فیصل آباد۔ 19 نومبر (اے پی پی):گزشتہ کئی برسوں سے سی ایل سی وی کی تباہ کاریوں سے کپاس کی پیداوار بری طرح متاثرہورہی ہے جس کے سدباب کیلئے سائنسدانوں کو آگے بڑھ کر اپنا کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا جبکہ زرعی زمینوں میں نمکیات کی کمی بیشی،کیمیائی عوامل اور وائرس سے کپاس، آم، امردو اور ترشاوہ پھلوں کی پیداوار بھی متاثر ہورہی ہے جسے روکنے کیلئے ہنگامی اقدامات اشد …
کپاس کی فصل کو نقصانات سے بچانے کیلئے سائنسدانوں کوکلیدی کردار ادا کرنا ہوگا،ماہرین زراعت

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 19 نومبر (اے پی پی):گزشتہ کئی برسوں سے سی ایل سی وی کی تباہ کاریوں سے کپاس کی پیداوار بری طرح متاثرہورہی ہے جس کے سدباب کیلئے سائنسدانوں کو آگے بڑھ کر اپنا کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا جبکہ زرعی زمینوں میں نمکیات کی کمی بیشی،کیمیائی عوامل اور وائرس سے کپاس، آم، امردو اور ترشاوہ پھلوں کی پیداوار بھی متاثر ہورہی ہے جسے روکنے کیلئے ہنگامی اقدامات اشد ضروری ہیں نیز ملک سے شیشم اور آم کے درخت تیزرفتاری سے سوکھے پن کا شکار ہوکر ختم ہو رہے ہیں جس کیلئے زرعی ماہرین و سائنسدانوں کو اپنی ٹیکنالوجی نچلی سطح پر لیجا کر درختوں کو سوکھے پن سے بچانے اور پھر سے پیداواریت کا حامل بنانے میں اپنا کردار جنگی بنیادوں پر ادا کرنا ہوگا اسی طرح فصلوں کی ضروریات کے مطابق انہیں زرعی مداخل فراہم کرکے ہی کامیابی کے ساتھ فوڈ سکیورٹی کے اہداف حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
ماہرین زراعت نے بتایاکہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ملک کے طول و عرض میں ترشاوہ پھلوں کے باغات کی اکثریت وائرس سے متاثرہ پودوں پر مشتمل ہے تاہم ہارٹیکلچرل سائنسزکے سائنسدانوں نے باغات میں وائرس فری پودوں کی فراہمی ممکن بناکر پیداواری انحطاط پر کسی حد تک قابو پانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ زرعی ادویات کے بے مہابا استعمال سے نہ صرف زرعی اجناس جمود کا شکار ہیں بلکہ اس سے زمین کی پیداواری صلاحیت اور ماحولیات بھی متاثر ہورہے ہیں لہٰذا فصلوں کی ضروریات کے مطابق انہیں زرعی مداخل کی فراہمی کے ذریعے 25کروڑ عوام کیلئے غذاکی ارزاں فراہمی ممکن بناکر ہی فوڈ سیکورٹی کے اہداف کامیابی کے ساتھ حاصل کئے جا سکتے ہیں۔








