اسلام آباد۔12اکتوبر (اے پی پی):بروشسکی زبان میں بنائی جانے والی پہلی فیچر فلم "ہُن دان: این ایکو آف اے ڈرج" کی خصوصی نمائش اس ویک اینڈ اسلام آباد کلب سنیما میں ہوئی۔اتوار کو جاری پریس ریلیز کے مطابق تقریب میں فلمی شائقین، ثقافتی کارکنوں اور ماحولیاتی تحفظ کے حامیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور اس فلم کی indigenous کہانی، ثقافتی اظہار اور عالمی موضوعات کے امتزاج پر مبنی …
بروشسکی زبان میں بنائی جانے والی پہلی فیچر فلم "ہُن دان: این ایکو آف اے ڈرج” کی خصوصی نمائش

مزید خبریں
اسلام آباد۔12اکتوبر (اے پی پی):بروشسکی زبان میں بنائی جانے والی پہلی فیچر فلم "ہُن دان: این ایکو آف اے ڈرج” کی خصوصی نمائش اس ویک اینڈ اسلام آباد کلب سنیما میں ہوئی۔اتوار کو جاری پریس ریلیز کے مطابق تقریب میں فلمی شائقین، ثقافتی کارکنوں اور ماحولیاتی تحفظ کے حامیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور اس فلم کی indigenous کہانی، ثقافتی اظہار اور عالمی موضوعات کے امتزاج پر مبنی طاقتور سنیما تجربے کو سراہا۔“گلگت بلتستان کے دلکش پس منظر میں فلم ایک گہری ذاتی اور علامتی کہانی بیان کرتی ہےجو بروشو قوم کی روایات، اساطیر اور زبانی ورثے کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ کم مگر مؤثر مکالموں، شعری نوعیت کی سنیماٹوگرافی اور دل میں اتر جانے والی ساؤنڈ ڈیزائن کے ساتھ ہُن دان ایک ایسا ماحول تخلیق کرتی ہے جو مراقبہ نما اور جذباتی طور پر مؤثر ہے۔

فلم کی نمائش ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یونیسکو نے بروشسکی کو ایک خطرے سے دوچار زبان قرار دیا ہے۔ فلم سازوں نے اس فلم کے ذریعے لسانی اور ثقافتی تنوع کے تحفظ میں ایک اہم قدم اٹھایا ہے اور ایک ایسی کمیونٹی کو آواز دی ہے جو مرکزی میڈیا میں کم ہی نمایاں ہوتی ہے۔فلم کے پروڈیوسر کرامت علی نے عالمی سطح پر ماحول اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق مکالمے میں مقامی اور دیسی بیانیوں کی اہمیت پر زور دیا۔
ناظرین نے فلم کی اصل پن اور اس کے طاقتور پیغام کی تعریف کی۔اس موقع پر موجود ایک شرکت کرنے والے نے کہا کہ یہ صرف ایک فلم نہیں یہ ہماری جڑوں اور ماحول سے دوبارہ جڑنے کی پکار ہے۔ایک اور نے کہا کہ بروشسکی زبان کا استعمال ایک ایسا جذباتی رنگ پیدا کرتا ہے جو آج کی فلموں میں شاذونادر ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ یہ ہم سب کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔ہُن دان کے ذریعے پاکستان کی فلم انڈسٹری نے شمولیت اور ماحولیاتی شعور کی سمت میں ایک جرات مندانہ اور ضروری قدم اٹھایا ہے۔








