شہدائے جمّوں کی قربانی اس عزم کی یاد دہانی ہے کہ سچائی کو دبایا نہیں جا سکتا ،سینیٹر اعظم نذیر تارڑ

اسلام آباد۔6نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اور انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ آج ہم جمّوں کے اُن شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہیں اکتوبر اور نومبر 1947ء میں ڈوگرہ فوج اور آر ایس ایس نظریے سے متاثر انتہاپسند گروہوں نے ظلم و بربریت کا نشانہ بنا کر شہید کیا۔ جمعرات کو یومِ شہداء جموں کے موقع پر جاری پیغام …

اسلام آباد۔6نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اور انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ آج ہم جمّوں کے اُن شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہیں اکتوبر اور نومبر 1947ء میں ڈوگرہ فوج اور آر ایس ایس نظریے سے متاثر انتہاپسند گروہوں نے ظلم و بربریت کا نشانہ بنا کر شہید کیا۔ جمعرات کو یومِ شہداء جموں کے موقع پر جاری پیغام میں وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ سانحہ جنوبی ایشیا کی تاریخ کے بدترین انسانی المیوں میں شمار ہوتا ہے۔

دنیا نے امریکی نائن الیون اور نازی مظالم پر تو بھرپور توجہ دی، لیکن کشمیریوں کے اُس قتلِ عام کو بھلا دیا، جہاں صرف دو ماہ میں دو لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد بے گناہ انسانوں کو شہید کیا گیا۔ مؤرخین نے اسے بیسویں صدی کے تاریک ترین ابواب میں شمار کیا ہے، مگر افسوس کہ دنیا آج بھی کشمیری عوام کے دکھ اور قربانی کو نظرانداز کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی حادثاتی واقعہ نہیں تھا بلکہ ریاستی سرپرستی میں کی جانے والی ایک منظم مہم تھی، جس کا مقصد جمّوں و کشمیر کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنا تھا۔

آدھے ملین سے زائد افراد کو اپنے گھر بار چھوڑ کر پاکستان ہجرت پر مجبور کیا گیا۔ پوری کی پوری برادریاں مٹا دی گئیں — اُن کا واحد جرم اُن کا مذہب اور آزادی کی خواہش تھی،77برس گزر جانے کے باوجود یہ سلسلہِ ناانصافی آج بھی جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ  2019ء میں آئینِ ہند کے آرٹیکل 370 اور 35-اے کے خاتمے کے بعد بھارت نے خطے کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے براہِ راست دہلی کے زیرِ انتظام کر دیا۔ زمین اور جائیداد کے قوانین میں تبدیلیاں کی گئیں، غیر مقامی آبادکاری کے منصوبے شروع کیے گئے، اور سرینگر 2035ء جیسے ترقیاتی منصوبے متعارف کروائے گئے —

جن کا مقصد وادی کے مسلم اکثریتی تشخص کو تبدیل کرنا اور کشمیری عوام کی آواز کو دبانا ہے۔ سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی منصفانہ جدوجہد میں اُن کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔ شہدائے جمّوں کی قربانی اس عزم کی یاد دہانی ہے کہ سچائی کو دبایا نہیں جا سکتا اور انصاف کو ہمیشہ کے لیے روکا نہیں جا سکتا۔پاکستان کشمیری عوام کے ساتھ تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

مزید خبریں