حیدرآباد۔ 19 نومبر (اے پی پی):قومی و بین الاقوامی ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ جامعات تحقیقاتی موضوعات کے انتخاب میں صنعتوں کو براہِ راست مشاورت میں شامل کیا جائے، پی ایچ ڈی اور ماسٹرز پروگرامز کو صنعتی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے، اور یونیورسٹیوں کے فیصلہ ساز فورمز میں انڈسٹری کے نمائندوں کو شامل کیا جائے۔ ماہرین نے زور دیا کہ …
ملک کیلئے ڈگری ہولڈرز نہیں ، ہنرمند افرادی قوت تیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، ماہرین

مزید خبریں
حیدرآباد۔ 19 نومبر (اے پی پی):قومی و بین الاقوامی ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ جامعات تحقیقاتی موضوعات کے انتخاب میں صنعتوں کو براہِ راست مشاورت میں شامل کیا جائے، پی ایچ ڈی اور ماسٹرز پروگرامز کو صنعتی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے، اور یونیورسٹیوں کے فیصلہ ساز فورمز میں انڈسٹری کے نمائندوں کو شامل کیا جائے۔ ماہرین نے زور دیا کہ اب ملک کو صرف ڈگری یافتہ نہیں بلکہ ہنرمند اور مارکیٹ کے مطابق تربیت یافتہ افرادی قوت کی ضرورت ہے۔یہ باتیں بدھ کے روز سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کے شعبہ پولٹری کی جانب سے منعقدہ ابھی عمل کریں، ہمارے حال کی حفاظت کریں اور ہمارا مستقبل محفوظ کریں کے موضوع پر آگاہی ہفتہ 2025 کے سلسلے کی کے اختتامی پروگرام کے دوران کہیں گئیں۔ اس پروگرام میں ایف اے او، جامعہ کراچی، بیگم نصرت بھٹو ویمن یونیورسٹی سکھر، یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور، پولٹری ڈپارٹمنٹ سندھ اور وزارتِ فوڈ اینڈ ڈرگ سیفٹی جنوبی کوریا نے تعاون کیاگیا تھا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سندھ زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی کے گریجویٹس پولٹری، ڈیری، فوڈ، بینکنگ، فشریز، ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل اور فرٹیلائزر سمیت مختلف صنعتوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کا بزنس انکیوبیشن سینٹر، اورک اور مختلف شعبے براہِ راست صنعتی اداروں کے ساتھ اشتراک میں کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی نے مارکیٹ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نصاب میں اصلاحات کی ہیں اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ڈگری پروگرام متعارف کرائے ہیں، تاکہ صنعتوں کو قابل اور باصلاحیت افرادی قوت فراہم کی جاسکے۔مہمانِ خصوصی اور چیئرمین پاکستان ویٹرنری فارماسیوٹیکل ایسوسی ایشن ڈاکٹر عاصم محمود خان نے کہا کہ اکیڈمیا اور انڈسٹری ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں اور جامعات کا بنیادی ہدف قومی صنعتوں اور سرکاری اداروں کے لیے ہنرمند افراد تیار کرنا ہونا چاہیے۔
انہوں نے سفارش کی کہ یونیورسٹیوں کے ایڈوانس اسٹڈیز بورڈز میں انڈسٹری ایکسپرٹس کو نمائندگی دی جائے اور نئے تحقیقی شعبوں کے تعین کے لیے ان سے مشاورت کو لازمی قرار دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے سنڈی کیٹ اور دیگر فیصلہ ساز فورمز میں صنعتوں کی شمولیت مالی و انتظامی فیصلوں کو مزید مؤثر بنائے گی۔تقریب سے ایف اے او کے پروجیکٹ منیجر پیڈرو آندریس گارزون، سید نعمان علی، سید وقار عالم، سید اسد علی، ڈاکٹر اصغر علی کمبوہ، پروفیسر مشتاق احمد، ڈاکٹر عقیل سولنگی، پروفیسر ڈاکٹر نصرت یامین، ڈاکٹر ناصر راجپوت، ڈاکٹر نعیم راجپوت اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر ڈین ڈاکٹر غیاث الدین شاہ راشدی، ڈاکٹر محمد اسماعیل کمبھر، ڈاکٹر تنویر فاطمہ میانو، ڈاکٹر تحسین فاطمہ اور دیگر اساتذہ و طلبہ بھی موجود تھے۔پروگرام کے دوران پوسٹر، کوئز، فلائر اور ویڈیو کلپ مقابلے منعقد ہوئے، جن میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو نقد انعامات اور اسناد سے نوازا گیا۔
سیشن میں ڈاکٹر امداد لغاری نے اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس (AMR) پر جامع سفارشات پیش کیں، جن میں ذمہ دارانہ اینٹی مائیکروبیل استعمال، مربوط نگرانی، اور "ون ہیلتھ” تعاون کے فروغ پر زور دیا گیا۔ان سفارشات میں AMR سے متعلق آگاہی کو نصاب کا حصہ بنانے، طلبہ و کسانوں کے لیے باقاعدہ آگاہی مہمات چلانے، فارم ہائجین اور ویکسینیشن کو بہتر بنانے، اینٹی بائیوٹکس کے صرف ڈاکٹر کی تجویز پر استعمال، اور انسانی استعمال کی اہم ادویات کے گروتھ پروموشن میں استعمال پر پابندی شامل تھی۔مزید تجاویز میں لیبارٹری تشخیص کے نظام کو مضبوط بنانا، فارم اور کلینکس میں اینٹی مائیکروبیلز کے استعمال کی مانیٹرنگ، لائیوسٹاک مینجمنٹ میں بہتری، آن لائن ادویات کی فروخت کے لیے مؤثر ریگولیشن، جعلی ادویات کی روک تھام، اور قومی پالیسیوں کو مشترکہ ایکشن پلان سے ہم آہنگ کرنا شامل تھا۔ماہرین نے ریسرچ، فیڈ انڈسٹری کے تعاون، کمیونٹی ٹریننگ اور ماحول میں ادویاتی آلودگی کی روک تھام پر بھی زور دیا۔اختتام پر مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ویٹرنری
انسانی صحت، زراعت اور ماحول کے شعبوں میں مضبوط ہم آہنگی ہی اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس جیسے عالمی چیلنج کا مؤثر مقابلہ ممکن بنا سکتی ہے۔








