پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان ثقافتی تبادلے، تعلیمی تعاون اور عوامی روابط دونوں برادر ممالک کے عوام کو قریب لانے کا ذریعہ ہیں، سفیر انڈونیشیا

اسلام آباد۔28نومبر (اے پی پی):انڈونیشیا کے سفیر چندرا ڈبلیو سوکوٹجو نے کہا ہے کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان تعلقات صرف سفارتی سطح تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک مضبوط اور دیرپا شراکت داری کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جو ثقافتی تبادلے، تعلیمی تعاون اور عوامی روابط کے ذریعے دونوں برادر ممالک کے عوام کو قریب لانے کا ذریعہ ہے، اس دوستی کی بنیاد اعتماد، باہمی احترام اور مشترکہ …

اسلام آباد۔28نومبر (اے پی پی):انڈونیشیا کے سفیر چندرا ڈبلیو سوکوٹجو نے کہا ہے کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان تعلقات صرف سفارتی سطح تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک مضبوط اور دیرپا شراکت داری کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جو ثقافتی تبادلے، تعلیمی تعاون اور عوامی روابط کے ذریعے دونوں برادر ممالک کے عوام کو قریب لانے کا ذریعہ ہے، اس دوستی کی بنیاد اعتماد، باہمی احترام اور مشترکہ ترقی کے عزم پر استوار ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے علم، ثقافت اور تعاون کے نئے دروازے کھولتی ہے۔انڈونیشیا کے سفیر چندرا ڈبلیو سوکوٹجو نے نیشنل لائبریری آف پاکستان میں قائم کیے گئے ’’انڈونیشین کارنر‘‘ کا باضابطہ افتتاح کے موقع پر اظہار خیال کررہے تھے۔

تقریب میں وفاقی وزیر برائے قومی ثقافتی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی، نیشنل لائبریری آف انڈونیشیا کے پرائم سیکرٹری ڈاکٹر جوکو سانتوسو اور نیشنل لائبریری آف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل محمد علی شہزاد مظفر سمیت دیگر معززین نے شرکت کی۔تقریب میں آسیان کے تمام سفیروں اور ہائی کمشنرز، اعلیٰ سرکاری حکام، سفارتی عملے کے ارکان، پاکستانی و انڈونیشین کمیونٹی اور طلبہ کی بڑی تعداد موجود تھی، جو دونوں برادر ممالک کے درمیان مضبوط عوامی روابط کی عکاسی کرتی ہے۔انڈونیشیا کےسفیر چندرا ڈبلیو سوکوٹجو نے کہا کہ ’’انڈونیشین کارنر‘‘ دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور دیرینہ دوستی کی ایک علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی پس منظر رکھنے کے باعث وہ اس بات کی اہمیت بخوبی سمجھتے ہیں کہ کسی پر اعتماد کرنا کس قدر معنی رکھتا ہے۔ اس موقع پر نیشنل لائبریری آف پاکستان میں انڈونیشیا کے لیے مخصوص گوشہ مختص کیا جانا پاکستان کے اعتماد اور مضبوط دوستی کا واضح ثبوت ہے جس پر وہ شکر گزار ہیں۔

وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے کہا کہ ’’انڈونیشین کارنر‘‘ دونوں اقوام کے درمیان علم و ثقافت کا پل ثابت ہوگا اور اس کے ذریعے انڈونیشیا کے ادب، ورثے اور فکری روایات تک آسان رسائی ممکن ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات تعلیمی تحقیق اور ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دیں گے اور عوامی سطح پر تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ڈاکٹر جوکو سانتوسو نے کہا کہ ’’انڈونیشین کارنر‘‘ دونوں ممالک کے درمیان گہرے اعتماد اور باہمی احترام کی علامت ہے جو مستقبل میں ایک متحرک تعلیمی مرکز بنے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ نیشنل لائبریری آف انڈونیشیا آئندہ اس گوشے کے لیے ایک ہزار کتابیں عطیہ کرے گی۔

نیشنل لائبریری آف انڈونیشیا جنوب مشرقی ایشیا کے بڑے اور نایاب ذخیرے رکھنے والے اداروں میں شمار ہوتی ہے اور 2024ء میں اسے یونیسکو/جکجی میموری آف دی ورلڈ پرائز سے بھی نوازا گیا جو کسی بھی انڈونیشین ادارے کے لیے پہلی بار اعزاز ہے۔تقریب کے اختتام سے قبل سفیر چندرا ڈبلیو سوکوٹجو نے مہمانوں کو ’’انڈونیشیا اور پاکستان کے 75 سالہ سفارتی تعلقات‘‘ پر مشتمل کتاب بطور تحفہ پیش کی۔ بعد ازاں فیتہ کاٹنے کی رسم اور نئے قائم شدہ انڈونیشین کارنر کا دورہ کیا گیا جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات، ثقافتی سفارتکاری اور دیرپا دوستی کے ایک نئے باب کی علامت ہے۔افتتاح کے بعد دو روز تک انڈونیشین سفارتخانے نے انڈونیشین نیوز ایجنسی انتارا کے تعاون سے پاکستان اور انڈونیشیا کے قریبی تعلقات پر مبنی تصویری نمائش کا بھی اہتمام کیا۔

 

مزید خبریں