جنیوا۔23اکتوبر (اے پی پی):سینیٹ آف پاکستان کے سپیشل سیکرٹری حفیظ اللہ شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے خود کو ایک جدید، شفاف، ماحول دوست اور عوامی خدمات کے تقاضوں سے ہم آہنگ ادارے میں تبدیل کرنے کے لئے نمایاں پیشرفت کی ہے جو عالمی پارلیمانوں کے لئے ایک قابلِ تقلید ماڈل بن چکی ہے۔جنیوا میں منعقدہ اے ایس جی پی/آئی پی یو کے اہم اجلاس سے خطاب …
پاکستان کا پارلیمان جدید ٹیکنالوجی اور شفافیت میں عالمی مثال بن گیا، سپیشل سیکرٹری سینیٹ سیکرٹریٹ حفیظ اللہ شیخ

مزید خبریں
جنیوا۔23اکتوبر (اے پی پی):سینیٹ آف پاکستان کے سپیشل سیکرٹری حفیظ اللہ شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے خود کو ایک جدید، شفاف، ماحول دوست اور عوامی خدمات کے تقاضوں سے ہم آہنگ ادارے میں تبدیل کرنے کے لئے نمایاں پیشرفت کی ہے جو عالمی پارلیمانوں کے لئے ایک قابلِ تقلید ماڈل بن چکی ہے۔جنیوا میں منعقدہ اے ایس جی پی/آئی پی یو کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر خصوصی فخر کا اظہار کیا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ دنیا کی پہلی پارلیمنٹ ہے جو مکمل طور پر شمسی توانائی پر چلتی ہےیہ سنگِ میل نہ صرف ماحول دوست طرزِ حکمرانی کے نفاذ کا مظہر ہے بلکہ پاکستان کے پائیدار ترقی اور صاف توانائی کے وژن کی بھی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔
حفیظ اللہ شیخ نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ، سابق وزیرِ اعظم اور انٹرپارلیمنٹری سپیکرز کانفرنس کے بانی صدر، سید یوسف رضا گیلانی کی وژنری قیادت میں سینیٹ آف پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی جانب ایک اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹ تشکیل دے رہا ہے۔ اس جدید چیٹ بوٹ کے ذریعے ارکانِ پارلیمنٹ اور سینیٹ عملہ قانون سازی کا ریکارڈ، پارلیمانی مباحثوں اور قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس تک فوری رسائی حاصل کر سکیں گے، جس سے قانون سازی کے عمل میں شفافیت، تیزی اور مؤثر فیصلہ سازی کو فروغ ملے گا۔
حفیظ اللہ شیخ نے بطور پاکستانی افسر دوسری بار اس عالمی فورم سے خطاب کر کے ایک منفرد اعزاز حاصل کیا، انہوں نے اس سے قبل 2024ء میں بھی اجلاس سے خطاب کیا تھا اب تک صرف دو پاکستانیوں کو ہی اس عالمی پلیٹ فارم پر اظہار خیال کا موقع ملا ہے جو پاکستان کے پارلیمانی سفارتی کردار کے لئے ایک اہم اعزاز ہے۔انہوں نے کہا کہ سینیٹ آف پاکستان جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر ٹیکنالوجی کے ذریعہ ادارہ جاتی شفافیت، عوامی سہولت اور پارلیمانی اختراع کے نئے عالمی معیارات قائم کر رہا ہے جو ایک مضبوط، پیشہ ور اور مستقبل بین پارلیمانی نظام کی جانب اہم پیش رفت ہے۔








