اسلام آباد۔28نومبر (اے پی پی):کل جماعتی حریت کانفرنس (آزاد کشمیر و پاکستان شاخ)کے کنوینر غلام محمد صفی نے میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج کی جاری مسلسل چھاپہ مار کارروائیوں، شبانہ گھیراؤ سرچ آپریشنز، گھروں کی توڑ پھوڑ، خواتین کی بے حرمتی اور چادر و چار دیواری کی مسلسل پامالی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ بھارتی ریاستی جبر اب ایک ایسے مرحلے میں …
جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کی وحشیانہ چھاپہ مارکارروائیاں عالمی ضمیر کے لیے لمحہ فکریہ ہیں،حریت رہنما غلام محمد صفی

مزید خبریں
اسلام آباد۔28نومبر (اے پی پی):کل جماعتی حریت کانفرنس (آزاد کشمیر و پاکستان شاخ)کے کنوینر غلام محمد صفی نے میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج کی جاری مسلسل چھاپہ مار کارروائیوں، شبانہ گھیراؤ سرچ آپریشنز، گھروں کی توڑ پھوڑ، خواتین کی بے حرمتی اور چادر و چار دیواری کی مسلسل پامالی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ بھارتی ریاستی جبر اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں انسانی وقار، نجی زندگی، مذہبی شناخت اور شہری آزادیوں کا کوئی تصور باقی نہیں رہا۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ قابض بھارتی افواج مقبوضہ وادی کے طول و عرض میں من گھڑت الزامات لگا کر کشمیریوں کے گھروں کو مسمار اور جائیدادوں کو سر بمہر کر رہی ہیں، لوگوں کو اس قدر خوف و دہشت میں مبتلا کر دیا گیا ہے کہ عام شہری اپنے ہی گھروں میں غیر محفوظ ہیں، یہ اقدامات نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی بلکہ بین الاقوامی انسانی قوانین، جنیوا کنونشنز اور عالمی انسانی ضابطوں کی بھی صریحاً نفی کرتے ہیں۔
کنوینر غلام محمد صفی نے واضح کیا کہ نئی دہلی کی یہ پالیسی صرف جبر تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد مقبوضہ خطے کے مسلم تشخص، آبادیاتی تناسب اور قومی و تہذیبی شناخت کو منظم منصوبہ بندی کے تحت تبدیل کرنا ہے جو بین الاقوامی قوانین کے مطابق واضح آبادیاتی انجینئرنگ اور جنگی جرم ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال عالمی برادری، اقوام متحدہ، یورپی یونین، او آئی سی اور تمام بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے لیے ایک بڑے امتحان کی حیثیت رکھتی ہے، اگر دنیا اس منظم بربریت پر خاموش رہی تو اس کے اثرات پورے خطے کے امن اور عالمی انسانی ضمیر پر سنگین نتائج مرتب کریں گے۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینر نے عالمی اداروں اور طاقتور ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری چھاپوں، جبری گمشدگیوں، گھروں کی مسماری اور آبادیاتی تبدیلیوں کا فوری نوٹس لیں،بھارتی حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ مقبوضہ خطے میں اپنی غیر انسانی فوجی کارروائیاں بند کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کو مقبوضہ وادی تک غیر مشروط رسائی دی جائےاور کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حقِ خودارادیت دیا جائے۔ غلام محمد صفی نے کہا کہ کشمیری عوام سات دہائیوں سے اپنی آزادی، وقار، شناخت اور تابناک مستقبل کی جنگ لڑ رہے ہیں،
بھارتی فوجی جبر، ریاستی دہشت گردی، سیاسی انتقام اور اجتماعی سزا کے ہتھکنڈے انہیں جھکا نہیں سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عالمی برادری نے اب بھی خاموشی اختیار کی تو تاریخ اسے مظلوموں کی فریاد پر خاموش رہنے والے ایک تماشائی کے طور پر یاد رکھے گی۔








