نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈارنے مستحق اور کمزور شہریوں کو ریلیف کی فراہمی یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ایسے علاقوں میں پٹرول پمپس کیلئے متبال انتظامات کئے جائیں جہاں انٹرنیٹ کی سہولت موجود یا دستیاب نہیں ہے۔
اسحاق ڈار کی زیر صدارت نیشنل اسٹیئرنگ کمیٹی برائے فیول سبسڈی کا اجلاس،وزیراعظم کی خصوصی ریلیف اسکیم پر عملدرآمد کا جائزہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔18ستمبر (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈارنے مستحق اور کمزور شہریوں کو ریلیف کی فراہمی یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ایسے علاقوں میں پٹرول پمپس کیلئے متبال انتظامات کئے جائیں جہاں انٹرنیٹ کی سہولت موجود یا دستیاب نہیں ہے۔ جمعہ کو نائب وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت نیشنل اسٹیئرنگ کمیٹی برائے فیول سبسڈی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیراعظم کی خصوصی ریلیف اسکیم پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں ملک بھر میں اسکیم کے آغاز کے پہلے 48 گھنٹوں کے دوران عوام کی جانب سے موصول ہونے والی آراء کی روشنی میں مزید اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔شہریوں کی آراء کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے موٹر سائیکلوں، تھری وہیلرز اور رکشوں کے لیے دو اقدامات کی منظوری دی ہے،ایک مرتبہ میں کم از کم 5 لیٹر ایندھن خریدنے کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ اب مستحقین کو ہفتہ وار 500 روپے کا ٹوکن ملے گا، جسے کسی بھی مقدار میں ایندھن خریدنے کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔
اس اقدام سے کم مقدار میں ایندھن خریدنے والے شہری بھی اسکیم سے مستفید ہو سکیں گے۔دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے اہلیت کی عمر کی حد 15 سال سے بڑھا کر 20 سال کر دی گئی ہے۔800 سی سی تک کی چار پہیوں والی گاڑیوں کے لیے موجودہ طریقہ کار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ ان گاڑیوں کے لیے ہر 10 دن بعد 10 لیٹر کا ایک ٹوکن جاری ہوگا، جو ماہانہ تین ٹوکن کے برابر ہے۔500 روپے کے ٹوکن کی مکمل رقم صارف کو فراہم کی جائے گی اور پیٹرول پمپس کی جانب سے کسی قسم کی کٹوتی یا سروس چارج وصول نہیں کیا جائے گا۔
کمیٹی نے رجسٹریشن، ٹوکن کے استعمال اور پیٹرول پمپس کو ادائیگیوں کی تکمیل میں ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو ہدایت کی کہ ادائیگیوں کی صورتحال سے متعلق رپورٹس روزانہ دو مرتبہ،صبح 11 بجے اور شام 7 بجےفراہم کی جائیں۔ کسی بھی مسترد شدہ ٹرانزیکشن کی نشاندہی اس کی مخصوص وجہ کے ساتھ کی جائے اور اسے بلا تاخیر درست کیا جائے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے مزید ہدایت کی کہ ایسے علاقوں میں پیٹرول پمپس کے لیے متبادل انتظامات کیے جائیں جہاں انٹرنیٹ کی سہولت محدود یا دستیاب نہیں، جن میں آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور دیگر دور دراز دیہی علاقےشامل ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ اس اسکیم کا مقصد مستحق اور کمزور شہریوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے اور کسی بھی اہل مستحق کو جغرافیائی محلِ وقوع کی وجہ سے اس سہولت سے محروم نہیں ہونا چاہیے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پٹرولیم، اقتصادی امور، اطلاعات و نشریات اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن، وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات، معاون خصوصی وزیراعظم طارق باجوہ، ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان، چیئرمین اوگرا، سیکریٹری پٹرولیم، پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان، اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری اور متعلقہ وفاقی و صوبائی محکموں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔







