وفاقی آئینی عدالت نے یوٹیلیٹی سٹور کے برطرف سیل مین کو تیاری کے لیے مہلت دے دی

اسلام آباد۔19نومبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے یوٹیلیٹی اسٹور کارپوریشن کے برطرف سیل مین مزمل رفیق کی درخواست کی سماعت کے دوران درخواست گزار کو کیس کی تیاری کے لیے مہلت دیتے ہوئے معاملہ غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا۔ کیس کی سماعت بدھ کو جسٹس حسن رضوی نے کی۔سماعت کے آغاز میں جسٹس حسن رضوی نے درخواست گزار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "وفاقی آئینی عدالت کو …

اسلام آباد۔19نومبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے یوٹیلیٹی اسٹور کارپوریشن کے برطرف سیل مین مزمل رفیق کی درخواست کی سماعت کے دوران درخواست گزار کو کیس کی تیاری کے لیے مہلت دیتے ہوئے معاملہ غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا۔ کیس کی سماعت بدھ کو جسٹس حسن رضوی نے کی۔سماعت کے آغاز میں جسٹس حسن رضوی نے درخواست گزار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "وفاقی آئینی عدالت کو سیاسی اکھاڑہ نہ بنائیں”۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ درخواست گزار نے لاہور ہائی کورٹ میں برطرفی کے خلاف دائر انٹراکورٹ اپیل خود واپس لی تھی۔

اس پر مزمل رفیق نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں عدالت نے اپیل واپس لینے کا مشورہ دیا تھا۔مزمل رفیق نے مؤقف اختیار کیا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز سے 12 ہزار ملازمین کو برطرف کیا گیا ہے، جس پر عدالت نے کہا کہ "12 ہزار ملازموں کی نہیں، آپ اپنی بات کریں”۔ جسٹس حسن رضوی نے استفسار کیا کہ درخواست گزار براہِ راست وفاقی آئینی عدالت کیسے آگئے، اور ہدایت کی کہ کسی وکیل سے مشورہ کر کے آئندہ مؤثر معاونت فراہم کریں۔جسٹس حسن رضوی نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ 27ویں آئینی ترمیم کا مطالعہ کرکے آئندہ سماعت پر عدالت کی مکمل معاونت کریں۔

اس موقع پر عدالت نے یوٹیلیٹی اسٹور کارپوریشن کی انتظامی کارکردگی پر بھی سخت ریمارکس دیے۔ جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ یوٹیلیٹی سٹورز میں کروڑوں اور اربوں روپے کے نقصانات ہوئے، جبکہ متعدد خوردبرد کے واقعات بھی سامنے آئے۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ یوٹیلیٹی سٹورز عوام کے لیے نہیں بلکہ سٹاف نے مزے کیے۔دلائل سننے کے بعد عدالت نے درخواست گزار کی استدعا پر کیس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا اور تیاری کے لیے وقت دے دیا۔