کوئٹہ۔ 28 نومبر (اے پی پی):وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت فوزیہ وقار نے کہا ہے کہ صنفی تشدد کے خاتمے اور خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کے لیے موثر قانون سازی، آگاہی اور ادارہ جاتی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ ہراسمنٹ صرف خواتین کا مسئلہ نہیں بلکہ ہر صنف کو درپیش چیلنج ہے، جس کے خلاف مشترکہ جدوجہد ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں …
صنفی تشدد کے خاتمے اور خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کے لیے موثر قانون سازی وقت کی اہم ضرورت ہے،وفاقی محتسب

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 28 نومبر (اے پی پی):وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت فوزیہ وقار نے کہا ہے کہ صنفی تشدد کے خاتمے اور خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کے لیے موثر قانون سازی، آگاہی اور ادارہ جاتی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ ہراسمنٹ صرف خواتین کا مسئلہ نہیں بلکہ ہر صنف کو درپیش چیلنج ہے، جس کے خلاف مشترکہ جدوجہد ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت کے ریجنل آفس میں 16 روزہ جینڈر بیسڈ وائلنس کے خلاف ایکٹیویزم مہم کے سلسلے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےکیا۔انہوں نے کہا کہ صنفی تشدد کے خلاف عالمی مہم کے تحت مختلف سرگرمیاں منعقد کی جارہی ہیں۔ وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت کام کی جگہوں پر ہراسمنٹ اور صنفی تشدد کے خاتمے کے لیے سرگرم عمل ہے۔
قابلیت کا تعلق صنف سے نہیں بلکہ عقل اور کام سے ہے، پاکستان میں بے شمار باصلاحیت خواتین موجود ہیں، جبکہ حکومت پاکستان ہراسمنٹ کے مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔فوزیہ وقار نے کہاکہ وفاقی محتسب انسداد ہراسیت وفاقی سطح کے اداروں میں قوانین پر عملدرآمد یقینی بنا رہا ہے، جب کہ ادارے کا دوسرا مینڈیٹ اسلام آباد میں جائیداد اور وراثت سے متعلق شکایات کا حل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان ہائی کورٹ خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کے لیے فعال کردار ادا کررہا ہے، تاہم صوبے میں وراثت سے متعلق خصوصی قانون موجود نہیں، اور ماتحت عدالتوں میں اس حوالے سے کیسز کی تعداد زیادہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی محتسب نے حال ہی میں 31 سال بعد ایک خاتون کو وراثت کا حق دلوانے کا فیصلہ دیا، جو خواتین کے حقوق کے تحفظ کی ایک اہم مثال ہے۔ فوزیہ وقار نے کہا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے رابطہ کیا جائے گا تاکہ نصاب میں خواتین کے حقوق، وراثت اور انسانی حقوق سے متعلق موضوعات شامل کیے جائیں۔ انہوں نے بلوچستان حکومت سے بھی درخواست کی کہ صوبائی نصاب میں ان اہم موضوعات کو شامل کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔








