ہیپا ٹائٹس عالمی سطح پر اموات کی آٹھویں بڑی وجہ ، یومیہ تقریباً 3500 افراد زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں ، عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ ہیپا ٹائٹس عالمی سطح پر اموات کی آٹھویں سب سے بڑی وجہ ہے، جس کے باعث روزانہ تقریباً 3500 افراد کی موت واقع ہو جاتی ہے جبکہ دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 1.4 ملین افراد زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں

اسلام آباد۔26جولائی (اے پی پی):عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ ہیپا ٹائٹس عالمی سطح پر اموات کی آٹھویں سب سے بڑی وجہ ہے، جس کے باعث روزانہ تقریباً 3500 افراد کی موت واقع ہو جاتی ہے جبکہ دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 1.4 ملین افراد زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں ۔ ماہرین صحت نے رپورٹ میں کہا ہے کہ ہیپاٹائٹس سے ہونے والی اموات کی بنیادی وجہ ہیپا ٹائٹس بی اور سی کے دائمی انفیکشن ہیں جو جان لیوا پیچیدگیوں کا باعث بنتے ہیں۔ دنیا بھر میں تقریباً 30 کروڑ 40 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس کے وائرس سے متاثر ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی اور سی سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ 20 لاکھ کے قریب ہے۔ معروف طبی ماہر ڈاکٹر شہزاد حسین نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس کی مجموعی شرح تقریباً 7.6 فیصد کے مساوی ہے جس میں ہیپاٹائٹس سی سے 4.8 فیصد جبکہ ہیپاٹائٹس بی سے 2.5 فیصد لوگ متاثر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر محفوظ انجیکشن اور دوبارہ استعمال کی جانے والی سرنجوں سے پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کا دنیا بھر میں دوسرا نمبر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 5.4 فیصد افراد ہیپاٹائٹس سی جبکہ سندھ میں 2.55 فیصد سے 14.3 فیصد،خیبر پختونخوا میں 6.07 فیصد افراد ہیپاٹائٹس سی سے متاثرہ ہیں اور بلوچستان میں ہیپاٹائٹس کی شرح 25.77 فیصد تک ہے۔ ڈاکٹر سکندر اقبال نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے 2030 تک ہیپاٹائٹس کو عوامی صحت کے بڑے خطرے کے طور پر ختم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے جس کے تحت نئے انفیکشنز میں 90 فیصد جبکہ سالانہ اموات میں 65 فیصد کمی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح متاثرہ افراد میں 90 فیصد تشخیص جبکہ 80 فیصد مریض علاج کی فراہمی اور ہیپاٹائٹس بی کی ویکسی نیشن اہداف میں شامل ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے نوزائیدہ بچوں کو ہیپاٹائٹس سے تحفظ فراہم کرنے کے حوالے سے پیدائش کے وقت حفاظتی ویکیسی نیشن کو 90 فیصد سے زیادہ کی شرح تک بڑھانے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اہداف کے حصول کےلئے حکومت کے اداروں اور عوام کی مشترکہ کاوششیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2030 کے ہدف کے حصول کےلئے عالمی ادارہ صحت نے سائنسی و عملی ماڈل کی سفارش کی ہے جس کے چار بنیادی ستون ہیں جن میں یونیورسل سکریننگ، بروقت پی سی آر تشخیص، فوری علاج اور علاج کے بعد فالو اپ شامل ہیں۔ اس مقصد کےلئے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر سکریننگ کیمپس، ریپڈ ڈائگناسٹک ٹیسٹس ، ضلعی سطح پر پی سی آر کی سہولت، جین ایکسپرٹ مشینز کا موثر استعمال، جیلوں ، تھیلی سیمیا، ہیموفیلیا مراکز، ہائی رسک اضلاع اور دیگر حساس آبادیوں میں ہیپاٹائٹس سے تحفظ کےلئے مائیکرو الیمینیشن کا پروگرام شروع کرنا از حد ضروری ہے۔ ڈاکٹر سکندر اقبال نے کہا کہ تمام سرکاری و نجی ہسپتال ، ڈینٹل کلینکس، لیبارٹریز، بیوٹی سیلونز اور حجاموں کےلئے انفیکشن کنٹرول کے معیارات پر سخت عملدرآمد ، آٹو کلیو کے استعمال، ڈسپوزایبل آلات اور موثر نگرانی بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مقامی سطح پر تیار کی جانے والی موثر اینٹی وائرل ادویہ، فعال لیبارٹری نیٹ ورک اور قومی پروگرام کی صورت میں مضبوط بنیاد موجود ہے ، اگر ان وسائل کو موثر قیادت ، مسلسل فنڈنگ ، مضبوط نگرانی اور عوامی شمولیت کے ساتھ بروئے کار لایا جائے تو پاکستان 2030 تک ہیپاٹائٹس کے خاتمہ کی عالمی جدوجہد میں نمایاں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ ماہرین صحت نے کہا کہ ہیپاٹائٹس کے خلاف جنگ صرف حکومتی یا طبی ماہرین کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے، بروقت سکریننگ ، محفوظ طرز زندگی ، مکمل ویکسی نیشن، انفیکشن کنٹرول اور عوامی آگاہی ہی ایک صحت مند ، محفوظ اور ہیپاٹائٹس سے پاک پاکستان کی بنیاد ہیں