محکمہ زراعت پنجاب،آم کے باغات کو سردی سے محفوظ رکھنے کیلئے سفارشات جاری

لاہور۔25نومبر (اے پی پی):ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق آم کی فصل کو سردی کے نقصانات سے بچانے کیلئے باغبان پانی کا چھڑکائو کریں،جو زمین کی نمی کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے تاہم اگر زمین میں وتر موجود ہو تو آبپاشی کی ضرورت نہیں ہے۔آم کے چھوٹے پودوں کو شیشم کے چھاپوں یا پلاسٹک شیٹ سے ڈھانپ کر بھی سردی کے اثرات سے بچایا جا سکتا ہے۔ …

لاہور۔25نومبر (اے پی پی):ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق آم کی فصل کو سردی کے نقصانات سے بچانے کیلئے باغبان پانی کا چھڑکائو کریں،جو زمین کی نمی کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے تاہم اگر زمین میں وتر موجود ہو تو آبپاشی کی ضرورت نہیں ہے۔آم کے چھوٹے پودوں کو شیشم کے چھاپوں یا پلاسٹک شیٹ سے ڈھانپ کر بھی سردی کے اثرات سے بچایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ آم کے درختوں کے نیچے دھواں کرنے سے سردی کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔باغات میں درختوں کی چھتری کے نیچے80 سے100 کلو گرام نامیاتی مواد،مثلا گلا سڑا گوبر بکھیریں۔آم کے درختوں پر قبل از وقت یعنی موسم سرما میں نکلنے والے بور کو روکنے کیلئے آبپاشی کا روکنا ضروری ہے۔

ترجمان محکمہ زراعت نے بتایا کہ اگر پھل توڑنے کے فورا بعد فاسفورس اور پوٹاش کی کھاد کا استعمال نہیں کیا گیا تو دسمبر کے مہینہ میں گلی سڑی گوبر کے ساتھ ملا کر استعمال کر لیں۔پودوں کو ٹھنڈی ہوائوں سے بچانے کیلئے چاروں اطراف حفاظتی شیلڈ لگانا ضروری ہے تاکہ درختوں کی جڑیں محفوظ رہیں۔کورے کے نقصان سے بچنے کیلئے درختوں کے تنوں پر بورڈیکس مکسچر پیسٹ کا استعمال کریں یا محکمہ زراعت پنجاب کے مقامی عملہ کے مشورہ سے مناسب جراثیم کش زہر کا پیسٹ لگائیں۔باغبان آم کے تیلے کے تدارک کیلئے درختوں کے موٹے ٹہنوں پر مناسب کیڑے مار زہر کا سپرے کریں تاکہ درختوں کی چھال میں چھپے آم کے تیلے کا خاتمہ ہو سکے۔

اس کے علاوہ آم کی گدھیڑی کو پودوں پر چڑھنے سے روکنے کیلئے تنوں پر پھسلن والے پھندے(پلاسٹک شیٹ) لگانے کا عمل جلد از جلد مکمل کر لیں تاکہ گدھیڑی کے نقصانات سے بچا جا سکے۔