اسلام آباد ۔21اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے سپر ٹیکس سے متعلق مختلف درخواستوں پر سماعت کل (بدھ) تک ملتوی کر دی۔ منگل کو جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل پانچ رکنی آئینی بنچ نے کیس کی سماعت کی ۔ سماعت کے دوران ٹیکس دہندگان کے وکیل …
سپریم کورٹ ،سپر ٹیکس سے متعلق مختلف درخواستوں پر سماعت بدھ تک ملتوی

مزید خبریں
اسلام آباد ۔21اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے سپر ٹیکس سے متعلق مختلف درخواستوں پر سماعت کل (بدھ) تک ملتوی کر دی۔ منگل کو جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل پانچ رکنی آئینی بنچ نے کیس کی سماعت کی ۔ سماعت کے دوران ٹیکس دہندگان کے وکیل عدنان حیدر نے اپنے دلائل مکمل کیے۔ عدالت نے سماعت کے دوران ایف بی آر حکام کو روسٹرم پر طلب کیا اور استفسار کیا کہ ٹیکس 18 ماہ کی اسٹیٹمنٹ پر لگایا گیا یا 12 ماہ کی بنیاد پر۔
ایف بی آر حکام نے جواب دیا کہ چاہے اسپیشل ٹیکس ہو یا ریگولر، دونوں صورتوں میں ٹیکس 12 ماہ پر ہی لاگو ہوتا ہے۔وکیل عدنان حیدر نے مؤقف اختیار کیا کہ میری کمپنی پر دسمبر 2021 کی اختتامی اسٹیٹمنٹ کے لیے 2022 کا قانون لاگو ہونا چاہیے، لیکن ایف بی آر 2023 کے قانون کے مطابق ٹیکس وصول کر رہا ہے۔اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ آپ خود اپنے موقف میں تبدیلی کر رہے ہیں اور واضح نہیں کر پا رہے کہ ٹیکس کس طرح لاگو ہوتا ہے۔وکیل نے مزید کہا کہ ایف بی آر استثنیٰ دینے میں تو ہچکچاہٹ دکھاتا ہے، لیکن ٹیکس وصولی کے وقت فوراً کارروائی کر لیتا ہے۔
ہمارا موقف ہے کہ اگر چارج لگانا ہو تو اسی سال کا لگایا جائے اور استثنیٰ بھی اسی سال کا دیا جائے۔بعدازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت بدھ تک ملتوی کر دی








