اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کا سٹریٹجک محلِ وقوع اسے علاقائی رابطے کا قدرتی مرکز بناتا ہے، ہمارا وژن ہے کہ سڑک، ریل، فضائی، بحری، توانائی اور ڈیجیٹل راہداریوں کے ذریعے خطے میں پائیدار ترقی اور مشترکہ خوشحالی کو فروغ دیا جائے، رابطہ کاری صرف انفراسٹرکچر نہیں بلکہ اعتماد، مواقع اور مشترکہ مقدر کی تعمیر کا ذریعہ …
حکومت رابطوں اور اشتراکِ عمل کے ذریعے اقتصادی نمو اور خطے کی اجتماعی خوشحالی کے لئے پرعزم ہے ، وزیرخارجہ اسحاق ڈار کا علاقائی وزرائے ٹرانسپورٹ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کا سٹریٹجک محلِ وقوع اسے علاقائی رابطے کا قدرتی مرکز بناتا ہے، ہمارا وژن ہے کہ سڑک، ریل، فضائی، بحری، توانائی اور ڈیجیٹل راہداریوں کے ذریعے خطے میں پائیدار ترقی اور مشترکہ خوشحالی کو فروغ دیا جائے، رابطہ کاری صرف انفراسٹرکچر نہیں بلکہ اعتماد، مواقع اور مشترکہ مقدر کی تعمیر کا ذریعہ ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو منعقدہ علاقائی وزرائے ٹرانسپورٹ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر وفاقی وزیرِ مواصلات عبدالعلیم خان، کابینہ کے اراکین، اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی ایلچی برائے روڈ سیفٹی، مختلف ممالک کے سفراء، سفارتی نمائندے اور اعلیٰ حکومتی حکام بھی موجود تھے۔ دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیراعظم وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت پاکستان رابطوں اور اشتراکِ عمل کے ذریعے اقتصادی نمو اور خطے کی اجتماعی خوشحالی کے لئے پرعزم ہے۔
انہوں نے وفاقی وزیرِ مواصلات عبدالعلیم خان اور ان کی ٹیم کی اس کانفرنس کے انعقاد کے لئے کاوشوں کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ دنیا جغرافیائی و اقتصادی تبدیلیوں، نئی تجارتی راہداریوں، ڈیجیٹل انضمام اور پائیداری کی طرف بڑھ رہی ہے اس لئے علاقائی روابط استحکام، ترقی اور اجتماعی پیشرفت ناگزیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ وسطی ایشیا اب ایک حقیقی ٹرانس یوریشین لینڈ برج کی شکل اختیار کر چکا ہے جہاں سڑک، ریل، تیل و گیس کے منصوبے منڈیوں کو جوڑنے کا ذریعہ بن رہے ہیں، یہ منصوبے صرف انفراسٹرکچر نہیں بلکہ مشترکہ مواقع کے دروازے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تیز رفتار موٹرویز اور قومی شاہراہیں علاقائی و داخلی رابطے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں جو اہم سرحدی گزرگاہوں کو کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں سے جوڑتی ہیں۔ چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) پاکستان کے وژن کی سب سے روشن مثال ہے جو توانائی، ٹرانسپورٹ اور تجارت کے فروغ کے ساتھ پورے خطے کے لئے فائدہ مند بن چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ازبکستان-افغانستان-پاکستان ریلوے فریم ورک معاہدہ ایک تاریخی اقدام ہے جو نئی تجارتی راہیں کھولے گا جبکہ استنبول-تہران-اسلام آباد (آئی ٹی آئی ) سڑک و ریل راہداری یورپ، وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے درمیان کم لاگت زمینی پل فراہم کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کاسا-1000 اور تاپی-500 جیسے توانائی کے منصوبوں میں سرگرم شراکت دار ہے جو خطے میں توانائی کے تحفظ اور اقتصادی نمو میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے 126 ممالک کے شہریوں کے لئے ای-ویزا سہولت متعارف کرائی ہے خصوصاً خلیجی ریاستوں اور وسطی ایشیا کے لئے تاکہ تجارت، سیاحت اور عوامی روابط کو فروغ دیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بندرگاہوں اور لاجسٹکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کر رہا ہے اور فضائی و ڈیجیٹل روابط کے فروغ پر بھی یکساں توجہ دے رہا ہے، ملک میں ڈیجیٹل ٹریڈ پلیٹ فارمز اور ای-پورٹ انٹیگریشن سے تجارت کو مؤثر، شفاف اور مسابقتی بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے ترقیاتی شراکت داروں، اقوامِ متحدہ کی ایجنسیوں، کثیرالملکی بینکوں اور علاقائی تنظیموں کی معاونت کو سراہا جن کی بدولت یہ منصوبے آگے بڑھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات صرف ترقیاتی منصوبے نہیں بلکہ علاقائی انضمام، اقتصادی تبدیلی، امن و استحکام کے ضامن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس تعاون کے نئے عملی اقدامات طے کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان رابطہ منصوبوں کی ہم آہنگی، سرحد پار سہولت کاری، مشترکہ سرمایہ کاری کے فروغ اور علاقائی ویلیو چینز کو مضبوط کرنے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہم سب کو اپنی حکمتِ عملیوں کو ہم آہنگ کر کے پائیدار شراکتیں قائم کرنا ہوں گی، ہم مل کر ان راہداریوں کو ترقی میں بدل سکتے ہیں۔








