کینبرا۔13نومبر (اے پی پی):آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریا نے ملک کی تاریخ میں پہلی بار مقامی (آبائی) باشندوں کے ساتھ معاہدے کو باضابطہ طور پر قانون کی شکل دے دی، جسے ماہرین نے مصالحت کی سمت ایک تاریخی قدم قرار دیا ہے۔رائٹرز کے مطابق اس معاہدے کے تحت مقامی اقوام کو اُن معاملات پر زیادہ اختیار دیا جائے گا جو براہِ راست اُن کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔یہ معاہدہ …
آسٹریلیا میں پہلی بار مقامی اقوام سے معاہدہ قانون بن گیا، مصالحت کی نئی راہ ہموار

مزید خبریں
کینبرا۔13نومبر (اے پی پی):آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریا نے ملک کی تاریخ میں پہلی بار مقامی (آبائی) باشندوں کے ساتھ معاہدے کو باضابطہ طور پر قانون کی شکل دے دی، جسے ماہرین نے مصالحت کی سمت ایک تاریخی قدم قرار دیا ہے۔رائٹرز کے مطابق اس معاہدے کے تحت مقامی اقوام کو اُن معاملات پر زیادہ اختیار دیا جائے گا جو براہِ راست اُن کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔یہ معاہدہ 12 دسمبر سے نافذالعمل ہوگا۔ اس میں آسٹریلیا کے فرسٹ نیشنز سے باضابطہ معافی شامل ہے اور ایک مستقل نمائندہ ادارہ قائم کیا گیا ہے جو وکٹورین حکومت کو مقامی لوگوں سے متعلق پالیسیوں اور قوانین پر مشورہ دے گا۔
وکٹوریا کی پریمیئر جیسنٹا ایلن نے میلبورن میں منعقدہ دستخطی تقریب میں کہا کہ آج ہماری ریاست کی تاریخ کا نیا باب رقم ہوا ہے۔ جب لوگ اپنی زندگیوں، صحت، رہائش، تعلیم اور ثقافت پر اثر انداز ہونے والے فیصلوں میں خود شامل ہوتے ہیں تو نتائج بہتر آتے ہیں، اور ریاست زیادہ منصفانہ بنتی ہے۔فرسٹ پیپلز اسمبلی کے شریک چیئرمین روبن برگ نے کہا کہ یہ معاہدہ ہمیں ایک بہتر ریاست، بہتر ملک اور بہتر انسان بناتا ہے۔نیو ساؤتھ ویلز یونیورسٹی کے قانون دان پروفیسر ہیری ہابز نے کہا کہ وکٹوریا کا یہ معاہدہ "خودارادیت کے حق کے اعتراف کی ایک بڑی پیش رفت” ہے۔ اُن کے مطابقیہ لمحہ پورے ملک میں آئندہ معاہداتی مذاکرات پر اثر انداز ہوگا۔
ماہرین کے مطابق آسٹریلیا مصالحت کے حوالے سے دیگر نوآبادیاتی ممالک جیسے امریکا، کینیڈا اور نیوزی لینڈ سے پیچھے رہا ہے، کیونکہ وہاں کے برعکس آسٹریلیا نے کبھی مقامی اقوام سے کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں کیا۔ ملک کے تقریباً 10 لاکھ مقامی باشندے زیادہ تر سماجی و معاشی اشاریوں میں قومی اوسط سے پیچھے ہیں۔گزشتہ سال 2023 میں منعقد ہونے والے قومی ریفرنڈم میں، جس میں مقامی باشندوں کی مشاورتی باڈی کو آئین میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی تھی، 60 فیصد ووٹروں اور تمام چھ ریاستوں نے اس کی مخالفت کی تھی — جو مصالحتی عمل کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا۔
وکٹوریا میں اس معاہدے پر بات چیت 2016 میں شروع ہوئی تھی، اور گزشتہ ماہ ریاستی پارلیمنٹ نے اس کی منظوری دی۔ اس قانون کے تحت حکومت مقامی اقوام سے تاریخی ناانصافیوں پر باضابطہ معافی مانگے گی اور ایک ادارہ فرسٹ پیپلز اسمبلی کے نام سے قائم کرے گی، جو مشاورتی کردار ادا کرے گا تاہم اسے حکومتی فیصلوں پر ویٹو کا اختیار حاصل نہیں ہوگا۔








