اسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):پاکستان اور فرانس کے سفارتخانے کے اشتراک سے ’’پاکستان کی معدنی معیشت: گیٹ وے ٹو گروتھ کے عنوان سے اعلیٰ سطحی ویبنار کا انعقاد کیا گیا۔ ویبنار کا مقصد پاکستان کے وسیع معدنی وسائل کو اجاگر کرنا اور فرانسیسی کمپنیوں و سرمایہ کاروں کے لئے معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دینا تھا۔ بدھ کوترجمان پٹرولیم ڈویژن کے مطابق …
پاکستان اور فرانس کے سفارتخانہ کے اشتراک سے ’’پاکستان کی معدنی معیشت: گیٹ وے ٹو گروتھ ” کے عنوان سے اعلیٰ سطحی ویبنار

مزید خبریں
اسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):پاکستان اور فرانس کے سفارتخانے کے اشتراک سے ’’پاکستان کی معدنی معیشت: گیٹ وے ٹو گروتھ کے عنوان سے اعلیٰ سطحی ویبنار کا انعقاد کیا گیا۔ ویبنار کا مقصد پاکستان کے وسیع معدنی وسائل کو اجاگر کرنا اور فرانسیسی کمپنیوں و سرمایہ کاروں کے لئے معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دینا تھا۔ بدھ کوترجمان پٹرولیم ڈویژن کے مطابق آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) میں منعقدہ اجلاس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیر برائے پٹرولیم ڈویژن علی پرویز ملک اور پاکستان میں فرانس کے سفیر نکولس گیلے نے کی۔
فرانس کی جانب سے صدرِ فرانس کے مشیر برائے کان کنی و سٹرٹیجک منرلز کے لئے بین الوزارتی مندوب بینجمن گیلیزوٹ نے آن لائن فرانسیسی وفد کی قیادت کی۔ویبنار میں وزارتِ توانائی،سپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل ، پاکستان کی نمایاں منرل و انرجی کمپنیوں اور فرانسیسی کاروباری نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں پاکستان کی فرانس میں سفیرممتاز زہرہ بلوچ نے بھی آن لائن شرکت کی۔شرکاء میں ایم ڈی/سی ای او، او جی ڈی سی احمد حیات لک، جی ایچ پی ایل، پی پی ایل اور پی ایم ڈی سی کے منیجنگ ڈائریکٹرز، ڈائریکٹر جنرل مائنز اور دیگر سرکاری و نجی شعبے کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔متعدد فرانسیسی کمپنیاں اور سفارتی نمائندے بھی آن لائن شریک ہوئے اور پاکستان کے معدنیات کے شعبے میں بمی دلچسپی کے شعبوں اور ممکنہ شراکت داری کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔
وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان تانبے، سونے اور نایاب معدنیات سے مالا مال ملک ہے، جو صاف توانائی کی ٹیکنالوجیز اور الیکٹرک گاڑیوں کی عالمی منتقلی کے لئے ناگزیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت شفاف اور پائیدار معدنیات کے شعبے کے فروغ کے لئے پرعزم ہے تاکہ قومی ترقی کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی کی ضروریات بھی پوری کی جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں گرین انرجی کی جانب تبدیلی کے باعث تانبہ، لیتھیئم اور نایاب معدنیات مستقبل کی ٹیکنالوجی کے لئے کلیدی حیثیت اختیار کر چکی ہیں، بلوچستان کی چاغی بیلٹ سمیت پاکستان کے معدنی وسائل سرمایہ کاری کے لئے وسیع مواقع فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ایس آئی ایف سی کے ذریعے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے اور مضبوط طویل مدتی شراکت داری قائم کرنے کے لئے ایک شفاف ریگولیٹری فریم ورک فراہم کر رہی ہے تاکہ طویل مدتی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت نے معدنیات کے شعبے میں کاروبار میں آسانی کے لئے متعدد اقدامات کئے ہیں جن میں قومی معدنیات ہم آہنگی کے فریم ورک کی ترقی، ارضیاتی ڈیٹا کی ڈیجیٹلائزیشن اورجیو لوجیکل سروے آف پاکستان کی بحالی شامل ہیں، ان اقدامات کا مقصد ممکنہ سرمایہ کاروں کے لئے زیادہ شفافیت اور ڈیٹا تک رسائی کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2025 کی کامیابی کے بارے میں بھی آگاہ کیا جس میں 50 سے زائد ممالک کے 5 ہزار سے زیادہ مندوبین نے شرکت کی اور 16 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔ اگلا فورم اپریل 2026 میں منعقد ہوگا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ایم آئی ایف سرمایہ کاروں، ماہرین اور کمپنیوں کو اکٹھا کرنے کے لئے ایک عالمی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے جو پاکستان کے معدنیات کی شعبے میں بین الاقوامی تعاون کے لئے ایک گیٹ وے پیش کرتا ہے۔اس موقع پر فرانسیسی سفیر نکولس گیلی نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کی حکومتی کوششوں کو سراہاتے ہو ئے کہا کہ فرانسیسی کمپنیاں پاکستان کے معدنی شعبے میں شراکت داری کے مواقع میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فرانس پاکستان کے معدنی وسائل میں بے پناہ امکانات دیکھتا ہے اور ہم معلومات اور مہارت کے تبادلے کے ذریعے تعاون کو مزید گہرا کرنا چاہتے ہیں۔صدرِ فرانس کے مشیر برائے کان کنی بینجمن گیلیزوٹ نے کہا کہ یہ فورم فرانسیسی کمپنیوں کے لیے پاکستان کے معدنی شعبے میں موجود مواقع اجاگر کرنے میں انتہائی مفید ثابت ہوگا۔ایم ڈی او جی ڈی سی احمد حیات لک نے کہا کہ پاکستانی کمپنیاں موجودہ اور آئندہ منصوبوں میں فرانسیسی کمپنیوں کے ساتھ شراکت کے لئے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی منرل انڈسٹری سرمایہ کاری کے وسیع مواقع فراہم کرتی ہے، اور ہم ہم فرانسیسی کمپنیوں کو خوش آمدید کہتے ہیں تاکہ مشترکہ منصوبوں کے ذریعے باہمی ترقی حاصل کی جا سکے۔ ویبنار کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اور فرانس کے اسٹیک ہولڈرز مستقبل میں معدنیات کی تلاش، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور پائیدار کان کنی کے شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے کے لئے باہمی روابط جاری رکھیں گے۔








