پانی کو ہتھیار بنانا عالمی قوانین اور سندھ طاس معاہدہ کی روح کے منافی ہے،بھارت کی آبی جارحیت خطے کے امن اور جنوبی ایشیا کے مستقبل کے لیے سنگین خطرہ ہے، چیئرمین پاکستان بزنس فورم پنجاب

پاکستان بزنس فورم پنجاب کے چیئرمین ملک طلعت سہیل نے بھارت کی جانب سے دریاؤں کے پانی کے بہاؤ میں اچانک اور غیر معمولی تبدیلیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی آبی جارحیت نہ صرف سندھ طاس معاہدہ کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ اس کا موجودہ مائنڈ سیٹ پورے جنوبی ایشیا کے امن، استحکام اور معاشی مستقبل کے لیے سنگین خطرہ بنتا جا رہا …

اسلام آباد۔26جولائی (اے پی پی):پاکستان بزنس فورم پنجاب کے چیئرمین ملک طلعت سہیل نے بھارت کی جانب سے دریاؤں کے پانی کے بہاؤ میں اچانک اور غیر معمولی تبدیلیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی آبی جارحیت نہ صرف سندھ طاس معاہدہ کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ اس کا موجودہ مائنڈ سیٹ پورے جنوبی ایشیا کے امن، استحکام اور معاشی مستقبل کے لیے سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔اتوار کو اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ملک طلعت سہیل نے کہا کہ پانی کو سیاسی دباؤ یا سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا کسی بھی مہذب ریاست کے شایانِ شان نہیں۔ ایسے اقدامات ایٹمی طاقتوں کے درمیان اعتماد کو مجروح کرنے کے ساتھ ساتھ پورے خطے کو مزید کشیدگی اور عدم استحکام کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جولائی کے دوران بھارت کی جانب سے دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں مسلسل غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ یا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 23 جولائی کو ہیڈ مرالہ پر دریائے چناب میں پانی کا بہاؤ تقریباً 2 لاکھ 2 ہزار 700 کیوسک تک پہنچ گیا جبکہ اس سے ایک روز قبل پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 39 ہزار 700 کیوسک تھا۔ اس سے ایک ہفتہ قبل پانی کا بہاؤ صرف 50 ہزار 300 کیوسک ریکارڈ کیا گیا تھا، جو پانی کے اخراج میں غیر معمولی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے اچانک آبی اخراج سے پاکستان میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے، زرعی اراضی، فصلوں، نہری نظام اور آبپاشی کے انتظامات کے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسے اقدامات کے باعث متعلقہ اداروں کو ہنگامی انتظامات اور فلڈ الرٹس جاری کرنا پڑتے ہیں۔چیئرمین پاکستان بزنس فورم پنجاب نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً 80 فیصد زرعی پیداوار دریائے سندھ کے آبی نظام پر انحصار کرتی ہے۔ پانی کے قدرتی بہاؤ میں غیر متوقع تبدیلیاں نہ صرف غذائی تحفظ بلکہ کپاس، گندم، چاول، گنے اور دیگر اہم فصلوں کی پیداوار کو بھی شدید متاثر کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زراعت پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، لہٰذا پانی کے معاملے پر کسی قسم کی غیر ذمہ داری ناقابلِ قبول ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی موجودہ سوچ خطے میں امن، اقتصادی تعاون اور باہمی اعتماد کے فروغ کے بجائے تصادم اور کشیدگی کو فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی پر گامزن رہا تو اس کے نتائج صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے امن اور معاشی استحکام پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ملک طلعت سہیل نے عالمی برادری، اقوام متحدہ، عالمی بینک اور سندھ طاس معاہدہ کے ضامن اداروں سے مطالبہ کیا کہ صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ بین الاقوامی معاہدوں کی مکمل پاسداری کی جائے۔ پانی کو سیاسی یا معاشی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی ہر کوشش کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔چیئرمین پاکستان بزنس فورم پنجاب نے وفاقی حکومت پر بھی زور دیا کہ پاکستان کے آبی مفادات کے تحفظ کے لیے فوری سفارتی اقدامات کو مزید تیز کیا جائے ، مستقل آبی ذخائر کی تعمیر، ڈیموں کی تکمیل، نہری نظام کی بہتری، پانی کے ضیاع کی روک تھام اور جدید آبپاشی کے نظام کو قومی ترجیح بنایا جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی بیرونی دباؤ کا موثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔ ملک طلعت سہیل نے کہا کہ پوری قوم ملک کے آبی، زرعی اور معاشی مفادات کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کرے گی، پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، خوراک کی خود کفالت، صنعتی ترقی اور معاشی استحکام کی بنیاد ہے۔ بھارت کو اشتعال انگیز اقدامات ترک کرکے بین الاقوامی معاہدوں اور ذمہ داریوں کی پاسداری کرنی چاہیے تاکہ جنوبی ایشیا کو مزید کشیدگی کے بجائے امن، تعاون اور ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے