اسلام آباد۔18ستمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ قابلِ دست اندازی جرم کی اطلاع ملتے ہی فوری مقدمہ درج کرنا پولیس کی قانونی ذمہ داری ہے، مقدمہ کے اندراج میں تاخیر کو محض بےقاعدگی قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، تاخیر کے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی اور محکمانہ کارروائی کی جاسکتی ہے۔جسٹس صلاح الدین پنہور کی جانب سے تحریر کئے گئے سات …
قابلِ دست اندازی جرم کی اطلاع پر فوری مقدمہ درج کرنا لازم، تاخیر پر ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔18ستمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ قابلِ دست اندازی جرم کی اطلاع ملتے ہی فوری مقدمہ درج کرنا پولیس کی قانونی ذمہ داری ہے، مقدمہ کے اندراج میں تاخیر کو محض بےقاعدگی قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، تاخیر کے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی اور محکمانہ کارروائی کی جاسکتی ہے۔جسٹس صلاح الدین پنہور کی جانب سے تحریر کئے گئے سات صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ دستاویزات سے مقدمہ کے اندراج میں تاخیر ثابت ہونے پر معاملہ محکمانہ کارروائی کے لئے آئی جی پولیس کو بھی بھیجا جاسکتا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ مقدمہ کے اندراج میں تاخیر پر ٹرائل کورٹ ازخود نوٹس لے کر قانون کے مطابق کارروائی کرسکتی ہے جبکہ مقدمات کے اندراج میں تاخیر پر آئی جی پولیس، ایس پی انویسٹی گیشن اور ڈی پی او کے خلاف بھی کارروائی ہوسکتی ہے۔سپریم کورٹ نے پراسیکیوٹر جنرل سندھ کو ہدایت کی کہ یکم جنوری 2025 سے فیصلے کی تاریخ تک قتل کے مقدمات کی تفصیلات دو ماہ کے اندر ضلع وار فراہم کی جائیں۔ ایسے مقدمات کی تفصیلات بھی فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جن میں 24 گھنٹے سے زائد تاخیر سے مقدمہ درج کیا گیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ آئندہ محمد بخش کیس میں سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل نہ کرنے والے اعلیٰ افسران کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی ہوسکتی ہے۔سپریم کورٹ نے محمد بخش کیس کے فیصلے کا سندھی زبان میں ترجمہ کرکے ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کی بھی ہدایت کردی۔سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ مجرم علی رضا کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سنایا۔ علی رضا پر 2012 میں دادو میں ایک شخص کے قتل کا الزام تھا۔ قتل کے واقعہ کا علم ہونے کے باوجود پولیس نے مقدمہ تاخیر سے درج کیا تھا۔ٹرائل کورٹ نے علی رضا کو عمر قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ ہائیکورٹ نے بھی سزا برقرار رکھی تھی۔







