مسلح افواج اور سکیورٹی ادارے بیرونی اور اندرونی دشمنوں کے خلاف مؤثر جنگ لڑ رہے ہیں، فیصل کریم کنڈی

"مانجھی خیل چیک پوسٹ پر دہشت گرد حملے میں 1300 کلوگرام سے زائد بارودی مواد کا استعمال دہشت گردوں کی منظم منصوبہ بندی اور خطرناک عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔” — فیصل کریم کنڈی

پشاور۔ 26 جولائی (اے پی پی):گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ مانجھی خیل چیک پوسٹ پر ہونے والے دہشت گرد حملے میں تیرہ سو کلوگرام سے زائد بارودی مواد استعمال کیا گیا، جو دہشت گردوں کے ناپاک عزائم اور ان کی منصوبہ بندی کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ریجنل پولیس آفس ڈیرہ میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران کیا۔ آر پی او مبشر میکن، ڈی پی او ڈیرہ ضیاء الدین احمد، ڈی پی او ٹانک عبدالصمد خان بھی انکے ہمراہ تھے۔ گورنر نے کہا کہ اس افسوسناک واقعے میں پاک فوج پولیس جوان اور محکمہ جنگلات کا ایک اہلکار شہید ہوا، جن کی قربانیاں قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔ گورنر نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی مسلح افواج اور سکیورٹی ادارے بیرونی اور اندرونی دشمنوں کے خلاف مؤثر جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت فتنہ الخوارج کے ذریعے افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے اور دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی افواج، پولیس اور تمام سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ اس قسم کے بزدلانہ حملے ہمارے بہادر جوانوں اور عوام کے حوصلے ہرگز پست نہیں کر سکتے بلکہ دہشت گردی کے خلاف قوم کے عزم کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔ گورنر نے بتایا کہ ان کی حملے میں زخمی ہونے والے غازیوں سے ملاقات ہوئی، جن کے حوصلے اور جذبے قابلِ ستائش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریجنل پولیس آفیسر کی سفارشات وفاقی حکومت تک پہنچائی جائیں گی، جبکہ زخمی اہلکاروں کے امدادی پیکج میں اضافے کے لیے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سے بھی بات کریں گے۔انہوں نے کہا کہ شہداء اور زخمیوں کے بچوں کی سرپرستی ریاست کی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ دہشت گردی ایک بار پھر سر اٹھا رہی ہے اور خطے کی بدلتی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کو درپیش چیلنجز میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی میں پاکستان کے مثبت کردار کو بعض مخالف قوتیں ہضم نہیں کر پا رہیں، جبکہ اسرائیل اور بھارت پاکستان کے خلاف ہر محاذ پر سازشوں میں مصروف ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں عالمی طاقتوں کا چھوڑا ہوا اسلحہ اکثر پاکستان کے خلاف استعمال ہوتا ہے، جس کا پہلا نشانہ خیبرپختونخوا بنتا ہے۔ اس کے باوجود صوبے کی پولیس انتہائی بہادری اور پیشہ ورانہ انداز میں دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہی ہے اور اس کے حوصلے بلند ہیں۔فیصل کریم کنڈی نے زور دیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پورے صوبے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ناگزیر ہیں۔ اس حوالے سے وہ جلد وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سے بھی بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو وفاقی حکومت کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا ہوگا کیونکہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ صرف سکیورٹی اداروں کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے، جسے اتحاد اور یکجہتی سے ہی جیتا جا سکتا ہے۔