ڈھانچہ جاتی اصلاحات، ڈیجیٹل تبدیلی، بہتر طرز حکمرانی، مالی نظم و ضبط اور کلی معیشت کے استحکام کے لیے جاری کوششوں سے ملکی معیشت کی رفتارمثبت انداز میں جاری ہے، وزارت خزانہ

اسلام آباد۔28نومبر (اے پی پی):وفاقی وزارت خزانہ نے کہاہے کہ جاری ڈھانچہ جاتی اصلاحات، ڈیجیٹل تبدیلی، بہتر طرز حکمرانی، مالی نظم و ضبط اور کلی معیشت کے استحکام کے لیے جاری کوششوں سے ملکی معیشت کی رفتارمثبت انداز میں جاری ہے، نومبر میں مہنگائی کی شرح 5سے لیکرچھ فیصد تک کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ یہ بات وزارت خزانہ کی جانب سے جمعہ کوجاری ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ رپورٹ …

اسلام آباد۔28نومبر (اے پی پی):وفاقی وزارت خزانہ نے کہاہے کہ جاری ڈھانچہ جاتی اصلاحات، ڈیجیٹل تبدیلی، بہتر طرز حکمرانی، مالی نظم و ضبط اور کلی معیشت کے استحکام کے لیے جاری کوششوں سے ملکی معیشت کی رفتارمثبت انداز میں جاری ہے، نومبر میں مہنگائی کی شرح 5سے لیکرچھ فیصد تک کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ یہ بات وزارت خزانہ کی جانب سے جمعہ کوجاری ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان کی معاشی صورتحال مجموعی طور پر مثبت قرار دی جا رہی ہے، صنعتی سرگرمیوں میں بہتری جاری ہے اور معاشی اصلاحات کے نتیجہ میں استحکام استحکام آ رہا ہے۔ نومبر میں مہنگائی کی شرح 5.0 سے 6.0 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے جس کی بنیادی وجہ خوراک کی قیمتوں اور زرعی پیداوار پر دبائو ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ فصلوں کی صورتحال ملی جلی ہے تاہم مناسب زرعی مداخل کی دستیابی اور حکومتی تعاون کی وجہ سے توقع ہے کہ ربیع کے جاری موسم میں رسد بہتر اور مستحکم رہے گی۔رپورٹ کے مطابق پیداواری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے درآمدات میں اضافہ کے باوجود کرنٹ اکائونٹ خسارہ متوقع حدود میں ہے جس کی وجہ برآمدات میں مسلسل اضافہ اور ترسیلات زر کی مضبوط آمد ہے، مجموعی طور پر ملکی معیشت کی رفتار مثبت رہنے کی توقع ہے جسے جاری ڈھانچہ جاتی اصلاحات، ڈیجیٹل تبدیلی، بہتر طرز حکمرانی، مالی نظم و ضبط اور کلی معیشت کیاستحکام کے لیے جاری کوششیں سہارا دے رہی ہیں۔

اقتصادی اپ ڈیٹ کے مطابق مالی سال کے پہلے 4ماہ میں سمندرپارپاکستانیوں کی ترسیلات زرکاحجم 12.955ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 11.850ارب ڈالر کے مقابلہ میں 9.3فیصدزیادہ ہے،اس مدت میں ملکی برآمدات کاحجم 10.6ارب ڈالر رہا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 10.4ارب ڈالر کے مقابلہ میں 2فیصدزیادہ ہے،درآمدی بل 20.7ارب ڈالر رہا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 18.9ارب ڈالر کے مقابلہ میں 9.6ارب ڈالر زیادہ ہے،مالی سال کے پہلے چارماہ میں حسابات جاریہ کے کھاتوں کاخسارہ 733ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 206ملین ڈالر تھا،

اس مدت میں ملک میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کاحجم 747.7ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 1.010ارب ڈالر کے مقابلہ میں 26فیصدکم ہے،14 نومبر 2025ء کو زرمبادلہ کے ملکی ذخائرکاحجم 19.7ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جس میں سٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائرکاحجم 14.5ارب ڈالر اورکمرشل بینکوں کے زرمبادلہ کے ذخائرکاحجم 5.2ارب ڈالر تھا،گزشتہ سال 15جون کوزرمبادلہ کے ملکی ذخائرکاحجم 16ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا جس میں سٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائرکاحجم 11.3ارب ڈالر اورکمرشل بینکوں کے زرمبادلہ کے ذخائرکاحجم 4.7ارب ڈالر تھا،مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ایف بی آرکے محاصل کاحجم 3.834 ٹریلین روپے ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 3.442 ٹریلین روپے کے مقابلہ میں 11.4فیصدزیادہ ہے،نان ٹیکس محصولات کاحجم 3.008 ٹریلین روپے ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 3.021 ٹریلین روپے کے مقابلہ میں 0.4فیصدکم ہے،

مالی توازن کاحجم 2.119 ٹریلین روپے ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 1.896 ٹریلین روپے تھا،پرائمری بیلنس کاحجم 3.497 ٹریلین روپے ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 3.20 ٹریلین روپے تھا،مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں زرعی شعبہ کوفراہم کردہ قرضہ جات کاحجم 845.3ارب روپے ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 712.8ارب روپے کے مقابلہ میں 18.6فیصدزیادہ ہے،پہلی سہ ماہی میں زروسیع(ایم ٹو) میں سالانہ بنیادوں پر2.15فیصدکی کمی ہوئی،27اکتوبرکوپالیسی ریٹ 11فیصدکی سطح پرریکارڈکیاگی جوگزشتہ سال 4نومبرکو15فیصدتھا،مالی سال کے پہلے چارماہ میں مہنگائی کی اوسط شرح 4.7فیصدریکارڈکی گئی جوگزشتہ سال کی اسی مدت میں 8.7فیصدتھی،

پہلی سہ ماہی میں بڑی صنعتوں کی پیداوارمیں 4.08فیصداضافہ ریکارڈ کیا گیا،27نومبر2025کوپاکستان سٹاک ایکسچینج کا100انڈیکس 165373 پوائنٹس تھا، گزشتہ سال 27نومبرکو کے ایس ای 100انڈیکس 99269 پوائنٹس ریکارڈ کیا گیا تھا،اس سال کی مدت میں پاکستان سٹاک ایکسچینج کے انڈیکس میں 66.6فیصدکانمایاں اضافہ ہوا،27نومبرکومارکیٹ کیپٹلائزیشن کاحجم 66.79ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ سال 27نومبرکو 45.24ارب ڈالر تھا،نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں سالانہ بنیادوں پر35.6فیصدکی نموہوئی ہے۔

 

مزید خبریں