لاہور۔24نومبر (اے پی پی):وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ ضمنی انتخابات میں جیت پر عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور جیت کو عوام کے نام کرتی ہوں۔ خدمت کی سیاست قبول کرنے پر عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ نواز شریف کی آئیڈیالوجی کو قبول کرنے پر عوام کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ اب ہم پھر دن رات محنت کریں گے، یہ ترقی، بہتری، بھلائی اور عوام …
وزیراعلیٰ پنجاب کا ضمنی انتخابات میں جیت پر عوام سے اظہار تشکر، جیت عوام کے نام کرتی ہوں، یہ ترقی، بہتری، بھلائی اور عوام کی فتح ہے، مریم نواز

مزید خبریں
لاہور۔24نومبر (اے پی پی):وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ ضمنی انتخابات میں جیت پر عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور جیت کو عوام کے نام کرتی ہوں۔ خدمت کی سیاست قبول کرنے پر عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ نواز شریف کی آئیڈیالوجی کو قبول کرنے پر عوام کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ اب ہم پھر دن رات محنت کریں گے، یہ ترقی، بہتری، بھلائی اور عوام کی فتح ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف کو ووٹ دینے کیلئے آنے والے بزرگ اور ویل چیئر پر آنے والی خاتون کا خصوصی شکریہ ادا کرتی ہوں، لوگوں نے محفوظ اور ترقی یافتہ پنجاب کو ووٹ دیا، تمام امیدواروں کو مبارکباد، شہباز شریف کی محنت رنگ لائی۔صوبائی وزرا اور سیکرٹریز سے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نوازنے کہا کہ جب پتہ ہوتا ہے کہ الیکشن ہار جانا ہے تو تب بائیکاٹ کیا جاتا ہے۔
یہ ضمنی الیکشن نہیں بلکہ ریفرنڈ م تھا،پنجاب اور کے پی کے عوام نے مسلم لیگ ن کے حق میں فیصلہ دیا۔ ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ (ن)نے اپنی ہی پہلے ہاری ہوئی تمام سیٹیں جیتی ہیں۔ فیصل آباد، سرگودھا، چک جھمرہ، ڈی جی خان، ساہیوال اور ہری پور میں مسلم لیگ (ن)نے میدان مارا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن کے امیدواروں کی فتح پاکستان کیلئے خوش آئند ہے۔ ہمارے پارٹی کے کچھ لوگ بھی بیانیے کی سیاست کا کہتے تھے۔
پارٹی ارکان کہتے تھے کہ مسلم لیگ (ن)نے جو ترقیاتی کام کیے اور کررہی ہے اس کا فائدہ نہیں۔کہا جاتا تھا سیاسی جماعتیں ترقیاتی کاموں سے نہیں بلکہ بیانیے سے جیتتی ہے۔ پاکستان کی عوام گواہ ہے کہ بیانیے والی جماعت نے پاکستان کا کیا حال کیا۔ وزیراعلی نے کہا کہ بیانیہ کسی سچائی پر ہونا چاہیے،جھوٹ کسی حد تک بولا جا سکتا ہے، پرفارمنس سے بہتر کوئی بیانیہ نہیں ہوسکتا۔ قائد نواز شریف کی قیادت میں 2017 سے پہلے بیانیہ نہیں بلکہ ترقیاتی کاموں پر یقین کیا جاتا تھا۔ نواز شریف کے دورحکومت میں پورے ملک میں سی پیک، موٹرویز اور بجلی کے منصوبے لگ رہے تھے۔
دنیا پاکستان کی طرف دیکھ رہی تھی اور سٹاک مارکیٹ بلندیوں کو چھو رہی تھی۔ اگر بیانیہ سچا ہوتو بھی لوگ یقین کرتے ہیں ورنہ جھوٹے بیانیے پرکوئی زیادہ دیر یقین نہیں کرتا۔ حکومتوں کے پاس ترقیاتی کاموں کے علاوہ کوئی بیانیہ نہیں ہوتا۔ پاکستان مسلم لیگ(ن)نے مشکل سے مشکل حالات میں بھی الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کیا۔ الیکشن کا بائیکاٹ وہی کرتے ہیں جنہیں پتا ہوتا کہ ان کے پاس عوام کو دکھانے کیلئے کچھ نہیں ہے۔ میں پہلی خاتون تھی جسے ان کے دور میں جیل میں ڈالا گیا لیکن ہم نے بائیکاٹ نہیں کیا۔
وزیراعلیٰ مریم نوازنے کہا کہ مقبولیت کے دعوے کرنے والے ضمنی الیکشن میں کہیں نظر نہیں آئے۔ الحمدللہ کے پی کے میں بھی لوگوں نے مسلم لیگ (ن)کو جتوایا۔ پنجاب میں بائیکاٹ کیا تو کے پی کے میں الیکشن کا بائیکاٹ کیوں نہیں کیا؟ بیانیہ سے پیٹ نہیں بھرتے، ترقی نہیں ہوتی، پہلے دن سے کہہ رہی ہوں کہ صرف بیانیہ کافی نہیں کام کرنا پڑتا ہے۔ ان کا بیانیہ، جھوٹا، چور، گریبان پکڑ لوں کے علاوہ کیا ہوتا ہے؟ہم نے بدلہ لیا نہ بدلہ لیں گے، بلکہ بدلے میں تاریخ کے کوڑے دان میں اٹھا کر پھینکیں گے۔
وزیراعلی نے کہا کہ کے پی کے میں لوگ بیانیے سے تنگ آچکے ہیں۔ کے پی کے میں کوئی ترقیاتی کام نہیں صرف بیانیہ بیچا جارہا ہے۔ وفاق اور پنجاب میں موجودہ حکومت قائد محمد نواز شریف کی ہی حکومت ہے۔نواز شریف ہر لمحہ مجھے اور شہباز شریف کو حکومتی امور کے بارے میں بتاتے رہتے ہیں۔ ضمنی الیکشن میں جیت کو نواز شریف اور پنجاب کے عوام اور کے پی کے کے عوام کی نظر کرتی ہوں۔ پونے دو سال میں شہباز شریف اور مریم نواز کی کارکردگی پر لوگوں نے مہر ثبت کی ہے۔وزیراعلی نے کہا کہ پاپولرلیڈر کبھی بھی الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کرتا۔ تمام جماعتوں سے کہتی ہوں کہ آئیں پاپولر بیانیہ کی بجائے ترقیاتی کاموں کی طرف توجہ دیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ پنجاب کے اندر مہنگائی کنٹرول اور روٹی سستی مل رہی ہے۔ پورے پنجاب میں ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت گھر گھر سے کوڑا کرکٹ اور گلی محلوں سے کوڑا اٹھا یا جارہا ہے۔ صوبے بھر میں 20ہزار کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر مرمت کی جارہی ہے۔ ہسپتالوں میں 100ارب روپے کی فری میڈیسن دی جارہی ہے۔ گزشتہ حکومت نے سرکاری ہسپتالوں میں فری میڈیسن کو بند کر دیا تھا۔ صحت کارڈ نواز شریف کا منصوبہ تھا لیکن اس منصوبہ کو کرپشن کی نظر کر دیا گیا۔ دل کے مریض، ہیپاٹائٹس، ٹی بی اور انسولین کے مریضوں کو ان کے گھر تک مفت دوائی پہنچائی جارہی ہے۔ رمضان المبارک میں لوگوں کے گھر پر دستک دیکر راشن دیا جاتا رہا۔
10ماہ کی قلیل مدت میں ایک لاکھ 15ہزار گھر اپنی چھت، اپنا گھر پروگرام کے تحت بن رہے ہیں۔ پہلی مرتبہ پنجاب میں فرٹیلائزر کی کوئی کمی نہیں ہے۔ گرین بسیں ہر شہر میں ،صرف 20روپے میں عوام مستفید ہورہے ہیں۔ 80ہزار سکالر شپ غریب اور نادار طلبہ کو پنجاب حکومت دے رہی ہے۔دوسرے صوبوں کے طلبہ بھی پنجاب حکومت کی طرز پر سکالر شپ پروگرام شروع کرنے کی امید رکھتے ہیں۔ پنجاب آج الحمدللہ خواتین کیلئے محفوظ ترین صوبہ بن گیا ہے۔پنجاب میں 70فیصد جرائم میں کمی آچکی ہے۔
تمام قبضہ مافیا، بھتہ خور، ڈکیٹ اور سب انڈرگراؤنڈ ہوگئے ہیں۔خواتین کی حفاظت کیلئے تمام بسوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ خواتین ویمن ورچوئل پولیس اسٹیشن میں اپنی شکایت درج کراسکتی ہیں۔ موذی امراض کا علاج بھی پنجاب میں مفت کیا جارہا ہے۔ پنجاب کے کسان گندم بوائی میں سب سے آگے ہیں۔کلینک آن ویل اور فیلڈ ہسپتال میں پونے دو کروڑ لوگوں کو علاج کیا گیا ہے۔ جنوبی پنجاب میں 11لاکھ بچوں کو غذائیت سے بھرپور دودھ فراہم کیا جارہا ہے۔
مریم نوازنے کہا کہ سپیشل چلڈرن بچوں کیلئے ہر ضلع میں سپیشل سنٹر آف ایکسی لینس بنارہے ہیں۔رواں سال تاریخ کا بد ترین سیلاب آیا تھا لیکن تاریخی ریکارڈ کام کیے گئے۔پوری انتظامیہ نے ایک ٹیم بن کر فلڈ میں لاکھوں جانوں کو بچایا ۔ ایک ماہ کے اندر سیلاب متاثرہ علاقوں کو سروے کیا گیا اور ان کا حق ان کو دیا گیا۔ سیلاب متاثرہ لوگوں کی مدد کیلئے دنیا کے آگے ہاتھ پھیلانا پنجاب کے عوام کی تذلیل سمجھتی ہوں۔
انہوں نے کہا کہ جن امراض کا علاج پاکستان میں نہیں ہوتا تھا ان کیلئے ہسپتال بنارہے ہیں۔ دو کروڑ لوگوں کو گھر وں کی دہلیز پر علاج کی سہولت دے رہے ہیں۔ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں کو بھی انسولین گھروں تک پہنچائیں گے۔ لاہور میں 30ہزار بچوں کو لنچ دیا جارہا، پنجاب بھر میں 40ہزار سپیشل بچوں کو لنچ دے رہے ہیں۔ سموگ پر پچھلے سال کا موازنہ کریں گے تو زمین و آسمان کا فرق ہے۔








