اسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس (آئی ایس سی ) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آذربائیجان، ملائیشیا اور مالدیپ کے پارلیمانی رہنماؤں نے عالمی تنازعات، عدم تحفظ اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے بین الپارلیمانی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ پارلیمانوں کو عالمی امن، انصاف اور پائیدار ترقی کے فروغ میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا …
پارلیمانی رہنماؤں کا امن، انصاف اور پائیدار ترقی کے فروغ میں پارلیمان کے مؤثر کردار پر زور

مزید خبریں
اسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس (آئی ایس سی ) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آذربائیجان، ملائیشیا اور مالدیپ کے پارلیمانی رہنماؤں نے عالمی تنازعات، عدم تحفظ اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے بین الپارلیمانی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ پارلیمانوں کو عالمی امن، انصاف اور پائیدار ترقی کے فروغ میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہئے۔سینیٹ آف پاکستان کی میزبانی میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آذربائیجان کی ملی مجلس (پارلیمان) کے پہلے نائب سپیکر علی احمدوف نے کہا کہ یہ کانفرنس ’’پارلیمانی سفارتکاری کے ایک نئے باب‘‘ کا آغاز ہے جو دنیا کو مکالمے اور تعاون کے ذریعے عالمی خطرات اور انسانی بحرانوں کا اجتماعی طور پر مقابلہ کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی دور اندیش قیادت اور پرتپاک مہمان نوازی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے آذربائیجان کی سپیکر صاحبا غفاروا کے نیک جذبات بھی پہنچائے۔علی احمدوف نے کہا کہ آذربائیجان انصاف اور امن کے فروغ کے لئے پرعزم ہے اور 2020 میں صدر الہام علیوف کی قیادت میں اپنی مقبوضہ زمینوں کی آزادی اس بات کا ثبوت ہے کہ جارحیت کے مقابلے میں انصاف بالآخر غالب آتا ہے۔انہوں نے پاکستان کی جانب سے آذربائیجان کی پہلی اور دوسری کاراباخ جنگوں میں غیر متزلزل حمایت کو ’’بھائی چارے اور انصاف پر ایمان‘‘ کا مظہر قرار دیا۔
انہوں نے جموں و کشمیر کے تنازعہ پر آذربائیجان کے اصولی مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کا پُرامن حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ہونا چاہئے۔علی احمدوف نے خطے میں امن کے فروغ کے لئے آذربائیجان کے ’’گریٹ ریٹرن‘‘ منصوبے اور جنگ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو کا ذکر کیا جبکہ ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے باكو میں کوپ-29 کے کامیاب انعقاد کو آذربائیجان کی سبز ترقی میں قیادت کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے اس موقع پر پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی شرکت پر بھی شکریہ ادا کیا۔ملائیشیا کی سینیٹ کے نائب صدر سینیٹر نور جزلان بن محمد نے کہا کہ دنیا اس وقت دوسری جنگِ عظیم کے بعد سب سے زیادہ فعال تنازعات کا سامنا کر رہی ہے اور مسلح جھڑپوں، دہشت گردی، موسمیاتی تبدیلی اور سائبر خطرات جیسے بحران ایک ساتھ بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ پارلیمانوں کو صرف بین الاقوامی معاہدوں کی توثیق تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ ان پر عملدرآمد کے لئے مضبوط ملکی قانون سازی کرنی چاہئے تاکہ ان معاہدوں کو ’’حقیقی قوت‘‘ مل سکے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ دفاع، بجٹ اور ترقیاتی ترجیحات جیسے معاملات پر حکومتوں کو جوابدہ بنائیں تاکہ فیصلے عوام کی امنگوں کے مطابق ہوں۔سینیٹر جزلان نے کہا کہ پارلیمانی سفارتکاری ایک اہم پل کا کردار ادا کرتی ہے کیونکہ قانون سازوں کے پاس وہ لچک اور عوامی جواز ہوتا ہے جو روایتی سفارتکاری میں اکثر کمی رہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملائیشیا ’’فعال غیر جانب داری‘‘ کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے جو شراکت داری اور عالمی مسائل پر قائدانہ کردار کو فروغ دیتے ہوئے خودمختاری اور باہمی احترام کو یقینی بناتی ہے۔
انہوں نے آسیان ممالک اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان پارلیمانی تعاون کو مزید گہرا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔مالدیپ کی عوامی مجلس کے سپیکر عبدالرحیم عبداللہ نے عام مباحثے میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ امن، سلامتی اور ترقی ہماری زندگی کی ناقابلِ تقسیم حقیقتیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا کو درپیش بحران جیسے سمندری سطح میں اضافہ، ماحولیاتی تباہی اور معاشرتی عدم استحکام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ان کا حل صرف اجتماعی مکالمے اور پارلیمانی اشتراک کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پائیدار ترقی کے بغیر حقیقی سلامتی ممکن نہیں، اور سلامتی کے بغیر پائیدار امن نہیں آ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانوں کو ایک غیر مستحکم دنیا میں انسانی وقار اور انصاف کے تحفظ کے لئے صفِ اول کا کردار ادا کرنا چاہئے۔مالدیپ کے سپیکر نے اپنے ملک کے کثیرالجہتی نظام اور قواعد پر مبنی عالمی نظم کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے آئی ایس سی کے انعقاد پر خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے یقین دلایا کہ مالدیپ اسلام آباد اعلامیے کی تشکیل میں سرگرم کردار ادا کرے گا جو اس سال کے اوائل میں منظور شدہ سیول اعلامیہ کی روح کو آگے بڑھائے گا۔








