اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کا اجلاس چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمٰن کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں برازیل میں ہونے والی کوپ-30 کانفرنس کی تیاریوں، پاکستان کی موسمیاتی مالیاتی حکمتِ عملی اور سنگل یوز پلاسٹک ممنوعہ ریگولیشنز 2023 کے نفاز پر پیشرفت کاجائزہ لیا گیا۔اس موقع پر سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب کے …
چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمٰن کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کا اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کا اجلاس چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمٰن کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں برازیل میں ہونے والی کوپ-30 کانفرنس کی تیاریوں، پاکستان کی موسمیاتی مالیاتی حکمتِ عملی اور سنگل یوز پلاسٹک ممنوعہ ریگولیشنز 2023 کے نفاز پر پیشرفت کاجائزہ لیا گیا۔اس موقع پر سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب کے باعث پاکستان دنیا بھر میں موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک میں پہلے نمبر پر رہا۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو کوپ-30 میں علامتی شرکت کے بجائے مؤثر موسمیاتی سفارتکاری اور مالیاتی وسائل کے حصول کو ترجیح دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 2022 میں تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے فنڈ منظور کرایا تھا مگر اب ہم پیچھے چلے گئے ہیں جبکہ یہ معاملہ صرف این ڈی سیز کا نہیں بلکہ بقا ء کا ہے۔انہوں نے عالمی موسمیاتی فنڈنگ کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے اسے موسمیاتی نوآبادیات قرار دیا اور کہا کہ دنیا میں اب بھی سالانہ سات ٹریلین ڈالر فوسل فیول سبسڈیز پر خرچ ہوتے ہیں جبکہ پاکستان جیسے ترقی پزیر ممالک گرانٹس کے لئے جدوجہد کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان کو 2030 تک موسمیاتی اثرات سے نمٹنے کے لئے 348 بلین ڈالر جبکہ صرف موافقت اور ریزیلنس کے لئے 152 بلین ڈالر درکار ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کئے گئے تو 2050 تک موسمیاتی عدم عملداری سے پاکستان کو 1.2 ٹریلین ڈالر کانقصان ہو سکتا ہے جبکہ سیلاب سے 90 بلین ڈالر کا نقصان اور تقریباً 400 ملین افراد زیادہ تر پنجاب میں بے گھر ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان مین اس وقت موافقت پر موجودہ اخراجات اس کی ضرورت کا صرف 6 فیصد ہیں جس سے فنانسنگ میں فرق پیدا ہوتا ہے 16 گنا فرق پیدا ہوتا ہے جبکہ 2021 میں گھریلو نجی شعبے کا شراکت محض 5 فیصد تھی۔سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی نے کمیٹی کو بتایا کہ کوپ-30 میں ان ڈی سی ایس ، موسمیاتی مالیات، جنگلات اور سمندروں سے متعلق مذاکرات اہم رہیں گے۔ سیکرٹری وزرات موسمیاتی تبدیلی کے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان 10 سے 21 نومبر تک ہونے والی مذاکراتی سرگرمیوں میں شرکت کرے گا، جن میں کاربن کریڈٹ ٹریڈنگ پر کوریا سے بات چیت بھی شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک صرف 700 ملین ڈالر کے وعدے ہوئے ہیں جن کے اجراء کیلئے فالو اپ ضروری ہے۔شیری رحمٰن نے کہا کہ پاکستان میں جنگلات کا رقبہ جنوبی ایشیا میں سب سے کم ہے جبکہ ساحلی علاقے شدید آلودگی کا شکار ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کوپ-30 کے بعد ملک میں جنگلات کے رقبے کا مکمل آڈٹ کیا جائے گا تاکہ حقیقی صورتحال سامنے لائی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ سیلاب کے دوران چترال جیسے علاقے بھورے ہو گئے ہیں جو ایک لمحۂ فکریہ ہے۔انہوں نے موسمیاتی پالیسی کے نفاذ میں مضبوط صوبائی شمولیت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبوں کی شراکت کے بغیر کوئی بھی موسمیاتی پالیسی مؤثر ثابت نہیں ہو سکتی۔ اجلاس میں سینیٹر قرۃ العین مری اور سینیٹر کاکڑ نے صوبوں کے درمیان کمزور رابطہ کاری اور ناکافی فنڈنگ پر تشویش کا اظہار کیا۔اجلاس میں محکمہ موسمیات کی کارکردگی بالخصوص 19 اگست کو کراچی میں ہونے والی غیر معمولی بارش کے حوالے سے غور کیا گیا۔ سینیٹر قرۃ العین مری نے کہا کہ محکمہ موسمیات نے سندھ کو ضلع کے طور پر ظاہر کیا، جو اس کے نظام کی پسماندگی کو ظاہر کرتا ہے۔
شیری رحمٰن نے کہا کہ محکمہ کو دی جانے والی گرانٹس سابق حکومتوں نے مؤثر انداز میں استعمال نہیں کیں، جس کے باعث سسٹمز بہتر نہیں ہو سکے۔ انہوں نے تجویز دی کہ این ڈی ایم اے اور نجی موسمیاتی پلیٹ فارمز کو ابتدائی انتباہی نظام میں شامل کیا جائے تاکہ ہر شہری کو بروقت معلومات فراہم کی جا سکیں۔اجلاس میں سنگل یوز پلاسٹک پر پابندی کے ضوابط پر عملدرآمد کا جائزہ لیتے ہوئے شیری رحمٰن نے پلاسٹک آلودگی کو سنگین مسئلہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مائیکرو پلاسٹکس سینکڑوں سال تک ختم نہیں ہوتے اور سرطان سمیت دیگر موذی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں، دریائے سندھ دنیا کا دوسرا سب سے آلودہ دریا بن چکا ہے۔عالمی سطح پر پلاسٹک کا صرف نو فیصد ریسائیکل کیا جاتا ہے انہوں نے خبردار کیا کہ 2050 تک پلاسٹک کا فضلہ سمندروں میں سمندری حیات سے زیادہ ہو جائے گا۔ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے بتایا کہ ضوابط پر عملدرآمد کیلئے کارروائیاں جاری ہیں اور خلاف ورزی پر دس لاکھ روپے تک جرمانہ ہوسکتا ہے، تاہم شیری رحمٰن نے ہدایت کی کہ طویل مدتی اثرات کو یقینی بنانے کے لئے ری سائیکلنگ کی جامع سہولیات قائم کی جائے۔
اجلاس کے اختتام پر سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ موسمیاتی فنانس، مزاحمت اور احتساب پاکستان کے قومی ایجنڈے کا مرکزی ستون ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اب مزید ردعمل کے متحمل نہیں ہو سکتے اور اگلے موسمیاتی بحران کا انتظار نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت ہے کہ پالیسی کو عملی اقدامات میں بدلا جائے اور الگ تھلگ فیصلوں کے بجائے مربوط حکمتِ عملی اپنائی ہوگی۔اجلاس میں سینیٹر بشریٰ انجم بٹ، سینیٹر نسیمہ احسان، سینیٹر قرۃ العین مری، سینیٹر کاکڑ جبکہ سینیٹر سرمد علی اور سینیٹر ڈاکٹر زرکا سہروردی تیمور نے آن لائن شرکت کی۔








