"خیبر کے پررونق بازاروں سے لے کر جنوبی وزیرستان کے دشوار گزار پہاڑوں تک معمولاتِ زندگی کی بحالی، بڑھتی معاشی سرگرمیاں اور بچوں کی دوبارہ اسکول واپسی ضم شدہ قبائلی اضلاع میں استحکام اور ترقی کی نئی علامت بن چکی ہیں۔”
سابقہ فاٹا: محرومی سے خوشحالی کی طرف گامزن

مزید خبریں
پشاور۔ 26 جولائی (اے پی پی):خیبر کے پررونق بازاروں سے لے کر جنوبی وزیرستان کے دشوار گزار پہاڑوں تک عام زندگی کی واپسی، بڑھتی ہوئی معاشی سرگرمیاں اور بچوں کا دوبارہ اسکول جانا ضم شدہ قبائلی اضلاع کے عوام کےلیے استحکام اور ترقی کے ایک نئے باب کی علامت بن چکی ہے،
وزیراعظم یوتھ ایمپاورمنٹ پروگرام کے تحت مواصلاتی انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت عامہ، زراعت اور روزگار کے مواقع کی ترقی کے ایک جامع پروگرام کے ذریعے یہ علاقہ تدریجی طور پر تبدیل ہو رہا ہے جس کا مقصد لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانا ہے۔ دہائیوں تک وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) پاکستان کے سب سے کم ترقیافتہ علاقوں میں شامل رہے اور بعد میں انتہا پسندی اور دہشت گردی سے شدید متاثر ہوئے۔ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد اسکول، صحت کی سہولیات، مارکیٹیں اور سڑکیں تباہ ہوئیں، کاروبار ٹھپ ہو گئے اور ہزاروں خاندان اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ امن و امان کی بحالی اور مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں قبائلی اضلاع کے خیبر پختونخوا کے ساتھ آئینی انضمام کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اس محروم رہنے والے علاقے کو قومی معاشی دھارے میں شامل کرنے کے لیے ترقیاتی کوششوں کو تیز کر دیا ہے۔ وفاقی حکومت کے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) اور خیبر پختونخوا کے سالانہ ڈیولپمنٹ پروگرام (اے ڈی پی) کے تحت نئی سرمایہ کاری میں ضم شدہ اضلاع میں سڑکوں، پلوں، اسکولوں، اسپتالوں، پینے کے پانی کی اسکیموں، ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی، نوجوانوں کے لیے روزگار کی فراہمی اور قبائلیوں کے لیے ذریعہ معاش کے مواقع کی بحالی پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ وفاقی پی ایس ڈی پی 27۔ 2026 میں صوبوں اور خصوصی علاقوں کےلیے 233.39 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو ملک بھر میں جامع اور مساوی ترقی کےلیے حکومتِ پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ صوبائی منصوبوں کو 88.29 ارب روپے (37.8فیصد )، ضم اضلاع کو 56.08 ارب روپے (24.0فیصد) اور خصوصی علاقوں یعنی آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کو پی ایس ڈی پی 27۔2026 میں 89.02 ارب روپے (38.1فیصد) کا حصہ ملتا ہے۔شمالی وزیرستان میں خرم تنگی ڈیم کی تعمیراتی کام میں توسیع اور جنوبی وزیرستان میں 17.4 میگاواٹ کے گومل زام ڈیم کی تکمیل کے علاوہ وفاقی حکومت نے 309.6 ارب روپے کی لاگت سے مہمند ڈیم پر کام تیز کر دیا ہے جس کی صلاحیت 800 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ 1.293 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی ہے۔ سابقہ فاٹا کی بحالی اور انضمام کے ترقیاتی پروگراموں کے حصے کے طور پر جنوبی وزیرستان میں مکمل ہونے والے بڑے ترقیاتی منصوبوں میں 17.4 میگاواٹ کا گومل زام ڈیم، مکین مارکیٹ کمپلیکس اور شیخة فاطمہ بنت مبارک اسپتال شامل ہیں۔ یہ حکمتِ عملی پر مبنی سرمایہ کاری انفراسٹرکچر کی ترقی میں تیزی لائے گی، عوامی خدمات کو بہتر بنائے گی، علاقائی کنیکٹیویٹی کو مضبوط کرے گی اور پورے پاکستان میں متوازن سماجی و معاشی ترقی کو فروغ دے گی۔ حکام کے مطابق ان اہم اقدامات کا مقصد نہ صرف عوامی خدمات کو بہتر بنانا ہے بلکہ علاقائی تفاوت کو کم کرنا اور مقامی برادریوں کے لیے پائیدار معاشی مواقع پیدا کرنا بھی ہے۔ ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے سابق رکن قومی اسمبلی شاہ جی گل آفریدی نے کہا کہ انضمام قبائلی اضلاع کے لیے ایک اہم موڑ تھا۔ انہوں نے قومی خبر رساں ادارے "اے پی پی” کو بتایا کہ آئینی انضمام محض ایک انتظامی مشق نہیں تھی بلکہ اس نے پولسنگ، عدالتی اداروں اور عوامی خدمات کی توسع کےلیے فریم ورک تیار کیا جبکہ سابقہ فاٹا میں تیز تر سماجی و معاشی ترقی کے دروازے کھولے ۔ ان کا کہنا تھا کہ حقیقت میں انضمام نے زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کے ذریعے خاص طور پر اس کے انفراسٹرکچر، سڑکوں، پلوں، تعلیم، زراعت اور صحت کی دیکھ بھال کے نظام کی ترقی کے لیے تیز رفتار ترقی کی راہ ہموار کی۔ انہوں نے کہا کہ تھانے قائم کیے گئے اور عدالتی نظام میں توسیع کی گئی، اس کے علاوہ قلعے تعمیر کیے گئے اور افغانستان سے ناپسندیدہ عناصر کی آمد کو روکنے کے لیے مغربی سرحد پر باڑ لگائی گئی۔ بہتر روڈ نیٹ ورکس، پبلک انفراسٹرکچر اور بارڈر مینجمنٹ کی مضبوطی نے کنیکٹیویٹی کو بڑھایا ہے اور سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کے لیے زیادہ سازگار ماحول پیدا کیا ہے۔ تاہم ان علاقوں کے عوام کے لیے ترقی کا اندازہ اعداد و شمار کے بجائے روزمرہ کے تجربات سے لگایا جاتا ہے۔ جن دیہاتوں میں تباہ شدہ اسکولوں کو دوبارہ تعمیر کیا گیا ہے، وہاں کے بچے اب میلوں دور کے سکولوں میں جانے کے بجائے اپنے سکولوں کے کلاس رومز کی طرف جاتے ہیں۔وہ کسان جو کبھی اپنی پیداوار کو لے جانے کے لیے مشقت کرتے تھے اب سڑکوں کی بہتر رسائی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جبکہ صحت کی نئی سہولیات بنیادی علاج کےلیے مریضوں کی بڑے شہروں تک سفر کی مسافت کم کر رہی ہیں۔پشاور یونیورسٹی میں ڈائریکٹر کانفلیکٹ اینڈ اسٹریٹجک اسٹڈیز پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد کا ماننا تھا کہ غربت اور بے روزگاری اب بھی سب سے بڑا چیلنج ہے جس سے نمٹ کر امن کی کوششوں کو مضبوط اور سابقہ فاٹا میں ترقی کی رفتار کو تیز کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ امن صرف اسی وقت پائیدار ہوتا ہے جب قبائلی عوام کے پاس باوقار ملازمتیں ہوں۔ سڑکیں اور عمارتیں اہم ہیں، لیکن پائیدار ترقی کےلیے اصل چیز تعلیم، صنعتیں، پیشہ ورانہ تربیت اور نجی سرمایہ کاری ہے، خاص طور پر ان ضم شدہ اضلاع میں جہاں لوگ دہشت گردی کے ناسور سے متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں سے باہر بچوں کا داخلہ، تحصیل سطح پر پیشہ ورانہ تعلیمی مراکز کا قیام، انفراسٹرکچر کے منصوبے اور چھوٹے کاروباروں کی معاونت سے مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور روزگار کے لیے حوصلہ افزائی میں مدد ملے گی۔ قبائلی پٹی میں زراعت اور مال مویشی مقامی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتے رہتے ہیں جہاں حکومتی اقدامات جدید فارمنگ کی تکنیکوں کو فروغ دے رہے ہیں۔ ترقیاتی اسکیمیں، خاص طور پر جو آبپاشی، لائیو اسٹاک کی بہتری اور جنگلات کے تحفظ میں مکمل ہوئی ہیں، کسانوں کی پیداواری صلاحیت اور گھریلو آمدنی کو بہتر بنانے میں مدد کر رہی ہیں۔ گرین گروتھ پراجیکٹس اور لائیو اسٹاک کی ترقی کی اسکیموں نے کئی اضلاع میں موسمی روزگار بھی پیدا کیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے چیف کنزرویٹر آف فارسٹس احمد جلیل نے کہا کہ مون سون کے درخت لگانے کے دوران سابقہ فاٹا میں زیادہ سے زیادہ رقبے کو جنگلات کے احاطے میں لانے کے لیے شجرکاری کا ایک جامع منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یومِ آزادی پاکستان کے لیے 1.4 ملین (14 لاکھ) پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جس کے تحت سابقہ فاٹا میں جہاں وسیع زمین دستیاب ہے، زیادہ سے زیادہ پودے لگائے جائیں گے۔یہ اقدام ہزاروں سبز ملازمتیں قبائلی نوجوانوں کو فراہم کرنے کے علاوہ اس علاقے کو سرسبز و شاداب بنانے میں مدد کرے گا۔تعلیمی ماہرین نے پرائمری اسکولوں کو طویل مدتی امن اور مالی بااختیاری کی بنیاد قرار دیا۔ خیبر پختونخوا کے محکمہ تعلیم میں سینئر پلاننگ آفیسر شہاب خان نے کہا کہ تعلیمی انفراسٹرکچر کو دوبارہ تعمیر کرنا، تعلیمی معیار کو بہتر بنانا، ذہین طلبہ کو وظائف دینا اور اسکول سے باہر بچوں کو اسکولوں کے نیٹ میں لانا سابقہ فاٹا میں حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں، ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اسکولوں میں فرنیچر کو مضبوط بنانے اور بنیادی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہیں تاکہ داخلوں میں اضافہ کیا جا سکے، خاص طور پر قبائلی پٹی میں لڑکیوں کے لیے۔ اسکول واپس آنے والا ہر بچہ دائمی امن اور معاشی استحکام میں سرمایہ کاری کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستحق خاندانوں کے لیے اسکالرشپ پروگرام اور مالی امداد مزید طلبہ کو اپنی تعلیم جاری رکھنے کے قابل بنا رہی ہے جبکہ تکنیکی و پیشہ ورانہ تربیت میں سرمایہ کاری نوجوانوں کو مارکیٹ کے قابلِ قدر ہنر سے آراستہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کرم اور اورکزئی اضلاع میں 100 ارلی چائلڈ ہُڈ ایجوکیشن مراکز کے قیام کے علاوہ، اگلے پانچ سالوں میں جی پی ای کی فنڈنگ سے 1600 ای سی ای مراکز قائم کیے جائیں گے جبکہ کے پی ۔ ایچ آئی سی پی کے ذریعے 100 ای سی ای رومز قائم کیے جائیں گے جن کے تحت 250 پہلے ہی قائم کیے جا چکے ہیں۔
شہاب نے کہا کہ ای سی ای پالیسی منظوری کےلیے تیار ہے جبکہ تدریسی مواد بشمول اساتذہ کی گائیڈ بک اور ای سی ای موڈ آف لرننگ کا ہینڈ بک بھی تیار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچی کو ای سی ای میں تبدیل کرنے کا کام جاری ہے جبکہ 790 ماسٹر ٹرینرز اور 425 اساتذہ کی ای سی ای تربیت مکمل ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وظیفہ پروگرام اسکول سے باہر موجود ذہین بچوں کو پرائیویٹ اسکولوں میں داخل کرنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ پسماندہ علاقوں کے اسکولوں میں 80 فیصد حاضری والی طالبات میں 2.4 ارب روپے سے زائد کی تقسیم کے علاوہ، غریب طلبہ کو اسکولوں میں برقرار رکھنے کے لیے وظائف کے پروگرام شروع کیے گئے ہیں جن کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ حکام کے مطابق وفاقی اور صوبائی ترقیاتی پروگراموں کے تحت ضم شدہ اضلاع کے لیے نمایاں رقم مختص کی گئی ہے۔اس فنڈنگ کا مقصد انفراسٹرکچر کے منصوبوں کو تیز کرنا، عوامی خدمات کو مضبوط بنانا اور علاقائی کنیکٹیویٹی کو بہتر بنانا ہے، جبکہ ایکسلریٹڈ امپلی منٹیشن پروگرام (اے آئی پی ) کا مقصد دیرینہ ترقیاتی خلا کو پر کرنا ہے۔اقتصادی ترقی کا منصوبہ ضم شدہ اضلاع میں تعلیم، طلبہ کی ہنر مندی، انفراسٹرکچر اور مقامی معاشی نمو کو مضبوط بنانے کے مقصد سے درجنوں اہم اقدامات کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد تعلیم، روزگار اور کاروبار کے مواقع کو وسعت دے کر ترقیاتی اخراجات کو لوگوں کی زندگیوں میں بہتری میں تبدیل کرنا ہے۔بڑے انفراسٹرکچر کی اسکیمیں، بشمول اسٹریٹجک روڈ راہداریوں اور آبی وسائل کے منصوبے، کنیکٹیویٹی کو مزید بہتر بنائیں گی، تجارت میں سہولت فراہم کریں گی اور زراعت کو سپورٹ کریں گی۔حکام کا ماننا ہے کہ ایسی سرمایہ کاری صنعتی نمو کی حوصلہ افزائی کرے گی، نجی سرمایہ کاروں کو راغب کرے گی اور صوبے کے دیگر حصوں کے ساتھ معاشی روابط کو مضبوط کرے گی۔ سیاسی رہنماؤں اور ترقیاتی ماہرین دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ ترقی کی رفتار کو شفاف عمل درآمد، برادری کی شمولیت اور انسانی ترقی میں مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے برقرار رکھا جانا چاہیے۔ اگرچہ کئی چیلنجز باقی ہیں، غربت و بے روزگاری کو روکنے کے حوالے سے اہم تبدیلی جو پہلے ہی ضم شدہ اضلاع میں نمایاں ہے، حکومت کے قوی عزم اور زیادہ پرامن و خوشحال مستقبل کی تعمیر کےلیے قبائلی عوام کے عزم و ہمت کی عکاسی کرتی ہے۔ بہت سے خاندانوں کے لیے، خوشحالی اب کوئی خیالی وعدہ نہیں رہی بلکہ ایک ایسی امید ہے جو نئے قائم شدہ اسکولوں، سڑکوں، فعال کالجوں، پھیلتی ہوئی مارکیٹوں اور ایک بہتر کل کو تشکیل دینے کے لیے پرعزم نوجوان نسل کی امنگوں میں جھلکتی ہے۔ جیسے جیسے ترقی زور پکڑ رہی ہے، ضم شدہ اضلاع ایک ایسے حساس اور اہم موڑ پر کھڑے ہیں جہاں پائیدار امن اور جامع معاشی ترقی ایک دوسرے کو تقویت دے سکتے ہیں اور اس علاقے کو نئے مواقع فراہم کر سکتے ہیں جس نے دہائیوں کی صعوبتیں برداشت کی ہیں۔








