اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):وزارت مذہبی امور کے زیر اہتمام قومی علما و مشائخ کونسل نے اسلام میں محراب و منبر کو اصلاح معاشرہ، دینی تعلیم اور فکری رہنمائی کا بنیادی ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ علمائے کرام اور مشائخ عظام معاشرے کا روشن کردار اور قوم کے فکری و روحانی رہنما ہیں، انتہا پسندی، دہشت گردی اور نفرت آمیز ماحول ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہا …
علما ئے کرام و مشائخ عظام معاشرے کا روشن کردار اور قوم کے فکری و روحانی رہنما ، امت مسلمہ کے اتحاد، قومی یکجہتی اور امن کے حوالے سے اسلامی تعلیمات کو فروغ دیا جائے، قومی علما و مشائخ کونسل کا مشترکہ اعلامیہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):وزارت مذہبی امور کے زیر اہتمام قومی علما و مشائخ کونسل نے اسلام میں محراب و منبر کو اصلاح معاشرہ، دینی تعلیم اور فکری رہنمائی کا بنیادی ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ علمائے کرام اور مشائخ عظام معاشرے کا روشن کردار اور قوم کے فکری و روحانی رہنما ہیں، انتہا پسندی، دہشت گردی اور نفرت آمیز ماحول ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے، یہ ماحول ختم کرنے کےلئے امت مسلمہ کے اتحاد، قومی یکجہتی اور امن کے حوالے سے اسلامی تعلیمات کو فروغ دیا جائے۔
بدھ کو یہاں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف کی زیر صدارت قومی علما و مشائخ کونسل کے دوسرے اجلاس کے بعد وزارت مذہبی امور سے جاری کونسل کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق اسلام میں منبر ومحراب کو اصلاح معاشرہ، تعلیم دین اور فکری رہنمائی کا بنیادی ذریعہ قرار د یتے ہوئے کہا گیا ہے کہ علمائے کرام و مشائخ عظام معاشرے کا روشن کردار اور قوم کے فکری اور روحانی رہنما ہیں، اس وقت وطن عزیز شدید اندرونی اور بیرونی خلفشار اور سازشوں کا شکار ہے، انتہا پسندی، دہشت گردی، نفرت آمیز ماحول ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے،خطبہ حجۃ الوداع میں نبی اکرم ﷺ نے جو اصول اور قواعد بیان کئے وہ رہتی دنیا تک کے لئے روشنی اور ہدایت کا مینار ہیں، ہمیں ان رہنما اصولوں کو بیان کرنے اور ان پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آج کا یہ اجتماع اس امر پر اتفاق رائے کرتا ہے کہ ہمیں درج ذیل اصولوں پر عمل کر کے ملک کی فلاح وبہود اور اس کو امن کا گہوارہ بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔اعلامیے کے مطابق انتہا پسندی، دہشت گردی، نفرت انگیز ماحول کو ختم کرنے کے لئے امت مسلمہ کے اتحاد، قومی یکجہتی اور امن کے حوالے سے اسلامی تعلیمات کو فروغ دیا جائے، آج کا یہ اجتماع بھارت اور افغانستان کی طرف سے وطن عزیز پر جارحیت کی شدید مذمت کرتا ہے،
معرکہ حق میں اللہ کے کرم سے شاندار کامیابی پر وزیراعظم پاکستان، فیلڈر مارشل، مسلح افواج کے سربراہان، نوجوانان اور پوری قوم کو شاندار الفاظ پر خراج تحسین پیش کرتا ہے اور اس امر کا اظہار کرتا ہے کہ پاکستان کے علمائے کرام اور مشائخ عظام اپنی پاک فوج کے شانہ بشانہ ہیں اور ملک وملت کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، آج کا یہ اجتماع اس بات پر اتفاق رائے کرتا ہے کہ نماز دین کا بنیادی جزو ہے، اسی طرح زکوٰۃ اسلامی معاشرے کا حسن ہے، نماز اور زکوٰۃ کے نظام کو فروغ دینے کے لئے جس طرح ہفتہ سیرت منایا گیا، اسی طرح ہفتہ نماز اور ہفتہ زکوٰۃ بھی منایا جائے گا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ خطبا، واعظین اور ذاکرین اپنے اپنے خطبات میں متنازعہ اور اختلافی مسائل سے گریز کریں گے، کسی مسلک، فقہ یا مذہبی شخصیت کے خلاف نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا تمسخر آمیز گفتگو سے مکمل اجتناب کیا جائے گا، عوام کو یہ تعلیم دی جائے گی کہ حساس مذہبی معاملات میں فیصلے اور عدالتی کارروائیاں صرف اداروں کا اختیار ہیں، کسی شخص یا گروہ کو خود یہ فیصلہ یا اقدام کا حق حاصل نہیں ، فتویٰ اور شرعی فیصلے صرف مستند، معروف اور مجاز دینی ادارے یا دار الافتا ہی دے سکتے ہیں، واعظین اپنے خطبات میں عوام کو قانون کی پاسداری، صبر اور نظم وضبط کی تلقین کریں گے اور انہیں اشتعال، بدگمانی اور تصادم سے دور رہنے کی ہدایت کریں گے، خطبات وتقاریر میں اصلاح نفس، اجتماعی بھلائی، معاشرتی ذمہ داری، اخلاقی تربیت، تعلم، صحت، صفائی، ماحولیاتی تحفظ، خواتین اور بچوں کے حقوق اور انسانی خدمت جیسے موضوعات کو شامل کیا جائے گا، اسی طرح معاشرے کے موجودہ مسائل جیسے بے روزگاری، منشیات، جہالت، اخلاقی انحطاط اور معاشرتی بگاڑ پر اصلاحی پہلوؤں کے حوالے سے گفتگو کریں گے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں نوجوانوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے، اس وقت نوجوانوں میں مختلف حوالوں سے ایک بےچینی پائی جاتی ہے،نوجوان مرد وخواتین کے فکری اور ذہنی سوالات کا مدلل اور باوقار انداز میں احاطہ کیا جائے گا، مقررین اپنے بیانات میں جدید ابلاغی مہارتیں، خطابت کے اصول اور سائنسی طرز استدلال کو اپنائیں، سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کے بارے میں آگاہی دی جائے، سوشل میڈیا پر کسی مذہب، مسلک یا قوم کے خلاف نفرت انگیز پیغامات، جعلی خبروں اور توہین آمیز مواد کا سختی سے سدباب کیا جائے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مقررین عوام کو ریاست پاکستان، آئین اور قانون کی بالادستی کو تسلیم کرنے اور قانون کی پاسداری کی تعلیم دیں، کسی بھی بیان یا عمل کے ذریعے ریاستی اداروں، عدلیہ، مسلح افواج یا انتظامیہ کے خلاف بداعتمادی یا اشتعال پیدا نہ کیا جائے اور دہشت گردی، انتہا پسندی، نفرت انگیز یا کسی مسلح جدوجہد کے جواز یا تائید سے مکمل اجتناب کیا جائے گا۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آج کا یہ اجتماع پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدوں کا خیر مقدم کرتا ہے، پاکستان اور سعودی عرب کی مضبوطی عالم اسلام کی مضبوطی ہے، اس معاہدے پر پاکستان اور سعودی عرب کی قیادت اور عالم اسلام کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور یہ معاہدہ اس امر کا غماز ہے کہ حرمین شریفین ہماری عقیدتوں کا مرکز اور اس سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔اجلاس میں شریک علما و مشائخ میں مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا محمد یاسین ظفر، علامہ افضل حسین حیدری، پیر چراغ الدین شاہ، پیر فیاض الحسن، مولانا عزیز الرحمٰن، مولانا حافظ بشارت احمد، پیر انور جنید شاہ، اسلام آباد سے مولانا عتیق الرحمٰن شاہ، مولانا ہارون رشید، مفتی ضمیر احمد ساجد، مفتی عبدالسلام جلالی، پنجاب سے ڈاکٹر حافظ عبدالکریم، مولانا ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، علامہ عارف واحدی، پروفیسر ڈاکٹر سجاد قمر، مفتی نعیم احمد نورانی، سندھ سے مفتی ابوبکر محی الدین،
قاری خلیل الرحمٰن جاوید، مولانا قاری عثمان، ڈاکٹر عزیر محمود الازہری، شاہ اویس نورانی، مفتی فیروز الدین ہزاروی، خیبر پختونخوا سے ڈاکٹر احمد علی سراج، مولانا طیب قریشی، قاری محبوب الرحمن، مولانا عمر عبدالعزیز، علامہ رمضان توقیر، مولانا عبدالحق ثانی، ڈاکٹر شمس الرحمٰن، بلوچستان سے مولانا انوار الحق حقانی، علامہ سید ہاشم موسوی، آزاد جموں کشمیر سے حافظ طارق، محمود مولانا مفتی سعید یوسف مولانا دانیال مدنی ،مفتی سید کفایت حسین نقوی ،حافظ طاہر محمود اشرفی اور احمد علی سیروہی شامل تھے۔








