سمرقند۔6نومبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے ازبکستان کے شہر سمرقند میں جاری اقوامِ متحدہ کے تعلیمی، سائنسی و ثقافتی ادارے (یونیسکو) کی 43ویں جنرل کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے غزہ میں تعلیمی اور ثقافتی ڈھانچے کی بحالی میں یونیسکو کے قائدانہ کردار ادا کرنے پر زور دیا ۔ اس اجلاس میں 194 رکن ممالک کے نمائندے شریک تھے۔اپنے خطاب میں …
وزیر مملکت وجیہہ قمر کی یونیسکو جنرل کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی ، غزہ میں تعلیمی اور ثقافتی ڈھانچے کی بحالی میں قائدانہ کردار ادا کرنے پر زور دیا

مزید خبریں
سمرقند۔6نومبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے ازبکستان کے شہر سمرقند میں جاری اقوامِ متحدہ کے تعلیمی، سائنسی و ثقافتی ادارے (یونیسکو) کی 43ویں جنرل کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے غزہ میں تعلیمی اور ثقافتی ڈھانچے کی بحالی میں یونیسکو کے قائدانہ کردار ادا کرنے پر زور دیا ۔ اس اجلاس میں 194 رکن ممالک کے نمائندے شریک تھے۔اپنے خطاب میں وجیہہ قمر نے تعلیم، سائنس، ثقافت اور ابلاغ کے فروغ کے لیے یونیسکو کے مشن سے پاکستان کی غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں جب دنیا کو تنازعات، غلط معلومات، عدم برداشت اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، بین الاقوامی تعاون اور کثیرالجہتی روابط کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔
وزیر مملکت نے پاکستان میں تعلیمی اصلاحات کے حوالے سے حکومت کی ترجیحات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حکومت تعلیم کو جامع، جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ اور ہنرمندانہ بنیادوں پر استوار کر رہی ہے تاکہ نوجوان صرف روزگار کے لیے نہیں بلکہ مستقبل کے چیلنجز کے لیے بھی تیار ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان افغانستان، فلسطین، افریقہ اور چھوٹے جزیرہ نما ترقی پذیر ممالک کے طلبا کے لیے تعلیمی معاونت فراہم کر رہا ہے اور افغانستان کے مختص ساڑھے چار ہزار سکالر شپس میں سے ایک تہائی خواتین کے لیے ہیں۔
وجیہہ قمر نے عالمی سطح پر تعلیمی بحرانوں کا ذکر کرتے ہوئے یونیسکو پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی کے بعد غزہ میں تعلیمی اور ثقافتی ڈھانچے کی بحالی میں قائدانہ کردار ادا کرے اور دنیا بھر میں سکول سے باہر 27 کروڑ سے زائد بچوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے مزید موثر اقدامات کرے۔انہوں نے یونیسکو کے اندر ادارہ جاتی اصلاحات، شفافیت، رکن ممالک کی شمولیت اور مالی پائیداری کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ تنظیم کے بنیادی اہداف مؤثر انداز میں حاصل کیے جا سکیں۔
وزیر مملکت نے یونیسکو کے سائنسی پروگرامز، بشمول بین الحکومتی بحریاتی کمیشن، ہائیڈرولوجیکل پروگرام اور "مین اینڈ دی بایوسفیئر” پروگرام کے لئے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ یہ پروگرام عالمی سطح پر پائیداری اور چیلنجز کا سامنا کرنے کی استعداد کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان یونیسکو اور اس کے رکن ممالک کے ساتھ مل کر عالمی امن، مکالمے اور تعاون کو فروغ دینے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔







