پاکستان اور قازقستان کا تعلیمی و سائنسی تعاون کے فروغ کے لیے قازقستان۔پاکستان ریسرچ سینٹر کے قیام پر اتفاق

"پاکستان اور قازقستان کے درمیان تعلیم، تحقیق اور پیشہ ورانہ تربیت کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے مشترکہ اقدامات وقت کی ضرورت ہیں۔” — وجیہہ قمر

الماتے، قازقستان۔26جولائی (اے پی پی):جمہوریہ قازقستان کے سرکاری دورے کے دوران وفاقی وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، وجیہہ قمر نے الفارابی قازق نیشنل یونیورسٹی کے بورڈ آف مینجمنٹ کے چیئرمین اور ریکٹر، پروفیسر ژانسیت توئیمبایف سے ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران پاکستان اور قازقستان کے درمیان اعلیٰ تعلیم، تحقیق، سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم بنانے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔اتوار کووفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے مفاہمتی یادداشت کے تحت الفارابی قازق نیشنل یونیورسٹی میں قازقستان۔پاکستان ریسرچ سینٹر کے قیام پر اتفاق کیا۔ یہ ریسرچ سینٹر دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان ادارہ جاتی روابط کو فروغ دینے، مشترکہ تحقیق، علمی تبادلوں، جدت طرازی اور سائنسی منصوبوں کی مشترکہ تیاری کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا۔وزیرِ مملکت وجیہہ قمر نے الفارابی قازق نیشنل یونیورسٹی کی بین الاقوامی شہرت، اعلیٰ تعلیمی معیار اور نمایاں تحقیقی کامیابیوں کو سراہا۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم اور سائنسی تحقیق کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے حکومتِ پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مضبوط تعلیمی شراکت داریاں علم، جدت اور باہمی تعاون کے ذریعے مشترکہ علاقائی اور عالمی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ وجیہہ قمر نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کی جامعات مصنوعی ذہانت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل جدت اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کر رہی ہیں جو الفارابی قازق نیشنل یونیورسٹی کے ساتھ مشترکہ تحقیق، علمی تبادلے اور اختراعی منصوبوں کے لیے وسیع مواقع فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ قازقستان۔پاکستان ریسرچ سینٹر کا قیام پاکستان اور قازقستان کے درمیان تعلیمی اور سائنسی تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوگا۔وزیرِ مملکت نےالفارابی قازق نیشنل یونیورسٹی کی قیادت اور فیکلٹی کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی تاکہ پاکستان کی ممتاز جامعات کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دیا جا سکے، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلوں کو مزید وسعت دی جا سکے، مشترکہ تحقیقی پروگراموں کو فروغ دیا جا سکے، علمی تبادلوں کو آسان بنایا جا سکے اور سائنسی تربیت اور جدت کے شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔پروفیسر ژانسیت توئیمبایف نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ الفارابی قازق نیشنل یونیورسٹی علمی نقل و حرکت کے پروگراموں، مشترکہ تحقیقی منصوبوں، بین الاقوامی کانفرنسوں اور ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے پاکستانی جامعات کے ساتھ اپنے تعلقات کو مسلسل فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ریسرچ سینٹر کا قیام دونوں ممالک کے درس و تدریس کے شعبوں کے درمیان طویل المدتی سائنسی تعاون کو فروغ دینے اور تعلیمی روابط کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے مجوزہ اقدامات کی توثیق کرتے ہوئے ان پر مرحلہ وار عمل درآمد کے لیے ایک جامع لائحۂ عمل مرتب کرنے پر اتفاق کیا۔ یہ اتفاقِ رائے اعلیٰ تعلیم، تحقیقی معیار اور جدت کے فروغ کے لیے پاکستان اور قازقستان کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے اور پائیدار ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے دونوں دوست ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور علمی روابط کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔