اراکین سینیٹ کاسینیٹر عرفان صدیقی کی سیاسی، پارلیمانی اور علمی خدمات کو خراج عقیدت

اسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):اراکین سینیٹ نے سینیٹر عرفان صدیقی کی سیاسی، پارلیمانی اور علمی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ بدھ کو ایوان بالا کے اجلاس میں مختلف سینیٹرز نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے مرحوم کی علمی، ادبی، سیاسی اور پارلیمانی خدمات کو سراہا اور ان کی وفات کو قومی نقصان قرار دیا۔نائب صدر پاکستان پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ سینیٹر عرفان صدیقی کی وفات …

اسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):اراکین سینیٹ نے سینیٹر عرفان صدیقی کی سیاسی، پارلیمانی اور علمی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ بدھ کو ایوان بالا کے اجلاس میں مختلف سینیٹرز نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے مرحوم کی علمی، ادبی، سیاسی اور پارلیمانی خدمات کو سراہا اور ان کی وفات کو قومی نقصان قرار دیا۔نائب صدر پاکستان پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ سینیٹر عرفان صدیقی کی وفات نہ صرف مسلم لیگ (ن) کے لئے بلکہ ایوانِ بالا اور پاکستان کے فکری و سیاسی منظرنامے کے لئے ناقابلِ تلافی نقصان ہے، سینیٹر عرفان صدیقی علم و وقار، شائستگی و متانت اور فہم و فراست کا وہ امتزاج پیش کرتے تھے جو آج کل کم ہی دکھائی دیتا ہے، سینیٹر عرفان صدیقی کے خیالات میں دلیل، اختلاف میں تہذیب اور مؤقف میں قومی مفاد کا احساس نمایاں تھا، ایوانِ بالا میں ان کی گفتگو ہمیشہ وقار، بصیرت اور نرمی کا مظہر رہی۔

انہوں نے کہا کہ وہ 2021 میں پنجاب کی نشست سے سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے اور اپنی مدتِ رکنیت کے دوران دیانت، بردباری اور دانش کے ساتھ خدمات انجام دیتے رہے۔ شیری رحمان نے کہا کہ بحیثیت پارلیمانی قائد مسلم لیگ (ن) سینیٹ میں اور بطور چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے خارجہ، انہوں نے ہمیشہ توازن، تدبر اور قومی مفاد کو مقدم رکھا، سینیٹر عرفان صدیقی کی خارجہ پالیسی پر آراء ہمیشہ گہرے تجربے اور مطالعہ کی عکاس تھیں اور وہ جانتے تھے کہ سفارتکاری کا راستہ ہمیشہ مکالمہ، فہم اور برداشت سے گزرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاست میں آنے سے پہلے وہ صحافت اور ادب میں ایک معتبر نام تھے اور ان کا قلم سچائی، شفافیت اور وطن دوستی کا علمبردار تھا، ان کے کالم ملک بھر میں پڑھے جاتے تھے اور ان کے پڑھنے والے بھی ان سے بہت کچھ سیکھتے تھے، ہر کردار میں انہوں نے دیانت، نظم و ضبط اور جمہوری اقدار سے وابستگی کو اپنا اصول بنایا اور ان کی شخصیت میں ٹھہراؤ، وقار اور فکری گہرائی تھی، ان کی انکساری، دانش اور شرافت ہم سب کے لئے ایک مثال اور میراث ہے۔ شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور میں مرحوم کے اہلِخانہ، مسلم لیگ (ن) کے رفقاء اور ان کے علم دوستی اور دیانت کے سبب احترام کرنے والوں سے دلی تعزیت کرتی ہوں، اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا ء فرمائے اور لواحقین کو صبر و حوصلے سے یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق دے۔

سینیٹر دوست محمد خان نے کہا کہ عرفان صدیقی نہایت نرم مزاج اور باوقار انسان تھے،سینیٹر شہادت اعوان نے عرفان صدیقی کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک سیلف میڈ انسان تھے جنہوں نے بطور پرائمری سکول ٹیچر، ریڈیو پاکستان کے ڈرامہ نگار اور کالم نگار اپنی شناخت قائم کی، ان کے کالم نقش خیال نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ عرفان صدیقی نہ صرف علم و ادب کے استاد تھے بلکہ اخلاق اور محبت کے بھی معلم تھے۔ انہوں نے کبھی کسی کی دل آزاری نہیں کی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ جس ہاتھ نے عمر بھر قلم تھامے رکھا اسے ہتھکڑی پہنائی گئی ،یہ دن کبھی نہیں آنا چاہئے تھا۔

سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ سینیٹر عرفان صدیقی کے انتقال پر دلی دکھ ہوا،ہم ان کے اہلخانہ اور سوگواران کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہیں، ان کی نماز جنازہ میں وفاقی وزراء اور ارکان پارلیمنٹ نے شرکت کی ہے۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ عرفان صدیقی خوش مزاج، ملنسار اور ہمدرد انسان تھے، وہ ایوان کے ممبران کے ساتھ دوستانہ اور خوشگوار تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹر عرفان صدیقی بہت اچھے دوست تھے، ان کی یادیں مدتوں یاد رہیں گی۔

سینیٹر منظور کاکڑ نے کہا کہ عرفان صدیقی ایک شفیق اور پیار کرنے والے انسان تھے، جن سے سب نے سیکھا، ان کے جانے سے ایوان اور ان کی جماعت میں ایک نہ پُر ہونے والا خلاء پیدا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ سینیٹر عرفان صدیقی کی خدمات کو سراہتے ہیں، سوچ، نظریہ اور سیاست الگ ہونے کے باوجود ہم آپس میں جڑے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے، ان کا انتقال نہ صرف پوری قوم بلکہ پورے ملک کا نقصان ہے۔

سینیٹر نسیمہ احسان نے کہا کہ عرفان صدیقی فہم و فراست رکھنے والے مدبر انسان تھے جو حقائق جانے بغیر کبھی رائے نہیں دیتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹر عرفان صدیقی کے انتقال سے پیدا ہونے والا خلاء پر نہیں ہو سکتا، وہ انتہائی شریف النفس انسان تھے ۔سینیٹر طاہر خلیل سندھو نے کہا کہ عرفان صدیقی دوسروں کے دکھوں کا خیال رکھنے والے اور محبت بانٹنے والے انسان تھے ، سینیٹر عرفان صدیقی سے لوگ بہت پیار کرتے تھے۔

سینیٹر جان بلیدی نے کہا کہ عرفان صدیقی ایک سنجیدہ، باحوصلہ اور دھیمے لہجے کے دانشور تھے جنہوں نے ہر میدان میں شائستگی اور متانت کے ساتھ اپنی رائے دی۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ موت برحق ہے، سینیٹر عرفان صدیقی اچھے انسان تھے۔

سینیٹرز جان محمد، مولانا عبدالواسع، وقار مہدی، ثمینہ ممتاز زہری نے بھی تعزیتی ریفرنس پر اظہار خیال کیا اور سینیٹر عرفان صدیقی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کی علمی ،سماجی ،سیاسی اور پارلیمانی خدمات کو سراہا۔اراکینِ سینیٹ نے مرحوم کے لئے مغفرت اور بلندی درجات کی دعا کی اور ان کے اہلِخانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔

مزید خبریں