پاکستان میں انسداد پولیو کی کوششوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، رواں سال پولیو کیسز کی تعداد کم ہو کر چار رہ گئی ہے جبکہ ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی موجودگی کی شرح بھی 10 فیصد سے نیچے آگئی ہے، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ملک گیر انسداد پولیو مہم کا باضابطہ آغاز کرتے ہوئے وائرس کے مکمل خاتمے تک قومی کوششیں جاری رکھنے کے عزم …
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا ملک گیر انسداد پولیو ویکسینیشن مہم کا باضابطہ آغاز، وائرس کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔18ستمبر (اے پی پی):پاکستان میں انسداد پولیو کی کوششوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، رواں سال پولیو کیسز کی تعداد کم ہو کر چار رہ گئی ہے جبکہ ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی موجودگی کی شرح بھی 10 فیصد سے نیچے آگئی ہے، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ملک گیر انسداد پولیو مہم کا باضابطہ آغاز کرتے ہوئے وائرس کے مکمل خاتمے تک قومی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔2024 ءمیں پولیو کیسز 74 سے کم ہو کر 2026ء میں 4 رہ گئے، ماحولیاتی نگرانی کے نمونوں میں وائرس کی شرح بھی 10 فیصد سے کم ہوگئی۔ یہ پیش رفت وزیراعظم کی کمیٹی برائے نیشنل ٹاسک فورس فار پولیو ایریڈیکیشن کے اجلاس میں سامنے آئی جس کی صدارت وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کی۔
اجلاس میں وفاقی وزیر نے ملک گیر انسداد پولیو ویکسینیشن مہم کا باضابطہ آغاز کرتے ہوئے پولیو وائرس کی مکمل منتقلی روکنے تک قومی کوششیں جاری رکھنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔2026ء میں رپورٹ ہونے والے چار پولیو کیسز میں سے تین جنوبی خیبر پختونخوا میں سامنے آئے ہیں جو ملک کے باقی ماندہ ہائی رسک علاقوں پر مسلسل اور خصوصی توجہ کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔اجلاس میں وفاقی وزیر قومی صحت، ضوابط و رابطہ سید مصطفیٰ کمال، وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو عائشہ رضا فاروق، صوبائی حکومتوں اور وفاقی اکائیوں کے نمائندگان، ترقیاتی شراکت داروں، متعلقہ سرکاری محکموں اور اداروں کے حکام نے شرکت کی۔
عالمی ادارہ صحت، یونیسیف، پاکستان پولیو پلس کمیٹی اور روٹری کے نمائندگان بھی اجلاس میں موجود تھے۔اپنے ابتدائی کلمات میں پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ ایک قومی ذمہ داری ہے جو پاکستان کے بچوں کی صحت، وقار اور مستقبل سے براہ راست جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے ان 120 ممالک میں سے جہاں کبھی پولیو وائرس موجود تھا، 118 ممالک اس مرض کا خاتمہ کرچکے ہیں جبکہ پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ دو ممالک ہیں جہاں پولیو اب بھی وبائی حیثیت سے موجود ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پولیو محض صحت عامہ کا مسئلہ نہیں بلکہ متاثرہ بچوں کی زندگی بھر کی صلاحیتوں اور ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے بھی خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بھی پولیو کیس اس بات کی علامت ہے کہ جب تک وائرس کی گردش جاری ہے، ہر غیر محفوظ بچہ خطرے سے دوچار ہے۔
صفر پولیو کے ہدف کے حصول کے لیے متحدہ قومی کوششوں پر زور دیتے ہوئے پروفیسر احسن اقبال نے والدین بالخصوص مائوں سے اپیل کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر اہل بچے کو پولیو ویکسین کے قطرے پلائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ جب پولیو ورکر آپ کے دروازے پر دستک دے تو اس دستک کو نظرانداز نہ کریں، یہ آپ کے بچے کے مستقبل کی دستک ہے۔ پولیو کے دو قطرے آپ کے بچے کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔انہوں نے علماء کرام، کمیونٹی رہنمائوں اور رائے عامہ پر اثرانداز ہونے والی شخصیات پر زور دیا کہ وہ غلط معلومات کا موثر مقابلہ کریں اور ویکسینیشن کے بارے میں عوامی اعتماد کو مزید مضبوط بنائیں۔ انہوں نے پولیو ورکرز کے خلاف تشدد یا انہیں ہراساں کرنے کے واقعات کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات کو اجتماعی طور پر مسترد کیا جانا چاہیے۔
وفاقی وزیر نے نوجوانوں بالخصوص یونیورسٹی طلبہ سے بھی اپیل کی کہ وہ کمیونٹی آگاہی کی سرگرمیوں میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو زندگی کے پہلے پانچ سالوں کے دوران صحت مند، محفوظ، معاون اور بچوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ضروری ہے کیونکہ ذہنی نشوونما کا بڑا حصہ اسی عرصے میں ہوتا ہے۔وفاقی وزیر قومی صحت، ضوابط و رابطہ سید مصطفیٰ کمال نے پولیو ٹیموں، صوبائی حکومتوں اور فیلڈ میں خدمات انجام دینے والے اہلکاروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ رواں سال چار کیسز کا رپورٹ ہونا اہم پیش رفت ہے تاہم قومی کوششیں اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتیں جب تک پاکستان میں پولیو وائرس کی منتقلی مکمل طور پر صفر نہ ہوجائے۔
ورلڈ بینک کے نمائندے نے پولیو کیسز میں نمایاں کمی کو سراہا جبکہ یونیسیف کے نمائندے نے وفاقی، صوبائی اور ضلعی سطح پر قیادت اور تعاون کی تعریف کی۔ انہوں نے پیر سے شروع ہونے والی آئندہ ملک گیر مہم کو انتہائی خطرے سے دوچار علاقوں پر توجہ مرکوز کرنے اور حاصل ہونے والی پیش رفت کو مزید مستحکم کرنے کا اہم موقع قرار دیا۔ پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ حالیہ نتائج حوصلہ افزاء سمت کی عکاسی کرتے ہیں اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان کو پولیو سے پاک بنانے کے لیے حکومت کے تمام متعلقہ ادارے متحد ہو کر کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پولیو ٹیموں کو ہر بچے تک رسائی کے لیے مکمل سہولیات اور معاونت فراہم کی جائے اور کوئی بھی علاقہ مہم کی رسائی سے باہر نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے فرنٹ لائن پولیو ورکرز کو یقین دلایا کہ حکومت انہیں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں تنہا نہیں چھوڑے گی اور حکومت اور ملک کا سکیورٹی نظام ان کے تحفظ اور معاونت کے لیے بھرپور طریقے سے ان کے ساتھ کھڑا ہوگا۔







