دہانی کرائی کہ ان کے ادارے مقامی و غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ مضبوط تعلقات رکھتے ہیں اور وہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طویل المدتی کاروباری اشتراک کو فروغ دینے کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔