اسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعہ میثاق جمہوریت کے ادھورے وعدوں کوپورا کیا جا رہاہے،آئینی عدالت کا قیام ہماری تاریخی کامیابی ہے، اٹھارویں آئینی ترمیم سے پاکستان میں علیحدگی پسندی کی سیاست کاخاتمہ کردیاگیاہے۔ بدھ کوقومی اسمبلی میں 27ویں آئینی ترمیم پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے بلاول بھٹوزرداری نے کہاکہ ملک کے مختلف حصوں میں …
27ویں آئینی ترمیم کے ذریعہ میثاق جمہوریت کے ادھورے وعدوں کو پورا کیا جارہاہے،آئینی عدالت کاقیام ہماری تاریخی کامیابی ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری کاقومی اسمبلی میں اظہارخیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعہ میثاق جمہوریت کے ادھورے وعدوں کوپورا کیا جا رہاہے،آئینی عدالت کا قیام ہماری تاریخی کامیابی ہے، اٹھارویں آئینی ترمیم سے پاکستان میں علیحدگی پسندی کی سیاست کاخاتمہ کردیاگیاہے۔
بدھ کوقومی اسمبلی میں 27ویں آئینی ترمیم پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے بلاول بھٹوزرداری نے کہاکہ ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کی ہم مذمت کرتے ہیں اوریاددلاناچاہتاہوں کہ سیاسی،نظریاتی اختلافات ہوسکتے ہیں مگرملک کی سلامتی کے تحفظ اور دہشت گردوں کے خلاف بطورقوم مل کرمقابلہ کرنا ہوگا،پاکستان کی فوج، سیاستدان سول سوسائٹی اور عوام نے پہلے بھی دہشت گردوں کوشکست دی اورمستقبل میں بھی شکست دیں گے،پاکستان کی مسلح افواج اورعوام نے وہ کارنامہ انجام دیا ہے جونیٹوفورسز اور پوری دنیا افغانستان میں نہیں کرسکی تھی،پاکستان کے عوام نے قربانیاں اورشہادتیں دے کردہشت گردوں کوشکست دی اوراب بھی دیں گے۔
انہوں نے کہاکہ ایک سال پہلے 26ویں آئینی ترمیم منظورہوئی، اس میں ہماری کوشش تھی کہ 18ویں ترمیم کی طرح اتفاق رائے کے ساتھ آئین سازی ہوں، اس کے نتیجہ میں آئینی بنچ بن گیا، ہم نے مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کیا، مولانا صاحب نے پی ٹی آئی اور دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کراتفاق رائے حاصل کیا۔ آئینی بینچ کی ترمیم میں تحریک انصاف کے تحفظات کوبھی شامل کیاگیاتھا، جب مولانا فضل الرحمان صاحب ووٹ دے رہے تھے توانہوں نے پی ٹی آئی سے اجازت مانگی تھی، پی ٹی آئی نے ہمارے سامنے مولانا صاحب کوووٹ ڈالنے کی اجازت دیدی تھی۔
انہوں نے کہاکہ27ویں ترمیم کے تحت میثاق جمہوریت کے ادھورے وعدوں کوپوراکررہے ہیں، بھارت کو شکست دینے کے بعدوزیراعظم نے آرمی چیف کوفیلڈمارشل قراردینے کافیصلہ کیا اس عہدے کوتحفظ دینے کیلئے آرٹیکل 243میں ترمیم کی جارہی ہے،ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی ترمیم یاقانون سازی کی طاقت یہ نہیں ہوتی کہ وہ کتنی بھاری اکثریت سے منظورہوتی ہے،قانون سازی کی طاقت اتفاق رائے سے ہوتی ہے۔شہید ذوالفقارعلی بھٹو کے دورمیں تمام سیاسی جماعتوں نے مل کرملک کوآئین دیا جسے کوئی آمربھی نہیں توڑسکتا۔
انہوں نے کہاکہ 2008میں حکومت سنبھالنے کے بعد 18ویں ترمیم کے ذریعہ صوبائی خودمختاری کویقینی بنایاگیا،18ویں ترمیم اتفاق رائے سے منظورہوئی تھی اورکسی میں یہ جرات نہیں کہ وہ اس ترمیم کوختم کرلے، 18ویں ترمیم پرنہ صرف پی پی پی اورمسلم لیگ (ن )بلکہ تمام جماعتوں کے دستخط ہیں، 27ویں آئینی ترمیم کیلئے ہمارے پاس اکثریت ہے مگرافسوس کی بات ہے کہ اس پراتفاق رائے نہیں ہے۔حکومت کی جانب سے ہمیں جوترمیم کاجومسودہ ہمیں ملا ہم اسے اپنی پارٹی کے سینٹرل ایگزیکٹوکمیٹی کے اجلاس میں لے کرگئے، ہم نے دودنوں تک اس کاجائزہ لیااورفیصلہ کیاکہ ہم اس ترمیم کاساتھ دیکرمیثاق جمہوریت کے ادھورے وعدوں کوپوراکریں گے۔
بلاول بھٹونے کہاکہ پاکستان کے فیلڈ مارشل اورہماری مسلح افواج کودنیا میں سراہاجارہاہے، ہماری مسلح افواج نے مودی سرکارکوعبرت ناک شکست دی ہے،بھارت کے چھ جہازگرائے گئے اوربھارت کی اس شکست سے دنیا میں پاکستان کی نئی پہچان بن گئی ہے اورقوم کو طاقت ملی ہے،پی پی پی نے فیصلہ کیا کہ ملک جنگ کے حالات سے گزررہاہے،شکست کے بعدبھارت نے افغانستان کے وزیرخارجہ کی میزبانی کی اوراس کے بعدہماری سرحدوں اورہمارے شہروں میں جوکچھ ہورہاہے وہ پوری قوم کے سامنے ہے،ان حالات کے تناظرمیں پی پی پی نے فیصلہ کیاکہ مسلح افواج کے حوالہ سے آرٹیکل 243میں جوتبدیلیاں کی جارہی ہے پارٹی ان کاساتھ دے گی اور فیلڈمارشل کے عہدے کوآئینی تحفظ فراہم کیاجائے گا۔
بلاول بھٹوزرداری نے کہاکہ اپوزیشن کایہ کام نہیں کہ وہ ایک لیڈرکیلئے رونا دھونا کرے اپوزیشن کاکام یہ ہے کہ وہ حکومت کوجوابدہ بناتے اور کمیٹیوں میں بیٹھ کراپنی سفارشات وتجاویز دیتے۔ آئین سازی میں پی پی پی نے ہمیشہ اپناکرداراداکیاہے،آئینی عدالت کے قیام کی تجویز تسلیم کرنے پرہم حکومت کے مشکورہیں، یہ ایک تاریخی کامیابی ہے،آئینی عدالت میں تمام صوبوں کویکساں نمائندگی ملیگی اوراسے وفاق مضبوط ہو گا۔ ذوالفقارعلی بھٹوکو جس عدالت نے سزائے موت دی تھی اس میں برابری کی بنیادپرنمائندگی نہیں تھی،عدالت کے اس فیصلے سے پاکستان کی وفاق کی بنیادیں ہل گئی تھیں،اس فیصلے کے اثرات ہم آج تک بھگت رہے ہیں آج وہ ایک غلطی کودرست کرنے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پی پی پی، مسلم لیگ (ن) کی جمہوری حکومتوں نے افتخارچوہدری کی ازخودنوٹسز کوبھگتا ہے، کبھی ٹماٹراورکبھی چینی کی قیمت پر سوموٹو لیاجاتاتھا، اسی اختیارکے تحت منتخب وزیراعظم کی توہین کی جاتی تھی،منتخب نمایندوں کی تذلیل کی جاتی تھی،اسی اختیارکواستعمال کرتے ہوئے چیف جسٹس ڈیم بنانے نکل پڑتے تھے،اس آئینی ترمیم کے بعدیہ راستہ بندکردیاگیاہے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری طویل جدوجہد میں یہ ایک بڑی کامیابی ہے،
میں اپنے اتحادیوں کویاددلانا چاہتا ہوں کہ ہمیں میثاق جمہوریت کے باقی نکات پربھی عملدرآمدکرنا پڑے گا،ہمیں ٹروتھ اینڈ ری کنسلیشن کمیشن کی طرف بڑھنا ہوگا، جب تک سیاستدان اپنی قسمت اپنے ہاتھ میں نہیں رکھتے اورایک دوسرے کواحترام نہیں دیتے اس وقت تک یہ ہائوس اورملک درست طورپرآگے نہیں بڑھ سکتا، اپوزیشن اختلاف کرے اوراحتجاج کرے مگرسیاسی میدان اورپارلیمان نہ چھوڑے، ڈیڈلاک سے نکلنے کیلئے مذاکرات کے دروازے کھولنے ہوں گے،انہوں نے کہاکہ صوبوں کی خودمختاری کے خلاف شقوں کی ہم حمایت نہیں کرسکتے، ہم ملک کی معاشی ترقی چاہتے ہیں مگراس کیلئے صوبائی خودمختاری پرکوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے، جب سے صوبائی حکومتوں کوبعض ٹیکسوں میں اجازت ملی ہے اس وقت سے ٹیکس محصولات میں صوبوں کی کارگردگی بہترہوئی ہے۔
اگرایف بی آر اورمالیاتی ادارے ٹیکس اکھٹے کرنے میں ناکام ہیں تواس کی سزاپنجاب اوردیگرصوبوں کونہیں ملنی چاہئے۔ٹیکس وصولی کی ذمہ داریاں صوبوں کو دی جائے اس سے بہترنتائج سامنے آئیں گے۔بلاول بھٹوزرداری نے کہاکہ اٹھارویں آئینی ترمیم سے پاکستان میں علیحدگی پسندی کی سیاست کاخاتمہ کردیاگیا تھااسلئے ایسا کوئی فیصلہ نہ کیاجائے جس سے علیحدگی پسندوں کودوبارہ آنے کاموقع ملے۔بلوچستان کے فیصلے کوئٹہ،اورسندھ کے فیصلے کراچی میں ہونا چاہیے۔پی پی پی اختیارات کی نچلی سطح پرمنتقلی کی واپسی کیلئے تیارنہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ عدلیہ میں اصلاحات کیلئے ہماری تجاویز کوتسلیم کیاگیاہے جس پرہم حکومت کے شکرگزارہیں،اب کسی جج کوجبری طورپرریٹائرنہیں کیاجاسکے گا۔انہوں نے کہاکہ مقامی حکومتوں کوبااختیاربنانا ہماری بھی پالیسی ہے، اس حوالہ سے ترمیم کاجائزہ لیاجائیگا، تمام صوبوں میں بلدیاتی نظام موجودہیں۔سندھ میں جوبلدیاتی نظام موجودہے اس میں مقامی حکومتوں کو دیگرصوبوں کے مقابلہ میں زیادہ اختیارات دئیے گئے ہیں،جنوبی پنجاب پراتفاق رائے موجودہے،اگر اس پرآگے بڑھ سکتے ہیں توہمیں خوشی ہوگی۔الیکشن کمیشن کے حوالہ سے ڈیڈلاک کو جمہوری اندازمیں ختم کریں گے۔میری حکومت سے درخواست ہے کہ ہائوس اورسیاسی جماعتیں اس کی طاقت ہے،تمام سیاسی جماعتوں کی سفارشات اورتجاویزسے حکومت کوفائدہ پہنچے گا۔








