چیئرپرسن ایس ای سی پی کی میوچل فنڈز میں لاگت کم کرنے، شفافیت بڑھانے اور ای ٹی ایفس میں سرمایہ کی آمدورفت بہتر بنانے کیلئے مارکیٹ کے شرکا سے ملاقات

اسلام آباد۔24اکتوبر (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کےچیئرپرسن عاکف سعید نے ایسٹ مینجمنٹ کمپنیوں (اے ایم سیز)، سینٹرل ڈپازٹری کمپنی آف پاکستان(سی ڈی سی) اور میوچل فنڈز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایم یو ایف اے پی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سمیت سینئر مینجمنٹ سے ملاقات کی۔اس ملاقات میں ایک اہم ایجنڈا خصوصی خدمات فراہم کرنے والوں کو متعلقہ افعال کو آئوٹ سورس کرنے …

اسلام آباد۔24اکتوبر (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کےچیئرپرسن عاکف سعید نے ایسٹ مینجمنٹ کمپنیوں (اے ایم سیز)، سینٹرل ڈپازٹری کمپنی آف پاکستان(سی ڈی سی) اور میوچل فنڈز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایم یو ایف اے پی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سمیت سینئر مینجمنٹ سے ملاقات کی۔اس ملاقات میں ایک اہم ایجنڈا خصوصی خدمات فراہم کرنے والوں کو متعلقہ افعال کو آئوٹ سورس کرنے کے اختیارات تلاش کرکے میوچل فنڈز کی صنعت میں لاگت کی کارکردگی کو فروغ دینا تھا۔

شرکا نے اس خیال کو سراہا اور کہا کہ اس سے اخراجات میں کمی، صارف کے تجربے میں یکسانیت اور اہم امور جیسے این اے وی کیلکولیشن میں شفافیت میں اضافہ ممکن ہوگا جبکہ فن ٹیک کے فوائد سے بھی استفادہ حاصل کیا جا سکے گا۔ یہ اقدام صنعت کو اپنی بنیادی سرگرمیوں یعنی فنڈ مینجمنٹ پر توجہ مرکوز کرنے اور سرمایہ کاروں تک بہتر رسائی اور موثر مصنوعات کی تقسیم کے لیے کوششیں تیز کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ یہ ایس ای سی پی کے مجموعی مقصد ’’عوام کے لیے میوچل فنڈ‘‘ کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور نئے داخل ہونے والے اداروں کے لیے رکاوٹیں کم کرے گا۔ اسی طرح کا ماڈل بروکریج صنعت میں پروفیشنل کلیئرنگ ممبرز کے ذریعے کامیابی سے نافذ کیا جا چکا ہے۔

بات چیت کے بعد اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ایس ای سی پی، مارکیٹ کے شرکا، ٹرسٹیز اور فن ٹیک کمپنیوں پر مشتمل ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے گا۔ یہ گروپ مجوزہ منصوبے کا تفصیلی جائزہ لے گا، متعلقہ فریقوں سے مشاورت کرے گا، ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیش رفت بشمول بلاک چین کے اثرات کا تجزیہ کرے گا اور 60 دن کے اندر آئندہ کے لائحہ عمل کی سفارش کرے گا۔ایک اور اہم ایجنڈا نکتہ ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ای ٹی ایفس) میں لیکویڈیٹی بڑھانے پر مرکوز تھا۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ ای ٹی ایفس اپنی کم لاگت ساخت اور متعدد سکیورٹیز کے منافع کو عکسبند کرنے کی صلاحیت کے باعث مختلف سرمایہ کاروں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے نہایت موزوں ہیں اور سرمایہ کاروں تک رسائی بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

ایس ای سی پی نے پہلے ہی ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس میں مارکیٹ کے شرکا، پاکستان سٹاک ایکسچینج، سی ڈی سی، این سی سی پی ایل اور سٹاک بروکرز شامل ہیں۔ اس کمیٹی کا مقصد اس پروڈکٹ کا جائزہ لینا، اس کی ترقی میں رکاوٹ بننے والے عملی مسائل (جیسے بڑے لاٹ سائز اور غیر موثر تقسیم) کی نشاندہی کرنا، اور ان کے حل تجویز کرنا ہے۔ کمیٹی نے اپنی سفارشات کو حتمی شکل دے دی ہے اور جلد ہی اپنی رپورٹ جمع کرائے گی۔

ایس ای سی پی نے کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔تمام شرکا باہمی تعاون اور حمایت کے ذریعے مصنوعات میں جدت، کارکردگی میں بہتری، شفافیت اور سرمایہ کاروں تک زیادہ موثر رسائی کے لیے سرگرمی سے کوششیں جاری رکھیں گے۔