ریکو ڈک جیسے منصوبوں میں کینیڈا کی شمولیت سے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے معاشی تعلقات کی عکاسی ہو رہی ہے ، سینیٹر محمد اورنگزیب

اسلام آباد۔24اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پائیدار معاشی بحالی کو یقینی بنانےکیلئے حکومت نے ڈھانچہ جاتی اصلاحات، سرکاری اداروں کی نجکاری اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی و نمو پر اپنی توجہ مرکوز کی ہے، ریکو ڈک جیسے منصوبوں میں کینیڈا کی شمولیت سے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے معاشی تعلقات کی عکاسی ہو رہی ہے ۔ …

اسلام آباد۔24اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پائیدار معاشی بحالی کو یقینی بنانےکیلئے حکومت نے ڈھانچہ جاتی اصلاحات، سرکاری اداروں کی نجکاری اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی و نمو پر اپنی توجہ مرکوز کی ہے، ریکو ڈک جیسے منصوبوں میں کینیڈا کی شمولیت سے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے معاشی تعلقات کی عکاسی ہو رہی ہے ۔

انہوں نے یہ بات جمعہ کو یہاں پاکستان میں کینیڈا کے نئے تعینات ہونے والے ہائی کمشنر طارق علی خان سے ملاقات کے دوران کہی۔

وزیرِ خزانہ نے ہائی کمشنر کا خیرمقدم کیا اور اسلام آباد میں ذمہ داریاں سنبھالنے پر انہیں مبارکباد دی۔

وزیر خزانہ نے پاکستان کی حالیہ معاشی کارکردگی اور اصلاحات کے ایجنڈے کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ تین سال قبل کے مشکل دور کے بعد ملک کے مجموعی معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی ہے، مہنگائی پر قابو پا لیا گیا ہے اور مالی نظم و ضبط بحال ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار معاشی بحالی کو یقینی بنانےکیلئے حکومت ڈھانچہ جاتی اصلاحات، سرکاری اداروں کی نجکاری اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی و نمو پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے ۔

وزیر خزانہ نےہائی کمشنر کو پاکستان کی بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ رابطوں و شمولیت سے متعلق بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ حکومت بالخصوص توانائی، بنیادی ڈھانچے اور معدنیات کے شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کو اولین ترجیح دے رہی ہے، ریکو ڈک منصوبے جیسے منصوبوں میں کینیڈا کی شمولیت دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے معاشی تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔

وزیرِ خزانہ نے دوطرفہ تجارت میں اضافے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تجارتی حجم اپنی صلاحیت سے کم ہے، پاکستان میں قابلِ تجدید توانائی، کان کنی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مزید کینیڈین سرمایہ کاری کی ضرورت ہے اور کینیڈا کے تاجروں اور سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے بھرپور استفادہ کرنا چاہئے۔

انہوں نے کینیڈا میں مقیم پاکستانی برادری کی جانب سے ترسیلاتِ زر کے باضابطہ ذرائع کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا جو دونوں معیشتوں کے درمیان ایک قیمتی پل کی حیثیت رکھتی ہے۔

ہائی کمشنر طارق علی خان نے حکومتِ کینیڈا کی جانب سے گرمجوشی پر مبنی نیک خواہشات کا اظہار کیا اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان کی معاشی پیشرفت کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ تجارت میں تنوع لانا کینیڈا کی اہم ترجیحات میں شامل ہے اور ان کی حکومت پاکستان کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی خواہاں ہے۔ہائی کمشنر نے کہا کہ کینیڈا بشمول ایل این جی اور اہم معدنیات کی ترقی کے بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے شعبوں میں توسیع کے منصوبے پر عمل پیرا ہے ،ان شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون کے مواقع موجود ہیں۔

انہوں نے کراچی میں قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں میں کام کرنے والی کینیڈین کمپنیوں کا بھی ذکر کیا اور پاکستان کی سبز معیشت کی طرف منتقلی اور ماحولیاتی استحکام کے لئے تعاون کی خواہش کا اظہار کیا۔کینیڈا کے ہائی کمشنر نے اس امر پر زور دیا کہ زرعی تجارت اور کاروباری روابط کو فروغ دینے کے لئے دونوں ممالک میں وسیع امکانات موجود ہیں جن میں مجوزہ "کینیڈا-پاکستان چیمبر آف کامرس”کے قیام کا امکان بھی شامل ہے۔

انہوں نے موسمیاتی مالیات کے لئے کینیڈا کے عزم اور کثیرالجہتی ماحولیاتی فنڈز میں اس کی مسلسل شراکت کی بھی توثیق کی۔فریقین نے دوطرفہ سرمایہ کاری کے معاہدے پر جاری مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا اور اس کے جلد اختتام پر اتفاق کیا تاکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد اور معاشی روابط کو مزید تقویت دی جا سکے۔

وزیرِ خزانہ نے ہائی کمشنر کو آبادی کے نظم و نسق، غربت میں کمی، اور ماحولیاتی تبدیلی سے مطابقت کی ترجیحات سے بھی آگاہ کیا اور حکومت کے طویل المدتی پائیدار ترقی کے عزم کو اجاگر کیا۔فریقین نے اس عزم کا اظہار کیاکہ پاکستان اور کینیڈا کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون کو مزید گہرا کیا جائے گا اور باہمی تعلقات کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے قریبی اشتراکِ عمل جاری رکھا جائے گا۔