اسلام آباد۔13نومبر (اے پی پی):ویمن آف دی فیوچر نامی ادارہ نے ''دی کائینڈنیس اینڈ لیڈرشپ: 50 لیڈنگ لائٹس آف ایشیا پیسیفک'' کی 2025 کی فہرست کا اعلان کیا ہے جس میں پاکستان کی سرکاری افسر ظل ہما کا نام بھی شامل ہے۔ فہرست کا اعلان 13 نومبر کوعالمی سطح پر منائے جانے والی دن کے موقع پر کیا گیا ہے۔ اعلیٰ ترین اعزاز پانے والوں کی فہرست میں پاکستان کی …
پاکستان کی سرکاری افسر ظل ہما کا نام’’دی کائینڈ نیس اینڈ لیڈرشپ: 50 لیڈنگ لائٹس آف ایشیا پیسیفک‘‘ کی فہرست میں شامل

مزید خبریں
اسلام آباد۔13نومبر (اے پی پی):ویمن آف دی فیوچر نامی ادارہ نے ”دی کائینڈنیس اینڈ لیڈرشپ: 50 لیڈنگ لائٹس آف ایشیا پیسیفک” کی 2025 کی فہرست کا اعلان کیا ہے جس میں پاکستان کی سرکاری افسر ظل ہما کا نام بھی شامل ہے۔
فہرست کا اعلان 13 نومبر کوعالمی سطح پر منائے جانے والی دن کے موقع پر کیا گیا ہے۔ اعلیٰ ترین اعزاز پانے والوں کی فہرست میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی انفارمیشن گروپ کی ظل ہما بھی شامل ہیں۔ ظل ہما نے اپنی سرکاری ملازمت کے بارہ سالہ کیریئر کے دوران موسمیاتی تبدیلی، انسانی حقوق اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ان کے برطانیہ کی یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے طلباء اور محققین کے ساتھ ورلڈ فرسٹ آکسفورڈ وبائی مرض کوویڈ۔19 ٹریکر تیار کرنے کے سلسلہ میں رضاکارانہ کام کا نہ صرف اعتراف کیا گیا بلکہ اس سے قبل ان کی متعدد شعبوں میں کاوشوں کو بھی قومی اور بین الاقوامی طور پر سراہتے ہوئے اعزازات دیئے گئے جن میں کلائمیٹ ایکسی لینس ایوارڈ 2025، اچیومنٹ ایوارڈ 2025، انٹیگریٹی آئیکون ایوارڈ 2021 اور آگہی ایوارڈ 2018 شامل ہیں۔ ان کا نام برٹش کونسل یوکے ایلومنائی ایوارڈ اور یو کے پوسٹ 20204 کے لیے بھی شارٹ لسٹ ہونے والوں میں بھی شامل ہے۔
ظل ہما چیوننگ اسکالر اور یونیورسٹی آف آکسفورڈ کی پبلک پالیسی میں ماسٹرز کے ساتھ گریجویٹ ہیں جو پالیسی میں جدت طرازی اور ہمدردی پر مبنی قیادت کے ذریعے جامع اور پائیدار ترقی کی چیمپئن بن رہی ہیں۔
ویمن آف دی فیوچر نے دی کائینڈ نیس اینڈ لیڈرشپ: 50 لیڈنگ لائٹس مہم 2018 میں ان لیڈروں کو منانے کے لیے شروع کی تھی جوعملی طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ احسان اور مہربانی ہی کاروبار، معیشت اور معاشرے میں تبدیلی لانے والی قوت ہے۔
یہ اقدام قیادت کے ہمدردی اور تعاون کو اہمیت دینے والے نئے ماڈل کو فروغ دیتا ہے۔ اسے یونیورسٹی آف آکسفورڈ (یو کے) سعد بزنس اسکول، فنانشل ٹائمز اور ایشیا اسکوائر کی حمایت اور تعاون حاصل ہے۔








