سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی سوست بارڈر پر مستقبل میں بیک لاگ سے بچنے کے لیے موثر نظام وضع کرنے کی ہدایت

اسلام آباد۔19نومبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ ومحصولات نے سوست بارڈرپرمستقبل میں بیک لاگ سے بچنے کے لیے موثر نظام وضع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا اجلاس بدھ کویہاں پارلیمنٹ ہائوس میں کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں سینیٹر زرقا سہروردی کی جانب سے بعض اسلامی بینکوں کی جانب سے خواتین ملازمین کو عبایا …

اسلام آباد۔19نومبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ ومحصولات نے سوست بارڈرپرمستقبل میں بیک لاگ سے بچنے کے لیے موثر نظام وضع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا اجلاس بدھ کویہاں پارلیمنٹ ہائوس میں کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں سینیٹر زرقا سہروردی کی جانب سے بعض اسلامی بینکوں کی جانب سے خواتین ملازمین کو عبایا پہننے پر مجبور کیے جانے سے متعلق رپورٹس کا معاملہ زیرغور آیا۔

سٹیٹ بینک کے حکام نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ بینکوں کے ڈریس کوڈ کے حوالے سے پالیسیوں میں فرق ہوتا ہے۔ کمیٹی اراکین نے سٹیٹ بینک آف پاکستان سے اس حوالہ سے صرف باوقار اور پیشہ ورانہ لباس کی پابندی لازمی قراردینے پرمبنی ریگولیٹری نوٹیفکیشن جاری کرنے پر زور دیا۔اجلاس میں 375ٹریلین روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں سے متعلق سینیٹر کامران مرتضیٰ کی جانب سے سینیٹ میں پوچھے گئے سوال کے حوالے سے ہونے والی گفتگو کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کوبتایاگیاکہ اعداد و شمار دراصل کنسولیڈیٹڈ ایگزیکٹو سمری میں ٹائپنگ کی غلطی کے باعث سامنے آئے۔

اٹارنی جنرل نے اس کی تصدیق اور اصلاح کی اور واضح کیا کہ کسی قانونی رپورٹ میں ایسا کوئی غلط عدد شامل نہیں جبکہ ایک فیکٹ فائنڈنگ انکوائری بھی جاری ہے۔ آڈیٹر جنرل 9 ٹریلین روپے کے اعداد و شمار پر علیحدہ اجلاس میں مکمل بریفنگ دیں گے۔ کمیٹی نے 7جولائی 2025 ء کے صدارتی حکم نامے پر عمل درآمد نہ ہونے کا بھی جائزہ لیا۔ تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے ہدایت کی کہ صدارتی حکم نامہ فوری طور پر نافذ کیا جائے۔اجلاس میں ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کراچی میں آتشزدگی کے خدشات پر بھی غور کیا گیا جہاں کلیئر نہ ہونے والے سکریپ اور ویسٹ کی بڑی مقدار جمع ہو گئی تھی جو ہٹانے اور نیلامی کے عمل میں تاخیر کے باعث رکی ہوئی تھی۔ حکام نے بتایا کہ ماضی میں لگنے والی آگ کا سبب ویسٹ کا جمع ہونا نہیں تھا تاہم ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کے نمائندوں نے اس تردید سے اتفاق نہیں کیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ نئے طریقہ کار کے تحت فضلے کی خودکار ماہانہ نکاسی یقینی بنائی جائے گی تاکہ مزید خطرات سے بچا جا سکے۔اجلاس میں ایف بی آر ایکٹ 2007 کی دفعہ 6(5) کے تحت ایف بی آر پالیسی بورڈ کے نامزد اراکین کی متفقہ توثیق بھی کی گئی۔اجلاس میں انسٹی ٹیوٹ آف کوالٹی اینڈ ٹیکنالوجی مینجمنٹ، پنجاب یونیورسٹی کے ٹینیور ٹریک اساتذہ کی تنخواہوں میں عدم مساوات سے متعلق معاملہ کا بھی جائزہ لیا گیا، یہ بات سامنے آئی کہ 2021 کی ہدایت کے باوجود تنخواہوں میں 35 فیصد فرق برقرار رکھنے میں تاخیر ہو رہی ہے جس کے نتیجے میں اساتذہ قانونی چارہ جوئی کی طرف جا رہے ہیں۔

کمیٹی نے وزارت خزانہ اور وزارت تعلیم کو فوری رابطہ کاری کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں سوست بارڈر پر پھنسے ہوئے کنسائنمنٹس کے بیک لاگ کابھی جائزہ لیاگیا،اجلاس کوبتایاگیاکہ کسٹمز کلیئرنس اور نیلامی کے عمل میں تاخیر کے باعث سامان کئی ماہ تک پھنس کر رہ گیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ زیادہ تر کنسائنمنٹس کلیئر کر لی گئی ہیں جس سے آمدن بھی حاصل ہوئی ہے۔ تاہم کمیٹی نے زور دیا کہ مستقبل میں بیک لاگ سے بچنے کے لیے موثر نظام وضع کیا جائے۔ اجلاس میں سینیٹر فاروق نائیک، سینیٹر منظور احمد، سینیٹر زرقا سہروردی تیمور، سینیٹر دلاور خان، سینیٹر کامران مرتضیٰ، وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہرکیانی، چیئرمین ایف بی آر، سٹیٹ بینک کے نمائندگان، ڈپٹی آڈیٹر جنرل اور متعلقہ محکموں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔