ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفیٰ شاہ نے سائبر کرائم سے متعلق سوال قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے سپرد کردیا

اسلام آباد۔13نومبر (اے پی پی):ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفیٰ شاہ نے سائبر کرائم سے متعلق سوال قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے سپرد کردیا جبکہ پارلیمانی سیکرٹری آئی ٹی سبین غوری نے کہا ہے کہ سائبر کرائم سے نمٹنے کے لئے مختلف ادارے فعال ہیں،ملک کے مختلف 20 شہروں میں سافٹ وئیر ٹیکنالوجی پارک بن رہے ہیں، سرگودھا، گوجرانوالہ،سکھر اس میں شامل ہیں۔جمعرات کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات …

اسلام آباد۔13نومبر (اے پی پی):ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفیٰ شاہ نے سائبر کرائم سے متعلق سوال قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے سپرد کردیا جبکہ پارلیمانی سیکرٹری آئی ٹی سبین غوری نے کہا ہے کہ سائبر کرائم سے نمٹنے کے لئے مختلف ادارے فعال ہیں،ملک کے مختلف 20 شہروں میں سافٹ وئیر ٹیکنالوجی پارک بن رہے ہیں، سرگودھا، گوجرانوالہ،سکھر اس میں شامل ہیں۔جمعرات کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران شرمیلا فاروقی کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری آئی ٹی سبین غوری نے بتایا کہ آئی ٹی کے کئی منصوبے تکمیل کے قریب ہیں۔

عالیہ کامران نے کہا کہ سائبر کرائم اہم ایشو ہے،اس حوالے سے حفاظتی اقدامات نہیں اٹھائے گئے،ایوان کے 25فیصد ممبران کے واٹس ایپ ہیک کئے گئے۔سبین غوری نے بتایا کہ سائبر کرائم وزارت داخلہ سے متعلق ہے،ایف آئی اے کا سائبر کرائم کا محکمہ ہے اس سے ہم رابطہ کرتے ہیں،ہمارے پاس کوئی شکایت آتی ہے،ایف آئی اے کی ویب سائٹ پر شکایت درج کرائی جاسکتی ہے،اس کے بعد ہیک ڈیٹا ہولڈ کردیا جاتا ہے اور موثر اقدامات اٹھائے جاتے ہیں،اس کی سزائوں میں بھی اضافی کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہری پور میں اے آئی پارک کے منصوبے پر کام جاری ہے،وزیر اعظم پاکستان کے ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کو ایک سال ہوا ہے اس کی ڈیڈ لائن ہے اس میں کچھ تاخیر ہورہی ہے،اس کے تحت بہت ساری چیزوں پر کام جاری ہے،ہری پور کا منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل اور افتتاح کے لئے تیار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انڈین ریڈیو کے سٹیشن چلتے ہیں،ان کو روکنے کے لئے کیا اقدامات کئے جارہے ہیں۔سبین غوری نے کہا کہ یہ سائبر کرائم کے زمرے میں آتا ہے اور وزارت داخلہ اس کو دیکھتی ہے،آئی ٹی کی وزارت سائبر سکیورٹی کے معاملات دیکھتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ سائبر سکیورٹی کے حوالے سے شکایات سے ہمیں ممبران آگاہ کریں،ہم معاونت کریں گے۔

سبین غوری نے کہا کہ سائبر کرائم کو گھنٹوں میں ریکور کرلیتے ہیں،یہ بہتر کاوش ہے،مستقبل میں کوشش کریں گے کہ اس طرح کے گروپس جعلسازی کی کالز ٹریس کرکے اس کی روک تھام کی جائے۔شازیہ مری نے کہا کہ سائبر کرائم روز بروز بڑھ رہا ہے،روزانہ ایسی کالز کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس پر ایک متفقہ موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

سبین غوری نے کہا کہ مجھے بھی ایسی کالز آئی ہیں، جس نمبر سے کال آتی ہے وہ کمپیوٹر کے ذریعے بنایا نمبر ہوتا ہے اس کو بلاک کرنے کے لئے تیزی سے کام جاری ہے۔ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ سائبر کرائم پر بہت سے ارکان کے تحفظات ہیں،اس کو داخلہ کمیٹی کو ارسال کرتے ہیں،وہاں اس پر غور کیاجائے۔