وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا میں سٹون کرشنگ سے متعلق درخواست نمٹا دی

اسلام آباد۔19نومبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا میں سٹون کرشنگ کے حوالے سے دائر درخواست کی سماعت مکمل کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا جبکہ مناسب حکمنامہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بدھ کو کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ستائیسویں آئینی ترمیم کے بعد عدالت کو …

اسلام آباد۔19نومبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا میں سٹون کرشنگ کے حوالے سے دائر درخواست کی سماعت مکمل کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا جبکہ مناسب حکمنامہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بدھ کو کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ستائیسویں آئینی ترمیم کے بعد عدالت کو ازخود نوٹس کا اختیار حاصل نہیں رہا، لہٰذا عدالت اس معاملے پر حتمی فیصلہ دینے سے گریز کرے۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ سٹون کرشنگ کے مقامات فوری طور پر کھولنے کا حکم نہ دیا جائے کیونکہ کرشنگ یونٹس ابتدا میں متعلقہ اداروں کو مطمئن کرنے کے پابند ہیں۔وکیل نے کہا کہ اگر ماحولیات اور دیگر متعلقہ ادارے مطمئن ہوں تو کام کی اجازت بھی وہی ادارے دیں۔

انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت کے نئے قواعد کے مطابق شہری علاقوں میں کرشنگ یونٹس کم ازکم 500 میٹر اور دیہی علاقوں میں 300 میٹر کے فاصلے پر ہونے چاہئیں مگر اس وقت دیہی علاقوں میں محض 60 میٹر کے فاصلے پر سٹون کرشرز چل رہے ہیں۔اس موقع پر جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے کہ کیا سارے عمل پر عمل درآمد ہم نے کروانا ہے؟۔ وکیل نے جواباً کہا کہ عدالت حکومت کو مناسب ہدایات جاری کرسکتی ہے۔ تاہم بینچ نے واضح کیا کہ یہ تمام امور صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہیں اور وہی اس حوالے سے قوانین پر عمل درآمد کرانے کی پابند ہے۔عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر درخواست نمٹا دی اور کہا کہ تفصیلی حکم نامہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔