دوحہ۔6نومبر (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے خطے میں امن اور مکالمے کے فروغ کے لیے قطر کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور قطر کے درمیان شراکت علاقائی امن، توانائی کے تحفظ اور سماجی ترقی کے لیے سٹریٹجک اہمیت کی حامل ہے،پاکستان اور خلیجی ممالک افرادی قوت کی دستیابی ، مہارت کے فروغ اور پائیدار سرمایہ کاری میں تعاون بڑھا سکتے ہیں،پاکستانی برادری …
پاکستان اور قطر کے درمیان شراکت علاقائی امن، توانائی کے تحفظ اور سماجی ترقی کے لیے سٹریٹجک اہمیت کی حامل ہے،صدر آصف علی زرداری کا قطر کے انگریزی اخبار’’دی پیننسولا ‘‘کو خصوصی انٹرویو

مزید خبریں
دوحہ۔6نومبر (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے خطے میں امن اور مکالمے کے فروغ کے لیے قطر کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور قطر کے درمیان شراکت علاقائی امن، توانائی کے تحفظ اور سماجی ترقی کے لیے سٹریٹجک اہمیت کی حامل ہے،پاکستان اور خلیجی ممالک افرادی قوت کی دستیابی ، مہارت کے فروغ اور پائیدار سرمایہ کاری میں تعاون بڑھا سکتے ہیں،پاکستانی برادری کا کردار پاکستان اور قطرکے دیرینہ تعلقات کےلئےمضبوط پل کی حیثیت رکھتا ہے، پاکستان کے سماجی تحفظ کے نظام میں بائیومیٹرک تصدیق سے امدادی رقوم شفاف طریقے سے حقدار تک پہنچتی ہیں، ہم ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں ہر خاندان کو سماجی تحفظ ہو، خواتین معاشی طور پر خود مختار ہوں اور نوجوانوں کو باعزت روزگار ملے۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہارقطر کے انگریزی اخبار’’ دی پیننسولا ‘‘کو خصوصی انٹرویو میں کیا۔صدرنے کہا کہ قطر نے خطے میں امن کے لیے اہم ثالث کا کردار ادا کیا ہے، خصوصاً حماس اور بین الاقوامی فریقوں کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے اور امریکا اورطالبان کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی جس سے افغان امن عمل کی راہ ہموار اور پاکستان کے علاقائی تحفظات سے متعلق اہم پیش رفت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور قطر کے درمیان گہری اور کثیرالجہت شراکت مشترکہ مذہب، ثقافت اور باہمی احترام پر مبنی ہے، 1972 میں سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے دونوں ممالک نے سیاسی، معاشی، دفاعی، توانائی اور انسانی شعبوں میں تعاون کو مسلسل بڑھایا ہے،موجودہ جغرافیائی و سیاسی صورتحال میں یہ شراکت علاقائی امن، توانائی کے تحفظ اور سماجی ترقی کے لیے ایک سٹریٹجک اہمیت کی حامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک قطر میں پاکستانی افرادی قوت کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور تربیت و سماجی تحفظ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر غور کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ قطر میں مقیم پاکستانی برادری ہمارے دیرینہ تعلقات کا مضبوط پل ہے، اس کی محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا قطر کی غیر معمولی ترقی میں اہم حصہ ہے جبکہ اس کی ترسیلات اور مہارت پاکستان کی معیشت اور عوامی روابط کو مضبوط بناتی ہیں۔صدر نے کہا کہ ہم اپنے ورکرز کی مہارت میں اضافے اور انہیں باضابطہ بینکنگ چینلز کے استعمال میں مدد دے رہے ہیں تاکہ وہ بیرون ملک بہتر مواقع حاصل کر سکیں اور اپنے خاندانوں اور ملکی معیشت کو زیادہ مؤثر انداز میں سہارا دے سکیں۔
صدر نے کہا کہ پاکستان قطر کے مکالمہ اور سفارت کاری کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہےخصوصاً حماس اور دیگر فریقین کے درمیان رابطوں میں ہم آہنگی اور دوحہ I اور دوحہ II عمل کے ذریعے امن کو آگے بڑھانے کے لیےقطر کا مکالمے اور سفارت کاری پر یقین پاکستان کے خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے وژن سے مطابقت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوحہ عمل کا مقصد علاقائی اور عالمی سطح پر اشتراکی امکانات پیدا کرنا ہے، پاکستان اور خلیجی ممالک افرادی قوت کی دستیابی، مہارت کے فروغ اور پائیدار سرمایہ کاری میں تعاون بڑھا سکتے ہیں، موسمیاتی موافق انفراسٹرکچر اور سماجی تحفظ پر مشترکہ اقدام خطے کے استحکام کو مضبوط بنائے گا ۔صدر نے کہا کہ دوسری عالمی سماجی ترقیاتی سمٹ ،عالمی سماجی اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نہایت اہم ہے کیونکہ اس سے عدم مساوات اور موسمیاتی دباؤ کے دور میں سماجی انصاف اور جامع ترقی پر عالمی اتفاقِ رائے کی تجدید ہوئی ہے۔
غربت، تعلیم اور صحت کے مسائل سے متعلق انہوں نے کہا کہ ہم ان چیلنجز کوسماجی تحفظ اور انسانی وسیلے میں سرمایہ کاری کے ذریعے حل کر رہے ہیں، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت 90 لاکھ سے زائد خاندانوں کو براہِ راست مالی امداد فراہم کی جا رہی ہےجبکہ وسیلہ تعلیم اور نشوونما جیسے پروگرام بچوں کی تعلیم اور غذائی معیار کو بہتر بنا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سماجی پالیسی دوحہ اعلامیے کے اس اصول کے مطابق ہے جس میں یونیورسل سوشل پروٹیکشن اور جامع معاشی بحالی پر زور دیا گیا ہے،ہم بی آئی ایس پی کا دائرہ اور اہلیت بڑھا رہے ہیں،
قومی سماجی اقتصادی نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو چکا ہے ، بچوں، معذور افراد، آفات سے متاثرہ خاندانوں اور خواتین کی ڈیجیٹل مالی شمولیت کے لیے نئے پروگراموں پر عملدرآمد ہورہا ہے،پاکستان کا مؤقف ہے کہ سماجی تحفظ اور روزگار کے مواقع ایک ساتھ آگے بڑھنے چاہئیں۔پاکستانی نوجوانوں کی ترقی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان ہماری ترقیاتی حکمتِ عملی کا مرکز ہیں، ہم جدید مہارت کی تربیت، ڈیجیٹل روزگار، کاروباری منصوبوں اور غیر رسمی کام کی باضابطہ حیثیت کے ذریعے نوجوانوں کو بہتر مستقبل سے جوڑ رہے ہیں۔صدر نے کہا کہ پاکستان جنوبی ممالک کے درمیان تعاون میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے، جہاں وہ اپنی سماجی تحفظ، تعلیم، صحت اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے ماڈلز سے دیگر ممالک کو فائدہ پہنچا رہا ہے،موسمیاتی استحکام اور غذائی تحفظ کے لیے عالمی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی براہِ راست لوگوں کے روزگار اور زندگی کو متاثر کرتی ہے۔
دوحہ اعلامیہ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ سماجی تحفظ اور موسمیاتی موافقت ایک ساتھ ہونی چاہیے۔ پاکستان میں سیلاب کے بعد ہماری نقد امداد نے لاکھوں خاندانوں کو تیز تر بحالی میں مدد دی،ہم اب اس نظام کو جدید ٹیکنالوجی اور فنانسنگ کے ساتھ مزید وسعت دینا چاہتے ہیں تاکہ سماجی تحفظ موسمیاتی استحکام کو بھی مضبوط کرے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سماجی تحفظ کے نظام میں بائیومیٹرک تصدیق سے امدادی رقوم شفاف طریقے سے حقدار تک پہنچتی ہیں
، بی آئی ایس پی کے تحت ڈیجیٹل والٹس خواتین کو ادائیگیوں کے محفوظ انتظام اور مالی خود مختاری میں مدد دے رہے ہیں۔اپنے طویل المدتی وژن سے متعلق انہوں نے کہا کہ ہم ایک ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں ہر خاندان کو سماجی تحفظ میسر ہو، خواتین معاشی طور پر آزاد ہوں ،نوجوانوں کو باعزت روزگار ملے، ہم دوحہ اور پائیدار ترقیاتی اہداف کے فریم ورکس کے ذریعے مضبوط معاشی انتظام ،خدمات کی موثر فراہمی کا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ سماجی تحفظ ملک کی جامع اور موسمیاتی لچکدار ترقی کی بنیاد بنے۔







