پاکستان کے لئے کشمیر ایک قومی کاز ہے،کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے،پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رانا قاسم نون اور دیگر کا یوم شہدائے جموں کی تقریب سے خطاب

اسلام آباد۔6نومبر (اے پی پی):پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رانا قاسم نون نے کہا ہے کہ پاکستان کے لئے کشمیر ایک قومی کاز ہے،کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے،تکمیل پاکستان کشمیر کے بغیر نہیں ہو سکتا،کشمیر بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں اور نہ ہی انڈیا کا حصہ ہے،کشمیر کوئی دو طرفہ مسئلہ نہیں۔جمعرات کو یوم شہداء جموں کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رانا قاسم نون نے …

اسلام آباد۔6نومبر (اے پی پی):پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رانا قاسم نون نے کہا ہے کہ پاکستان کے لئے کشمیر ایک قومی کاز ہے،کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے،تکمیل پاکستان کشمیر کے بغیر نہیں ہو سکتا،کشمیر بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں اور نہ ہی انڈیا کا حصہ ہے،کشمیر کوئی دو طرفہ مسئلہ نہیں۔جمعرات کو یوم شہداء جموں کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رانا قاسم نون نے کہا کہ کشمیر کی جدوجہد سینکڑوں سال پرانی ہے،کشمیر کی جدوجہد قربانیوں ،قید و بند کی صعوبتوں سے بھری پڑی ہے،پاکستان کے لیے کشمیر ایک قومی کاز ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے،تکمیل پاکستان کشمیر کے بغیر نہیں ہو سکتا،کشمیر بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں اور نہ ہی انڈیا کا حصہ ہے،کشمیر کوئی دو طرفہ مسئلہ نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ 6 نومبر کو جموں میں خون کی ہولی کھیلی گئی،آر ایس ایس کے جھتے لوگوں کو بسوں میں بھر کر گراؤنڈ میں لے گئے۔انہوں نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر کاز میں قربانیوں کے حوالے سے مماثلت پائی جاتی ہے،نیتن یاہو اور مودی کا اکٹھ فلسطین سے لوگوں کو نکالنا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں غیر کشمیریوں کو آباد کیا جا رہا ہے تاکہ مسلمانوں کو وہاں سے نکالا جائے،وہاں ہزاروں جوان اور بچے آج جیلوں میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے نیلسن منڈیلا شبیر شاہ کو علاج کی سہولت دی جائے،کشمیر کاز حکومتوں کا محتاج نہیں یہ ریاست کا کاز ہے۔رانا قاسم نون نے کہا کہ پاکستان کی ریاست سے کشمیر ایشو پر چار جنگیں لڑی ہیں،معرکہ حق کے دوران 16 گھنٹے میں جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن ہی تبدیل ہو گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری فوجی لیڈرشپ نے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا،مسئلہ کشمیر ایک بار پھر عالمی سطح پرابھر کر سامنے آیا ہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کشمیر دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں دس لاکھ فوج تعینات کی گئی ہے،دنیا کی بے حسی کی مذمت کرتے ہیں،مودی سرکار کےمنصوبے اور ظلم کی شدید مذمت کرتے ہیں۔انہوں نےکہا کہ دنیا کی ایک چوتھائی اس خطے میں رہتی ہے لیکن یہاں امن نہیں ہے،جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا خطے میں امن نہیں آسکتا۔

صدر مسلم لیگ ن آزاد کشمیر شاہ غلام قادر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ78 سال پہلے آج کے دن جموں شہر سے باہر لا کر دو ڈھائی لاکھ لوگوں کو قتل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ بھارت اس وقت سے ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے،آج وادی میں بھارت ڈیموگرافی کو تبدیل کرنا چا رہا ہے،لاکھوں لوگوں کو وادی کا ڈومیسائل دے دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت چاہتا ہے کہ کہیں ضرورت پڑے تو نئے بسائے گئے لوگوں کو استعمال کیا جائے،کشمیر پر بہت سے کتابیں لکھی جا چکی ہیں،زیادہ تر ہندوستانی نقطہ نظر کی کتابیں مارکیٹ میں ملتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسرت عالم،یسین ملک آسیہ اندرابی کی قربانی آج بھی دنیا میں اس طرح پیش نہیں کی جاتیں،مقبول بٹ شہید کا جسد خاکی دہلی کی تہاڑ جیل میں موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی عدالتوں نے کشمیر کے مسلمانوں کو کبھی انصاف نہیں دیا،ہندوستان کی جمہوریت وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے کشمیر کی سرحد شروع ہوتی ہے۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 6 نومبر کے واقعے نے کشمیر کی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں ،1846 میں انگریزوں اور ڈوگرہ راج کے درمیان ایک سیل ڈیل طے ہوئی،اس ڈیل کے تحت ایک قوم اور اس کے دریاؤں کو سستا بیچا گیا،کشمیر کے ساتھ ظلم 1846 میں بھی ہوا،اپنی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پر غور و فکر کرنا ہوگا،3 جون کے منصوبے کے تحت شاہی ریاستوں کو فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا،اس منصوبے کے تحت خودمختار رہنے کا کوئی آپشن نہیں تھا،جونا گڑھ کے مہاراجہ نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا اور انڈیا نے اس پر اعتراض کیا۔

انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کا حکمران مہاراجہ ہری سنگھ لیت و لعل کرتا رہا،مہاراجہ ہری سنگھ نے پاکستان اور بھارت دونوں کو جوں کا توں معاہدہ آفر کیا،کشمیر کے مسلمان مطمئن اس لیے تھے کہ انڈیا کے پاس کشمیر میں پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں تھا،ریڈ کلف ایوارڈ کے تحت گورداسپور پاکستان کو مل رہا تھا ،اچانک سے گورداسپور انڈیا کے حوالے کیا گیا اور انڈیا کو کشمیر میں داخل ہونے کا راستہ دیا گیا،آج ہم شہدائے جموں کو یاد کر رہے ہیں،آج کے دن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ سب لوگوں نے کسی مقصد کے لیے قربانیاں دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج جموں کشمیر کو تقسیم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں،پورے جموں کشمیر کو ہندوستان سے آزاد کر کے پاکستان کا حصہ بنانا چاہتے ہیں،ہم کوئی نیا فارمولا دریافت نہیں کر رہے بلکہ یہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں موجود ہے۔

مزید خبریں