قومی اسمبلی نے 27 ویں آئینی ترمیم کی بعض ترامیم کے ساتھ دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظوری دے دی

اسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):قومی اسمبلی نے 27 ویں آئینی ترمیم کی بعض ترامیم کے ساتھ دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظوری دے دی۔بدھ کو قومی اسمبلی میں سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بدھ کو پیش کی گئی 27 ویں ترمیم کو سینٹ سے منظور کردہ صورت میں فی الفور زیر غور لانے کی تحریک منظوری کے لئے پیش کی،تحریک کے حق میں 231 اور مخالفت میں 4 …

اسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):قومی اسمبلی نے 27 ویں آئینی ترمیم کی بعض ترامیم کے ساتھ دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظوری دے دی۔بدھ کو قومی اسمبلی میں سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بدھ کو پیش کی گئی 27 ویں ترمیم کو سینٹ سے منظور کردہ صورت میں فی الفور زیر غور لانے کی تحریک منظوری کے لئے پیش کی،تحریک کے حق میں 231 اور مخالفت میں 4 ممبران نے رائے دی۔قبل ازیں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے گزشتہ روز 27 ویں ترمیم کو سینٹ سے منظور کردہ صورت میں زیر غور لانے کی تحریک پیش کی تھی، اس پر ایوان میں سیر حاصل بحث کرائی گئی۔

بعد ازاں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں ترمیم کے بل میں بعض ترامیم پیش کیں،انہوں نے آرٹیکل 6 میں ترمیم پیش کی جس کی ایوان نے منظوری دے دی،وزیر قانون نے نئی شق 2 اے پیش کی،جس کے مطابق آرٹیکل 10 میں ترمیم کی گئی،ایوان نے اس کی بھی دو تہائی اکثریت سے منظوری دے دی۔وزیر قانون نے شق 23 میں ترمیم پیش کی کہ موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان ہی اپنی مدت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان رہیں گے۔شق وار منظوری کے دوران 233 ممبران نے شقوں کے حق اور 4 ممبران نے اس کی مخالفت کی۔سنی اتحاد کونسل اورآزاد اپوزیشن ارکان ایوان سے باہر چلے گئے اور انہوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔شق وار منظوری کے بعد وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بل منظوری کے لئے پیش کیا جس کے حق میں 234 اور مخالفت میں 4 ووٹ پڑے۔

اس طرح ایوان نے دو تہائی اکثریت سے منظوری دے دی۔بل کے حق 233 ووٹ پڑے۔اس ترمیم کے بعد جوڈیشل و آئینی امورکی سماعت کے لئے الگ آئینی عدالت قائم کی جائے گی،آرٹیکل 243 میں ترمیم کرکے فیلڈ مارشل کا عہدہ تاحیات اور تینوں مسلح افوج کے سربراہ کے لئے چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ تخلیق کیاگیا ہے جس پر تقرری وزیر اعظم کی ایڈوائس پر صدر مملکت کرے گاجبکہ چیئرمین جوائنٹس چیف آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ 27 نومبر 2025 سے ختم ہو جائے گا۔آرٹیکل 243 میں ترمیم کے تحت وزیر اعظم چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر نیشنل سٹرٹیجک کمانڈ کے کمانڈر کا تقرر کرے گا۔

ترمیم کے مطابق ازخود نوٹس کا اختیار ختم کردیا گیا ہے۔اس ترمیم کے تحت ہائی کورٹ کے ججوں کا اب ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائی کورٹ میں تبادلہ کیا جاسکے گا۔27 ویں ترمیم میں کل 59 شقیں شامل ہیں،صدر کو عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اس کواستثنیٰ حاصل ہوگاتاہم اگر وہ دوبارہ اگر کوئی پبلک آفس لے گا تو اس کا استثنیٰ ختم کردیا جائے گا۔آرٹیکل 209 میں ترمیم کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کی ہیئت اس طرح ہوگی کہ وفاقی آئینی عدالت کا چیف جسٹس، سپریم کورٹ آف پاکستان کا چیف جسٹس،دونوں عدالتوں کے ایک ایک موسٹ سینئر ججز،دو سال کے لئے سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس صاحبان کی جانب سے نامزد ایک جج،دو سینئر ترین ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان شامل ہوں گے۔

سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس میں سے جو سینئر ہوگا وہ کونسل کا سربراہ ہوگا۔آرٹیکل 206 میں ترمیم کے تحت ہائی کورٹ کا کوئی جج جو وفاقی آئینی عدالت یا سپریم کورٹ آف پاکستان میں بطور جج تعیناتی سے انکار کرے گا یا سپریم کورٹ کا کوئی ایسا جج سےجو وفاقی آئینی عدالت میں تعیناتی قبول نہیں کرے گا وہ اپنے عہدے سے سبکدوش تصور ہوگا۔آرٹیکل 239 میں ترمیم کے تحت کسی آئینی ترمیم پر کسی عدالت کی جانب سے سوال نہیں اٹھایا جاسکے گا۔آرٹیکل 260 میں ترمیم کے تحت نئی شق 260 اے کے تحت سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت میں پہلی مدت کے بعد جو دونوں عدالتوں میں جو سینئر ہوگا وہ چیف جسٹس آف پاکستان کہلائے گا۔

شق وار منظوری کے بعد سپیکر نے بل کی منظوری کے طریقہ کار سے آگاہ کیا۔اس کے بعد 5 منٹ تک گھنٹیاں بجائی گئیں۔27 ویں ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والے ممبران سپیکر کے دائیں طرف کی گیلریوں کی طرف گئے جبکہ مخالفت میں ووٹ ڈالنے والے ممبران بائیں طرف کی گیلری میں گئے۔آرٹیکل 175 کے تحت وفاقی آئینی عدالت کا قیام عمل میں لایا جائے گا، اس میں تمام صوبوں سے ججز کی مساوی نمائندگی ہوگی اور کم سے کم ایک جج اسلام آباد ہائی کورٹ سے لیاجائے گا۔

ججز تعیناتی کے لئے ضروری ہے کہ وہ سپریم کورٹ کا جج ہو یا رہا ہو،ہائی کورٹ میں بطور جج 5 سال تک خدمات سرانجام دی ہوں،ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کا 20 سال کا بطور وکیل تجربہ ہو۔وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کا حلف صدر مملکت لے گا جبکہ ممبر ججز سے چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت حلف لیں گے۔آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت سپریم کورٹ یا آئینی بنچز کے پاس اس ترمیم کی منظوری تک تمام پٹیشنز،اپیلیں، اس آرٹیکل کے تحت پاس احکامات پر نظر ثانی کی درخواستیں،التواء کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کی جائیں گی۔وفاقی آئینی عدالت کے ججز کے لئے عمر 68 سال مقرر کی گئی ہے۔

مزید خبریں